تھوک بھی امریکہ کا - رعایت اللہ فاروقی

دیکھیے! بات ہے بہت سادہ سی۔ نائن الیون ہوا تو امریکہ نے پاکستان کا بازو مروڑ کر مدد مانگی۔ فرعونیت اس عروج پر تھی کہ کہا "بتاؤ ہمارا ساتھ دینا ہے یا غاروں کے دور میں پہنچنا ہے ؟" ہم نے کہا "نہیں سر ! ہمارے انکار کی کیا اوقات ؟ ہم آپ کا ساتھ ہی دیں گے۔"

اگر اس سے وہ یہ سمجھا کہ بازو مروڑنے سے "وفاداری" بھی میسر آ گئی تو امریکہ کو "چ" ہم نے نہیں بنایا وہ جنم جنم کا "چ" تھا۔ اس نے اس خیال سے سات مطالبات ہمارے سامنے رکھے کہ پاکستان 3 تو مان ہی جائے گا، ہم نے سات کے سات مان لیے اور وہ چونکنے کے بجائے خوش ہوا تو اس میں بھی ہمارا کوئی قصور نہ تھا، خود امریکہ ہی اپنے "چ" ہونے کے ثبوت در ثبوت دینے پر تلا بیٹھا تھا۔ پھر اس نے کسی نخریلی دوشیزہ کی طرح اٹکتے، مٹکتے، لٹکتے کہا "اف اللہ ہمیں آئی ایس آئی کی مدد نہیں چاہیے، اس منحوس کو ہم سے دور رکھیے" عاشق مزاج مشرف نے کہا "جانو ! ایم آئی کیسی رہے گی ؟ بالکل زیرو میٹر ہے، پہلے کسی سپر طاقت کے زیر استعمال نہیں رہی۔"

جواب میں جانو نے ہاں کردی تو اس میں بھی ہمارا کوئی قصور نہ تھا۔ اگر اس دن امریکہ نے یہ سوچ لیا کہ آئی ایس آئی کے اہلکار فرصت کے لمحات میسر آنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لڈو، تاش یا لنگڑی پالا کھیلنے میں مگن ہوجائیں گے تو اتنا بڑا "چ" بننا امریکہ کا ایسا کارنامہ ہے، جس پر وہ "ایں سعادت بزورِ بازو نیست" کا دعویٰ کرنے میں بھی حق بجانب ہوگا۔ مشرف نے ایم آئی کو سیدھا سیدھا حکم دیا تھا کہ سی آئی اے کی پوری دیانتداری سے مدد کرو، اسے شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ کسی ٹھنڈی شام ڈی جی آئی ایس آئی نے آ کر پوچھا "سر ! ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟" مشرف نے کہا "امریکہ ہی آپ کی مدد نہیں چاہتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یوں کیجیے آپ حسبِ سابق پاکستان کی مدد ہی جاری رکھیے، پاکستان اور اس کا مفاد بچانا آپ کی ذمہ داری لیکن اگر پکڑے گئے تو صرف یہ نہیں کہ ریاست آپ کا ساتھ نہ دے گی بلکہ امریکہ کو مطمئن کرنے کے لیے آپ کو بلا تکلف ٹانگ بھی دیا جائے گا۔"

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے ادوار، آغاز تا اختتام کیا ہوا - قادر خان یوسف زئی

یوں شروع ہوا ایک تاریخی میچ! فرعون کو 5 سال تک پتہ بھی نہ چلا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ القاعدہ کے لیے ہماری طرف سے بھی کوئی رُو رعایت نہ تھی اور افغان طالبان کو ہم نے بچا کر رکھا۔ کیا ہمیں پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ طالبان کو ختم کرکے افغانستان کو امریکہ اور بھارت کا ایسا اڈہ بننے دیتے جہاں سے یہ دونوں مل کر ہمارا جینا حرام کیے رکھتے ؟ ٹرمپ کہتا ہے، پاکستان نے دھوکا دیا، اس کا یہ بیان آئی ایس آئی کے لیے امریکہ کے پریزیڈنشل میڈل سے کم نہیں۔ ٹرمپ نے تصدیق کردی کہ امریکہ کو پچھلے پندرہ سال کے دوران پاکستان سے "سچا پیار" نہیں ملا۔ ہم پاکستانیوں کے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے لیکن اپنی کھوپڑی کی بالادستی تو ہم کے جی بی کے بعد سی آئی اے پر بھی ثابت کرچکے۔

ٹرمپ اُلٹا بھی لٹک جائے اٖفغانستان امریکہ یا بھارت کو نہیں ملنے لگا، یہ ہم طے کرچکے کہ بھاری قیمت ادا کریں گے لیکن دشمن کو افغانستان میں مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ جو آج لاحق ہیں انہیں کون خطرات کہتا ہے؟ خطرات وہ ہوں گے جو افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے قدم مستحکم ہونے کے بعد ہمیں لاحق ہوں گے۔ سو اس معاملے میں ہم یکسو ہیں کہ اگر ٹرمپ کوئی قدم اٹھاتا بھی ہے وہ اتنا خطرناک نہیں ہوگا جتنے خطرناک وہ قدم ہوں گے جو اس کی خواہش پوری کرنے کے باوجود ہمارے خلاف مستقبل میں اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیجیے کہ پاکستان آج بھی افغانستان میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور ٹرمپ آپ کو بتا چکا کہ اس جنگ میں "کامیابی" کس کے ہاتھ لگی ہے۔ ٹرمپ کچھ اور نہیں بس یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے یو ایس ایس آر کے بعد یو ایس اے کی بھی بجادی اور غضب یہ کیا کہ تھوک بھی امریکہ کا ہی استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر جو لبرل امریکہ کی نمک حلالی کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ 33 بلین ڈالر کہاں گئے ؟ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ امریکہ کی بجانے پر ہی خرچ ہوگئے لبرل بابو!

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.