قدیم بلوچستان میں عربی کی ترویج - محمود خارانی

بلوچستان کو بجا طور پر یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کا استقبال کیا، برصغیر میں اصلا بلوچستان کو "باب الاسلام " ہونے کا شرف حاصل ہے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں عارضی طور پر 23ھ کو حکم بن ابی العاص کے ذریعے مکران فتح ہوا۔ علامہ ذھبی نے لکھا ہے: وفییھا فتحت مکران، وامیرھا الحکم اخو عثمان، وھی بلاد جبل" (تاریخ الاسلام للذھبی 2/48).

اس کے بعد مسلسل فتوحات کا سلسلہ وقتا فوقتا جاری رہا، مسلم فاتحین تہذیب وتمدن کے اس فلسفے سے بخوبی واقف تھے کہ کسی بھی تہذیب وثقافت کا رخ بدلنے میں زبان کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، اس لئے انہوں نے جس طرح اسلام کی اشاعت و تبلیغ کو تمام انسانوں میں عام کرنے کی کوشش کی، اسی طرح عربی زبان کو بھی عام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

چنانچہ بلوچستانی فتوحات کے دوران اسی پالیسی کے نتیجے میں بلوچی زبان پر بھی عربی زبان کےگہرے نقوش مرتب ہوئے، آج بلوچی اور عربی کے بہت سے الفاظ معمولی فرق کے ساتھ ایک جیسے ہیں ۔مثلاً :
لیب ۔۔۔۔۔۔۔۔ لعب (کھیلنا)
شوم ۔۔۔۔۔۔۔ شوم (منحوس)
تندور ۔۔۔۔۔۔ تنور (تندور)
ملامت ۔۔۔۔۔ لوم (ملامت کرنا)
آت یا آتک ۔۔۔۔۔۔۔ اتی یاتی(آنا)
کتب ۔۔۔۔۔۔۔ قتب (اونٹ کے کجاوہ کے نیچے بھوسہ سے بھرا ہوا تھیلا)۔۔ وغیرہ۔

رہا یہ سوال کہ عربوں نے ہماری تہذیب و ثقافت اور زبان وادب میں یہ رخنہ اندازی کیوں کی؟
تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ مسلم فاتحین سیر و تفریح، شکار اور چراگاہوں کی تلاش میں تو نہیں آئے تھے، وہ دین اسلام کی شکل میں باقاعدہ ایک مشن اور اسلامی تہذیب لے کر آئے تھے، جس کو فروغ دینے کیلئے زبان کا ہتھیار استعمال کرنا فلسفہ تاریخ کی رو سے ایک ناگزیر امر تھا، مگر پھر بھی مسلم مجاھدین اور حکمرانوں نے اس سلسلے ميں جبر اور زبردستی سے بالکل کام نہیں لیا، جیسا کہ دشمنان اسلام مورخین نے پروپگنڈہ کیا ہے، انہوں نے کسی ایسی ضرورت کو بھی عربی پر موقوف نہیں رکھا جس کے بغیر گزارہ مشکل ہو، بلکہ نماز جیسی عبادات کے علاوہ صرف خطبہ عربی میں دیا جاتا تھا تاکہ مخاطب کو خود اس طرف رغبت اور شوق ہو کہ امام اور حکمران کی تقریر کا مفہوم سمجھنے کیلئے عربی زبان سے آشنا ہو، اور ایسا ہی ہوا۔

اس تحریر سے یہ نتیجہ نکالنا قطعا غلط ہوگا کہ شاید بلوچ اصل میں عربی النسل ہیں یا بلوچی زبان عربی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ بلوچ الگ قوم ہیں اور بلوچی مستقل زبان ہے، یہ ایک الگ تاریخی بحث ہے۔