انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات (4) - وقاص احمد

’’انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات ‘‘ کے عنوان سے ’’دلیل ‘‘ پر جاری سلسلہ ہائے مضامین کے اس چوتھے مضمون میں احتجاجی تحاریک، دھرنوں و احتجاج کے حوالے سے پیدا ہونے والی تکالیف اور اس پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ہونے والے تجزیات پر نظر ڈالیں گے۔ دیکھا جائے گا کہ احتجاج اور دھرنو ں سے عملی طور پر غیر وابستہ یا فکری طور پر غیر جانبدار لوگوں کو جو معمولی سے لیکر غیر معمولی تکالیف ہوتی ہیں اس کے حوالے سے کیا تجربات دیکھنے میں آتے ہیں اور اس حوالے سے کیا راہنمائیاں موجود ہیں۔ عام لوگوں کے لیے بھی ، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے لیے بھی اور دھرنے و احتجاجی تحریک کے قائدین کے لیے بھی۔ لیکن اس سے پہلے ضروری سمجھ رہا ہوں کہ گزشتہ تین مضامین میں زیر بحث آنے والے اہم نکات کا احاطہ کرلیا جائے۔

۱۔ انقلاب کا لغوی مطلب اچانک، کم وقت میں بڑی تبدیلی ہے۔

۲۔ اجتماعی سطح کا انقلاب، جس میں معا شی یا معاشرتی انقلابات شامل ہو سکتے ہیں، بغیر سیاست اور اس میں موجود طاقتوں سے ٹکر لیے نہیں آ سکتے۔ اس لیے اجتماعی سطح پر کوئی بھی انقلاب در حقیقت سیاسی انقلاب ہی ہوتا ہے جس کی چھتری کے نیچے دوسری بڑی تبدیلیاں آتی یا آسکتی ہیں۔

۳۔ لغات میں چونکہ کسی بڑی تبدیلی کا اچانک، توقع سے کم وقت میں ہوجانا انقلاب کے زمرے میں آتا ہے اس لیے عوامی طاقت و دباؤ ، احتجاجی اور مطامباتی تحاریک کے ذریعے حکومت سے مطالبات منوا لینا اور اسپر عمل درآمد کرنے پر مجبور کردینا بھی، اپنی کیفیات کی وجہ سے انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے بہت سے قابلِ احترام علماء اور دینی اسکالرز اپنی تقاریر اور تحاریر میں جب پاکستان کے لیے انقلاب کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ انہی پیرائے اور مفاہیم میں ہوتا ہے۔

۴۔ لیکن چونکہ سیاسی انقلاب کے عمومی اور لغوی مفاہیم میں یہ بات پنہاں ہوتی ہے کہ اس میں موجود ہ سیاسی قیاد ت کواقتدار سے بے دخل اور طاقت کے ایوانوں سے بزور و زبر ستی نکال دیا جاتا ہے اور چونکہ اس عمل میں اکثر بڑے پیمانے خون خرابہ بھی ہوتا ہے اس لیے شریعت اسلامی نے مسلمان ریاستوں اور معاشروں میں خروج کے حوالے سے نہا یت کڑی شرائط لگائی ہے اور تقریباً پابندی ہی عائد کر دی ہے۔ واضح رہے خروج کا بنیادی مطلب حکمرانوں کو حکومت سے بے دخل کرنے کی جدوجہد ہے۔ اس میں مسلح اور غیر مسلح دونوں ہی اقسام شامل ہیں۔ لوگوں کو اس بات پر ابھارنا کہ وہ مسلمان حکمران غیر قانونی طور پر معزول کردیں بھی خروج کے زمرے میں آتا ہے۔ مقدمین اور متاخرین علماء کی بحث کا موقع ان شاء اللہ مضمون کی اگلی قسط میں ملے گا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خاص حا لات کی وجہ سے جہاں، آئین ہے، جمہوریت کے کچھ مشہور لوازمات جیسے الیکشن کا نظام اور پارلیمنٹ موجود ہیں، عدلیہ ہے، آئین میں حکمران اور حکومت کو معزول کرنے کی شرائط اور طریقہ کار متعین ہے وہاں پاکستان کو انقلاب کی نہیں بلکہ ریفارمز پر مبنی احتجاجی اور مطالباتی تحاریک کی ضرورت پڑ سکتی ہے وہ بھی جب حکومت اور حکومتی ادارے آئین و قانون کے مطابق حکمرانی، عوام کی خدمت اور مسائل حل نہیں کرتے تب۔

۵۔ ریفارمز یا اصلاحات کی تجاویز، حکومت بھی دے سکتی ہے، کوئی اور حلیف اور مخالف پارٹی بھی اور کوئی غیر انتخابی، سیاسی، اصلاحی جماعت و تنظیم بھی۔ لیکن اس پر عمل درآمد تب ہی ہوسکتا ہے جب اسے حکومت اور اس کی حلیف جماعتیں پارلیمنٹ سے پاس کرا کر سب سے پہلے تو قانون بنائیں اور پھر اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کوئی ادارہ بھی قائم کریں۔ جیسے، ایف آئی اے، پولیس، بلڈنگ کنڑول اتھارٹی، ایف بی آر، ایس ای سی پی۔ صرف قانون بنادینے سے قانون پر عمل قطعاً یقینی نہیں ہوتا۔

۶۔ ایک طرف حکومت کی غفلت، ڈھٹائی، ناقابل سمجھ اور ناقابل قبول بہانے بازی اور التوا کو دیکھتے ہوئے اور دوسری طرف مطالبات، مسائل اور مجوزہ ریفارمز کی حقانیت، ضرورت، اہمیت، اس کی تاریخ، اس سے وابستہ کوششیں اور جدو جہد، اس حوالے سے عوام کے تمام طبقات میں پھیلے ہوئے شعور، آگہی اور وابستگی کو دیکھتے ہوئے کسی احتجاجی اور مطالباتی تحریک کا برآمد ہوجانا ایک منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے نہیں بلکہ اپنے مطالبات کے لیے نکلتے ہیں۔

۷۔ تحریک کے سڑکوں پر آنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے قائدین مطالبات کے حوالے سے عوام میں براہ راست، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور جدید وسائل کے ذریعے برسوں سے دعوت و تبلیغ کر رہے ہوں۔ اور اس سلسلے میں رائج نظام اور متعلقہ اداروں کو بھی اچھی طرح آزما لیا گیا ہو۔

۸۔ احتجاجی تحریک یا تو حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنے ریفامز کو قانونی شکل دلوا کر نافذالعمل کروا سکتی ہے، کسی ایگزیکٹو آرڈر کو جاری یا واپس لینے پر مجبور کرکے اپنی تحریک میں کامیاب ہو سکتی ہے یا پھر حکومتی کریک ڈاؤن اور مزاحمت سے، مفاہمتی داؤ پیچ سے یا دوسری کئی وجوہات کی بنا پر ناکام بھی ہو سکتی ہے۔

دھرنا، احتجاج اور عوام کی تکلیف

اس بات کی حساسیت سے راقم پوری طرح آگاہ ہے کہ کسی مسلمان کو معمولی سی بھی قلبی اور جسمانی تکلیف دینا، دین ِاسلام میں کتنا بڑا جرم و گناہ ہے۔ متعدد احادیث اس حوالے سے شریعت میں موجو د ہیں۔ دوسری طرف خوش خلقی اور ایثار کے جذبات کو قرآن و سنت نے کس اہمیت کے ساتھ ابھارا ہے دین اسلام کا ایک عام قاری و عامل بھی جانتا ہے۔

لیکن دوسری طرف دین ِ اسلام ہمیں نہی عن المنکر کی ایک پوری فکر دیتا ہے اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو جہاد قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاتون کو برہنہ کرکے تھانے میں بہیمانہ تشدد - رانااعجازحسین چوہان

مکی سورت سورۃ الفرقان میں ارشاد ہے کہ ’’اے نبی ﷺ اس قرآن کے ذریعے ایک بڑا جہاد کیجیے‘‘۔ حالانکہ جہاد بمنزلہ قتال مکے میں فرض نہیں ہوا تھا اس لیے یہاں جہاد کوشش و جدوجہد کے مطلب میں آرہا ہے۔ یعنی قرآ ن حکیم جو کہ منبع رشد و ہدایت ہے، اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے توسط سے تمام مسلمانوں کو ہدایت دے رہا ہے کہ قرآن کے ذریعے اپنی کو ششیں، جہدِ مسلسل جاری رکھیں۔ اسی کے ذریعے دعوت دیں، اسی کے ذریعے تبلیغ، اسی کے ذریعے امر المعروف و نہی عن لمنکر کریں۔ اسی کے ذریعے انذار و تبشیر کریں۔ ظاہر ہے قرآن جب مرکزِ دعوت و تبلیغ ہوگا تو اس میں لوگوں کے لیے ڈراوا بھی ہوگا اور خوشخبریاں بھی۔ نیکی کا حکم بھی ہوگا اور برائی سے روک تھام بھی۔ احقاقِ حق بھی ہوگا اور ابطالِ باطل بھی۔

سو اس جہاد میں جب نہی عن المنکر کی مختلف منزلیں آئیں گی تو کچھ طبقات کے دل تو ٹوٹیں گے۔ ارمان کرچی کرچی تو ہوں گے۔ کھلے اور خاموش ظلم و حق تلفی کے منصو بے پاش پاش تو ہوں گے۔ سب لوگ تو خوش و خرم نہیں رہ سکتے۔ بعض لوگوں کے قلب بے چین و بے کل ہوں گے۔ ان میں سے بعض مزاحمت کریں گے۔ لکھ کر، بول کر اور اس سے بھی آگے بڑھ کر۔ سو اسلام کا یہ حکم کہ کسی کا دل نہ توڑو کامل طور پر عام نہیں ہے۔

حدیث رسول اللہ ﷺ کی رُو سے ظالم کا ہاتھ ظلم سے روکنا ظالم کی مدد ہے۔ حالانکہ اُسے یعنی ظالم کو اس عمل سے تکلیف ہوتی ہے اور وہ روکنے والے کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اسے تکلیف دینے، اس کو گرفتار کرنے، تشدد کرنے کے درپے ہوسکتا ہے۔ تو کیا نہی عن المنکر خطرات کے بڑھنے پر ترک کردیا جائے؟۔ اس معاملے پر شریعت میں رخصت سے لیکر عزیمت تک کئی راستے اور مناہج ہوسکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں دیکھئے۔

''أفضل الجھاد کلمة عدل عند سلطان جائر''(سنن أبی داؤد' کتاب الملاحم ' باب الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر)

''افضل جہاد ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق کہنا ہے۔''

''سید الشھداء حمزة بن عبد المطلب ورجل قام الی امام جائر فأمرہ ونھاہ فقتلہ'' (مستدرک حاکم : جلد ۳، ص ۲۱۵' دار الکتب العلمیة')

'' شہداء کے سردار حمزہ بن عبد المطلب ہیں اور وہ شخص جس نے ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق کہا اور أمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اداکیا اور اس کی وجہ سے حکمران نے اس کو قتل کر دیا۔''

محدِّثین کرام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا اونچے درجے کا جہاد ہے کیونکہ کلمہ حق کہنے کی پاداش میں سر قلم ہو جانے، تشدد اور گرفتاری کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس تشریح کے مطابق تو یہ حدیث بھی قتال ہی کا مصداق بن گئی کیو نکہ قتال میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں قتل کرنا اور قتل ہونا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی داعی، مبلغ اپنے ہم خیالوں کو ساتھ ملا کر، با لکل غیر مسلح ہوکر، مطالبات لیکر مسلمان حکومت و سلطنت میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں تدریجاً ا ُس حد تک جا سکتا ہے جہاں حکمران یا حکومت ناراض ہوکر اور طیش میں آکر اس پر ظلم کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ گو کہ ایسے ظالم، ہٹ دھرم اور شریعت و قانون توڑنے والے حکمرانوں کو براہ راست برائی سے روکنا اور سخت لہجہ اختیار کرنا کوئی واجب و فرض نہیں ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک عزیمت کی منزل ہے۔ تاریخ اسلام میں متعدد ایسے اشخاص کے حالات و واقعات تفصیل سے مل جاتے ہیں۔ لیکن دوبارہ اس بات کی تکرار ضروری ہے کہ داعی و مبلغ اور تحریکی اقتدار کا قطعاً خواہشمند ہو نہ اپنے مدعو کو اقتدار سے ہٹانے کا مشتاق و طلبگار۔ اس حوالے سے اس کا خلوص واضح ہو۔ زہد و تقویٰ بھی اگر شکوک سے پاک اور بلند ہو تو کیا ہی کہنے۔

اب یہاں اگر غور کیا جائے تو داعی اُن لوگوں کی ناراضی اور خفگی مول لے رہا ہے جو اس کے اصل مخاطَب ہیں، جیسے حکمران اور حکمران طبقات۔ لیکن ایسا بھی ہوتا یا ہوسکتا ہے کہ اس عمل میں اُن لوگوں کو بھی کسی قسم کی تکلیف یا بے آرامی ہورہی ہو جو نہ تحریک کا عملی حصہ ہوں اور نہ تحریک کے عملی مخالفین سے ان کا تعلق ہو۔ عقل و شعور و جذبات اور خود مطالبے کی اہمیت و حساسیت کے حوالے سے عوام کی آراء اور مخالفت کی کئی اقسام ہوسکتی ہیں۔ اور ہاں! ایسے لوگ ہر طبقے اور شعبوں میں ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر صحافت، میڈیا، فوج، بیورو کریسی، عدلیہ میں۔ جیسے

1. بہت سے ایسے ہوں گے جو سوچتے ہوں گے کہ حکو مت کی ڈھٹائی اور معاملے پر مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ دھرنے اور احتجاج ہورہے ہیں۔ گوکہ ہمیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس طرح کی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔ ایسے لوگ اس بات کا بھی احساس رکھتے ہیں کہ جو لوگ عملاً سڑکو ں پر نکل کر تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں ان سے تعاون اور ان کی مدد و حوصلہ افزائی اور ان کی حمایت ضروری ہے۔

2. اوپر بتائے گئے لوگوں میں سے ہی ایسے افراد بھی ہوں گے جو دوسرے ذرائع جیسے اخبار و میڈیا سے حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے کہ جلد معاملے کو مذاکرات سے حل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کس نے آپ کی زندگی بدل ڈالی؟ محمد عامر خاکوانی

3. بہت سے ایسے ہوں گے جو یہ بولیں اور سوچیں کہ مطالبہ اور مطالبات تو ٹھیک ہیں لیکن طریقہ کار غلط ہے، مقام و وقت غلط ہے۔ اس سے حکومت کا کوئی بال بھی بیکا نہیں ہو رہا صرف عوام ہو ہی تکلیف ہے۔ اس میں بعض کی یہ رائے بھی ہوسکتی ہے کہ صرف وعظ و نصیحت کافی ہوتی ہے۔ حکمران اگر نہیں مانتے تو سڑکوں پر نکلنا عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔

4. کچھ کہیں گے کہ یہ فضول و غیر قانونی عمل ہے، وقت کا زیاں ہے۔ ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ چند لوگوں کے سامنے ریاست یرغمال ہے۔ کچھ لوگ اسے فتنہ اور فساد سے بھی تعبیر کریں گے۔

اب کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں

1. پہلے ہم اُن مطالبات پر مبنی دھرنوں اور احتجاج کی بات کر لیتے ہیں جو کسی براہ راست، کھلے ظلم کا نتیجہ ہوتے ہیں جیسے جب ہزارہ کمیونٹی کے افراد کا بلوچستان میں قتل ہوتا تھا تو کراچی میں جگہ جگہ دھرنے اور سڑکیں بلاک ہوتی تھیں۔ لاشیں لے جاکر گورنر ہاؤس پر دھرنا دیا جاتا تھا۔ اسی طرح وکلاء کسی بم دھماکے اور سانحہ پر عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو لوگوں کو بے انتہا تکلیف ہوتی تھی۔ لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد اس کو اس لیے برداشت کرتی ہے کیونکہ وہ مطالبہ کرنے والوں کے دکھ میں شریک ہوتی ہے۔ اس معاملے میں وکلاء اور احتجاج کرنے والے اپنا بھی نقصان کر رہے ہوتے ہیں جو احتجاج کو مزید حق بجانب کرتا ہے۔ ایسے میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ احتجاج کریں اور حکومت ان کے مسئلے کا حل کرے۔ اس حوالے سے میڈیا بھی عوام کی تکالیف کو زیادہ کور نہیں کرتا۔ چونکہ معاملہ ایک د و دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا اس لیے ادارے بھی صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض چیزیں حکومت کے مکمل کنٹرول میں بھی نہیں ہوتیں۔ جیسے دہشت گردی کے معاملے میں حکومت اگر پوری کوشش بھی کرلے توا سکا نہ ہونا خارج از امکان نہیں ہوتا۔ اس لیے دھرنے، احتجاج والوں کو بھی ’’کومپرومائز‘‘ کرنا پڑتا ہے۔

2. طویل نوعیت کے دھرنوں اور احتجاج میں مسئلہ اور مطالبہ نسبتاً زیادہ حسّاس، بڑا اور سیاسی اور تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے وکلاء کی عدلیہ بحالی تحریک، ختمِ نبوت تحریک، سنہ ۲۰۱۰ء کی ناموس ِ رسالت تحریک، اور مشہور و تازہ تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ کی جانب سے فیض آباد دھرنا۔ اس حوالے سے رائے رکھنے والے لوگوں کی کیٹیگریز اوپر بیان کی گئی چار کیٹیگریز میں سے کسی ایک کے قریب ہوتی ہے۔ تعداد سے قطع نظر اگر دھرنے اور احتجاج والے حوصلہ مند، نڈر اور صاحبِ استقامت ہوں تو ان کے کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ مطالبہ کی حقانیت اور اہمیت ہی ان کا راستہ( اللہ کے فضل سے) آسان کرتی ہے۔

3. جو لوگ چوتھی کیٹیگری میں ہوتے ہیں اگر ان کی نیت صالح اور نیک ہے تو وہ بنیادی طور پر مسئلے اور مطالبہ کی پوری اہمیت اور حساسیت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ اخلاقیات اور حقوق کے حوالے سے معاملہ کے کثیر الجہت پہلوؤں پر ان کی نگاہ نہیں ہوتی۔ ان کی یک طرفہ سوچوں اور تجزیوں کی وجہ مختلف قسم کے تعصبات بھی ہوسکتے ہیں اور مفادات بھی۔

4. تیسری قسم کے لوگوں سے یہ گزارش ہے کہ بعض حالات میں ایک خیر کو قائم کرنا یا ایک منکرکو روکنا اتنا اہم اور ضروری ہوجاتا ہےکہ اس کے سامنے کوئی دوسرا خیر، خیر کے بجائے جرم اور اعانتِ جرم لگتا ہے۔ مثا ل سے بات واضح ہوگی۔ فرض کریں جب رسول اللہ ﷺ بدر میں ۳۱۳ صحابہ کے ساتھ کفار کے ساتھ بر سرِ پیکار تھے۔ اس وقت یہ پتا چلے کہ کوئی صاحب بغیر کسی عذر کے مسجد نبوی میں نماز ادا کر رہے ہیں اور ثو اب کمانے میں مگن ہیں تو سوچیں۔۔۔! اوپر درج کی گئی احادیث پر بھی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ عوام کی تکلیف اگر فتنہ اور فساد کےدرجے میں نہ آئی ہو تو نہی عن ولمنکر کو اعلیٰ مقام تک لے جانے والوں پر تنقید نہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

5. امریکن سول رائٹ موومنٹ جس کی بنیاد پر امریکہ اور اس کے دنیا بھر میں چاہنے والے امریکہ کو ایک ’’عظیم و آزاد ‘‘ ملک کہتے ہیں، صرف پچاس سال پہلے وہا ں ایسے لوگو ں کی بھی کمی نہی تھی جو نسلی امتیازات ختم کرنے کو ویسے ہی گالی سمجھتے تھے جیسے کمیونزم کو ظلم اور قنوطیت کی پہچان۔ ان لوگوں کو امریکن سول رائٹ سے شدید تکلیف تھی، ’’امریکن افریقن‘‘ کو وہ اپنے برابر بٹھانے، ان کو حقوق دینے کے لیے قطعاً تیار نہ تھے اور موومنٹ کی ہر طرح سے مخالفت پر کمر بستہ تھے۔

6. فیض آباد دھرنے میں مفتی منیب الرحمٰن کے بیانات بہت غور و فکر اور ہدایت کے حامل ہیں۔ ان کے بیانات، ان کے مرتبے، منصب اور ان کی سیاسی طور پر غیر جانبداری کی وجہ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دھرنے اور دھرنے والوں کی قطعاً حوصلہ شکنی نہیں کی۔ ہاں صبر اور صورتحال کو مزید بڑھاوا دینے سے جانبین کو روکا۔ ان کی ساری توجہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر رہی۔ساتھ ہی وہ حکومت کی حماقت و غفلت پر تنقید کرتے رہے۔اسی طرح جماعت اسلامی کا موقف بھی ہمارے سامنے ہے جنہوں نے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کی شرمناک حرکات پر بے انتہا تنقید کی۔

اگلی قسط میں بات مزید آگے بڑھائی جائے گی۔احتجاج اور دھرنے کے قائدین کی ذمہ داریوں اور علماء کرام کی آراء کے بارے میں بات ہوگی۔

(جاری ہے)

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.