خبروں کی جگالی - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

شنید ہے کہ میاں برادران سعودی عرب کے دورہ کے بعد منگل کو وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ ہمارے نیوز چینلز اور اخبارات کے مطابق اس دورہ کے دوران انہوں نے مندرجہ ذیل ایجنڈے پر کام کیا :

1۔ این آر آو کے لیے درخواست کی جو رد کر دی گئی۔

2۔ این آر او کامیابی سے طے پا گیا۔

3۔ شریف برادران کو کہا گیا سعودی عرب سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کا حساب دیں۔ شریف برادران کو وہ سب ثبوت مہیا کر دیے گئے جو منی ٹریل میں دکھائے جا سکیں۔

4۔ گرفتار شہزادوں نے دراصل شریف برادران کا پیسہ ادھر ادھر انویسٹ کیا۔

5۔ شریف برادران نے رازداری کی شرط پر 100 ارب ریال واپس کرنے کا وعدہ کر لیا۔

6۔ سعودی ولی عہد سے ملنے کی کوششیں ناکام … گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔

7۔ سعودی ولی عہد سے شریف برادران کی پرتپاک ملاقات۔ نواز شریف کو مدینہ جانے کے لیے ولی عہد نے اپنا طیارہ دیا۔

8۔ شریف برادران کو سعودی وارننگ ملک میں اداروں سے محاذ آرائی نہ کریں۔

9۔ شریف برادران سے پالیسی تسلسل پر بات ہوئی کیونکہ 2018ء کے انتخابات میں بھی ن لیگ کی کامیابی یقینی ہے۔

10۔ سعودی عرب سے دو ارب ڈالر کے ادھار تیل پر مذاکرات کامیاب۔

11۔ فوج کا پیغام لے کر گئے تاکہ امریکہ کو کسی کارروائی سے روکا جاسکے۔

12۔ شریف برادران نے عمرہ ادا کیا اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی۔

بیک وقت اتنے سب کام اور وہ بھی اس قدر متنوّع اور متضاد؟ یہ سب ہمارے مین اسٹریم میڈیا کی رپورٹنگ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سوائے نمبر 12 کے کسی کے پاس کسی بات کا نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ خبر۔ سب خواہشات ہیں جنہیں خبر کہہ کر عوام پر چڑھائی کی جاتی رہی۔

یہ ہے وہ کنفیوژن جس کا ہمیں اس وقت سامنا ہے۔ خبر بھی خبر نہیں، سب ایجنڈا ہے اور ہم عوام بھیڑ بکریوں کی طرح ان "خبروں" کی جگالی کرتے ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا میں!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.