’’ کلبھوشن کی بیچاری بیوی‘‘ – احسان کوہاٹی

سیلانی کو کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے ہمدردی ہے۔ دیار غیر میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہوئے پکڑے جانے والے کلبھوشن کے ماں باپ اور بیوی بچوں پر کیا بیتی ہوگی جب انہیں ٹیلی ویژن سے کلبھوشن کی گرفتاری کی خبر ملی ہوگی؟ جب انہوں نے کلبھوشن کا اترا ہوا چہرہ دیکھا ہوگا اور جب انہوں نے اس کے اعترافات سنے ہوں گے؟ سیلانی نہیں جانتا کہ اس کی ماں کے کیا احساسات ہوں گے، جب اس نے سنا ہوگا کہ اس کا بیٹا اس جیسی عورتوں کی کوکھ اجاڑنے کا سبب رہا ہے؟ وہ ایک ایسا نیٹ ورک چلاتا ہوا پکڑا گیا ہے جس کا مقصد دہشت اور وحشت کاشت کرنا تھا۔ شاید اس نے بھی ممتا سے مغلوب ہو کر یکسر انکار کر دیا ہو، سوچتی ہو کہ یہ ’’دشمن ‘‘ کی چال ہے، اس کا بیٹا تو معصوم اور بے قصور ہے… شاید نہیں یقیناً ایسے ہی جذبات گرفتار دہشت گرد کی بیوی چیتنکاوی یادیو کے بھی ہوں گے اور وہ ان ہی جذبات کے ساتھ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترنے والے طیارے سے باہر نکلی ہوگی۔

سیلانی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اس دہائی پر بھی ان کے ساتھ ہے کہ یہ ایک ذاتی نوعیت کی جذباتی ملاقات تھی۔ سشما جی نے جوتوں میں رکھی حساس الیکٹرانک ڈیوائس کے بارے میں جو کہا وہ بھی سمجھ میں آتا ہے، انہیں اس کا انکار ہی کرنا چاہیے تھا کہ ان کا منصب سچ جھوٹ کے چکر میں پڑے بنا دہلی کا مؤقف پیش کرنا اور پھیلانا منوانا تھا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے ’’را‘‘ کو دل ہی دل میں لتاڑا تو ہوگا جن کی وجہ سے انہیں منہ بھر بھر کر جھوٹ بولنا پڑا اور بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی۔ ’’را‘‘ ایسا ہی کرتی ہے، اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کے لیے کسی بھی حد تک گرسکتی ہے اور نیچ بن سکتی ہے۔ اسی نیچ پن کی کہانی آئی ایس آئی کے سابق افسر سید احمد ارشاد ترمذی بھی سناتے ہیں۔ ارشاد صاحب کا کام اسلام آباد میں آنکھیں کھلی رکھنا تھا، وہ کھلی آنکھوں سے سفارتخانوں کے ثقافتی مراکز، اسکولوں، زبان سکھانے کے اداروں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں آنے جانے والوں کو دیکھتے رہتے تھے۔ ایک دن ان کھلی آنکھوں کے ریڈار نے بھارتی ایمبیسی اسکول کی مس ویناکو کیچ کر لیا۔ انہیں پتہ چلا کہ مس وینا تدریسی سرگرمیوں سے زیادہ ’’غیر تدریسی‘‘ سرگرمیوں پر توجہ دے رہی ہے اور وہ شکار کی تلاش میں اسلام آباد کے کچھ گھروں میں آ جا رہی ہے۔ مزید کھوجنے پر پتہ چلا کہ یہ قاتل ادا حسینہ بھارتی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی اور’’را‘‘ کے فرسٹ سیکرٹری کھنہ سے رابطے میں ہے۔ یہ دونوں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جاننے کے مشن پر تھے۔

دیکھنے میں مس وینا بےضرر سی معصوم حسینہ معلوم ہوتی تھی جس کی کھڑی ستواں ناک، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، بیضوی چہرہ اور اور نہایت متناسب جسم اسے دیکھنے والے کو دیکھتے رہنے پر مجبور کیے رکھتے تھے، اس پر قیامت اس کی مسکان اور لگاوٹ بھرا انداز گفتگو تھا۔ اس کی ادائیں اسے مزید خطرناک بناتی تھیں۔ مس وینا کے بارے میں جاننے کے لیے ایک ہندو گھرانے کے لڑکے کو بھارتی ایمبیسی کے اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کی ماں اس طرح سے مس وینا سے راہ و رسم بڑھانے لگی، جیسے وہ اپنے بچے کی تعلیم کے حوالے سے سخت متفکر ہو اور اس کی اسکول میں تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں سب کچھ جانتے رہنا چاہتی ہو۔ وہ ہر دو تین بعد اسکول کا چکر لگانے لگی جہاں خوش اخلاق مس وینا سے اس کی ملاقات ہوتی۔ یہ ملاقاتیں شناسائی میں بدلیں اور پھر آہستہ آہستہ دوستی ہوتی چلی گئی۔ یہ دوستی اتنی بڑھی کہ شاپنگ بھی ساتھ ہونے لگی اور شام کو چہل قدمی بھی، جلد ہی ہمارے شکوک کی تصدیق ہوگئی کہ مس وینا کا اصل مشن کچھ اور ہے۔ اب ہم نے مس وینا پر مکمل فوکس کر دیا اور دائرۂ کار بڑھا کر اس کے حلقۂ احباب تک بڑھا دیا۔

اک دن ہمیں ہماری سورس سے اطلاع ملی کہ بھارتی ایمبیسی کے کسی فرد نے ایک ہوٹل کا کمرہ بک کرایا ہے۔ یہ بظاہر غیر معمولی بات نہ تھی لیکن انٹیلی جنس کہا ہی اسے جاتا ہے کہ غیر اہم باتوں کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ ہم ہوٹل پہنچ گئے۔ مس وینا بھارتی ڈیفنس اتاشی کی گاڑی میں وہاں آئی۔ ڈیفنس اتاشی کھنہ اسے کمرے میں چھوڑ کر ہوٹل کی لابی میں کسی کا انتطار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں ایک نوجوان لابی میں داخل ہوا اور کھنہ کی طرف بڑھتا دکھائی دیا۔ وہ پراعتماد دکھائی دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے چہرے پر پھیلی سراسیمگی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ ڈیفنس اتاشی کھنہ اسے لے کر اس کمرے تک گیا، جہاں مس وینا اپنی اداؤں سے حملہ آور ہونے کے لیے تیار تھی۔

ہمیں اس نوجوان کانام پرویز معلوم ہوا۔ پتہ چلا کہ وہ اٹامک انرجی میں انجینئر ہے۔ مس وینا کسی حسین اتفاق کے ذریعے اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی جس کے بعد پرویز اس کی اداؤں اور حسن کے جلووں کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔ اب وصال یار کی لذتیں کشید کرنے کے لیے بوکھلایا ہوا محبوب سے علیحدگی میں ملنے آگیا تھا۔ ہم نے پلان کے مطابق ایک افسر کو ویٹر بنا کر بھیج دیا۔ مس وینا کا آرڈر لے کر کمرے میں بھیجا، اس نے پرویز کے لیے کچھ ناشتہ منگوایا تھا۔ ہمارا افسر آرڈر لے کر گیا تو ٹرالی میں خفیہ ٹرانسمیٹر رکھنا نہ بھولا۔ ناشتہ دینے کے بعد وہ باہر آگیا۔ اب کمرے میں ہونے والی دونوں کی گفتگو ٹرانسمیٹر کے ذریعے ہم سن رہے تھے۔ گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ پرویز پوری طرح جال میں پھنس چکا ہے۔ وہ کچھ دیر مس وینا کے ساتھ رہا اور پھر اگلی ملاقات کا وعدہ لے کر باہر آگیا۔ ہوٹل سے باہر ہم اس کے استقبال کے لیے موجود تھے، اسے ساتھ لے گئے۔ پرویز نے اگلنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ دوسری طرف ہمارا ویٹر مس وینا کے کمرے میں برتن سمیٹنے پہنچ چکا تھا، جہاں مس وینا اپنی کامیابی پر شاداں وفرحاں تھی۔ منصوبے کے مطابق اسے کام مکمل ہونے پر کھنہ کو کال کر کے گاڑی منگوانی تھی، لیکن ہمارے ’’ویٹر‘‘ نے اس کی ساڑھی کی تعریف سے جو باتوں کا سلسلہ شروع کیا تو مس وینا کو فون کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ پھر آہستہ آہستہ اسے باور کرانے لگا کہ وہ اس کے بارے میں سب جانتا ہے۔ بالآخر اس نے بتا دیا کہ وہ ویٹر نہیں ہے۔ مس وینا یہ سن کر صوفے پر کٹے شہتیر کی طرح گرگئی، اس کی گفتگو کی ریکارڈنگ نے اس کو حواس باختہ کر دیا۔ وینا یہ سب سن کر روہانسی ہوگئی، اس کی کیفیت اس بچے کی طرح ہو گئی، جسے بیکری سے ڈبل روٹی چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہو۔

ارشاد صاحب مس وینا کے بارے میں مزید بتاتے ہیں کہ اس کے بعد مس وینا نے بھی ہم پر کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کا پہلا مشن تھا۔ یہ بھی بتایا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ والدین نے غربت کے باوجود اسے کسی نہ کسی طرح لکھایا پڑھایا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر کوئی اچھی سی ملازمت کرکے پرسکون زندگی گزار ے، لیکن گریجویشن کے بعد ملازمت مل کر ہی نہیں دے رہی تھی۔ وینا کہنے لگی میری ایک سہیلی کے شوہر نے مجھے اپنے ایک دوست سے ملوایا اور کہا کہ یہ ملازمت کے لیے تمھاری مدد کر سکتا ہے۔ میں اس کے پاس چلی گئی اس نے میرا سرسری سا انٹرویو لیا اور پرکشش معاوضے کی ملازمت کی پیشکش کر ڈالی۔ مجھے کیا اعتراض ہوتا؟ میں فوراً راضی ہوگئی جس کے بعد اس نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اسلام آباد میں انڈین ایمبیسی کے اسکول میں پڑھانا ہوگا۔ یہ سن کر میں ہچکچائی لیکن انھوں نے یقین دلایا کہ میں بالکل محفوظ رہوں گی اور ایمبیسی کی ملازمت تو قسمت والوں کو ملتی ہے۔ میں مان گئی، مجھے تقرر نامہ مل گیا۔ اگلے ورز مجھے سیکورٹی اسکول لے جایا گیا اور بتایا گیا کہ یہا ں کچھ ضروری تربیت دی جائے گی۔ وہاں میرے علاوہ چار لڑکیاں اور تھیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ دشمن ملک جا رہی ہیں، اس لیے اپنی حفاظت کے لیے یہ کورس ضرور ی ہے۔ میں پھر بھی نہیں سمجھی کہ مجھے ایک ایجنٹ بنایا جا رہا ہے۔ یہ راز تو مجھ پر کچھ دن بعد تب کھلا جب میں اپنی عزت سے محروم ہوچکی تھی۔ تب مجھے بتایاگیا کہ میں ’’را‘‘ کے ایک مشن کے لیے منتخب ہوچکی ہوں، اور میرے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ مجھے وہاں سکھایا جانے لگا کہ کس طرح مردوں کی توجہ حاصل کی جاتی ہے، کس طرح انہیں پھنسایا جاتا ہے۔ اس ٹریننگ کا سب سے غلیظ پہلو مختلف مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات کا تھا۔ ہمیں اس بات کی تربیت دی گئی کہ کس طرح ایک مرد کو بستر پر بےبس کیا جاتا ہے۔ ہم سے رات رات بھر ٹریننگ کے نام پر کھلواڑ کیا جاتا رہا اور تسلی دی جاتی رہی کہ ہم ایک بڑے کام کے لیے منتخب ہوچکی ہیں۔ ارشاد احمد کہتے ہیں کہ وینا کی کہانی سن کر مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوا، کسی مجبور بے بس لڑکی کو اس طرح استعمال کرنا گھٹیا ترین نیچ حرکت تھی اور اس طرح کی حرکتیں ’’را‘‘ کرتی رہتی تھی۔ ہم نے مس وینا کو وہ عزت دی، اس کی ٹوٹی ہوئی شخصیت کو ایسے سمیٹا کہ وہ بھارتی ایمبیسی میں ہمارے لیے کام کرنے لگی۔

سیلانی کو کلبھوشن کی بیوی کے جوتوں سے خفیہ چپ نکلنے کی خبر سے سید ارشاد احمد کی یہ تحریر یاد آگئی۔ یہ ’’را‘‘کا پرانا وتیرہ رہا ہے، چانکیہ کے چیلوں کے نزدیک دھوکہ اور فریب دانش مندی اور چال عقلمندی ہوتی ہے، انہوں نے یہاں بھی یہی چال چلنے کی کوشش کی، اپنے مطلب کے لیے اس شخص کی بیوی اور ماں کو بھی استعمال کرنے سے نہیں چوکے جو پہلے ہی اپنے شوہر اور بیٹے کی ’’دشمن‘‘ ملک میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر زندہ لاش بن چکی تھیں۔ کلبھوشن دیوی کی بیوی کے بدلے ہوئے جوتوں نے سیلانی کو مس وینا کی کہانی یاد دلا دی اور وہ مس وینا کو یاد کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو کی پتنی کے بدلے ہوئے جوتے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہاا ور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */