اعزازیہ لینے والوں کے نام - مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا فضل الرحمٰن ایک صاحب بصیرت سیاست دان ہیں، تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت نے مساجد کے ائمہ وخطبا کووظیفہ دینے کا اعلان کیاتومولانانے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا:خیبر پختونخوا حکومت سرکاری طور پرتنخواہیں دے کر علمااور ائمہ مساجد کو خریدناچاہتی ہے، لہٰذا ائمہ مساجد سرکاری تنخواہیں قبول نہ کریں، یہ ان کے ضمیر کو خریدنے کی کوشش ہے، حکومت اس آڑ میں ان سے یہودی ایجنڈے کوآگے بڑھانے کا کام لے گی۔

ان کاموقف ہے کہ کے پی کے حکومت این جی اوز کی گرانٹ سے چلتی ہے، اس وقت بھی کئی دیہات میں پولیو کے نام پر ائمہ مساجد کو کئی کئی ماہ سے دس ہزار روپے ماہانہ مل رہے ہیں، یہی این جی اوز ائمہ مساجد کو دس ہزار اعزایہ دینا چاہتی ہیں۔ اس کے دوجوہری مقاصد ہیں:اول تویہ کہ خیبر پختونخواکے ائمہ مساجد کے کوائف جمع کرنے کافیصلہ ہوئے ایک عرصہ ہوچکا ہے، نیکٹاکے ذمے یہ کام تھا، جس میں وہ تاحال مکمل کام یاب نہ ہوسکی تھی، چناں چہ اب اعزازیے کا جال پھینکا گیا ہے اوراس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، کہ ائمہ مساجد مساجد قطاروں میں لگ لگ کراپنے کوائف دے رہے ہیں۔ یہ بات کسی بیان کی محتاج نہیں کہ ان کوائف کوجمع کرنے کا مقصدان ائمہ مساجد پرنظر رکھنااوران کے خلاف بوقت ضرورت کارروائی عمل میں لانا ہے، جوانتہاپسندی کا پرچارکررہے ہیں۔ دوم یہ کہ جب یہ حضرات اس اعزازیے کے عادی ہوجائیں گے، تواگلے مرحلے میں ان سے کہا جائے گاکہ'' جن کا کھاتے ہو، انھی کاگانا پڑے گا'' ورنہ ملازمت سے فارغ اور اعزازیہ بند اوراس وقت ان حضرات کے لیے اس اعزازیے کوچھوڑنا اس لیے مشکل ہوگا، کہ وہ اپنے لائف اسٹائل کوبرقراررکھنے کے لیے اس رقم کے محتاج ہوچکے ہوں گے، یوں یہ رزق'' طائر لاہوتی'' کی پرواز میں کوتاہی کا باعث بن جائے گا۔ مدارس دینیہ جو، اب تک حکومتی گرانٹوں سے احترازکرتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے، کہ جومدارس سرکار سے امداد لیتے ہیں، ان کے لیے اپنی حریّتِ فکر کوبرقراررکھنا مشکل ہوجاتاہے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑانے سے اس تاثرکی تصدیق ہوجائے گی۔

رقص وسرود کے رسیا تحریک انصاف کے لیے کلنک کا ٹیکا خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اگرچہ اس اعزازیہ کے اجرا کی جودلیل پیش کی ہے کہ مولوی جب لوگوں سے بھیک مانگتا ہے، تو اس سے بہتر یہ نہیں کہ حکومت سے تنخواہ لے۔ یہ ان کے خبثِ باطن اور دین سے دوری کا عکاس ہے۔ الحمدللہ!علماکوہر دور میں معاشرے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہ عزت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مشن سے وابستگی کی برکت سے ہے، کسی سے مانگی ہوئی بھیک نہیں۔ اگر تعلیمی وتدریسی اخراجات کے لیے چندے کی بات ہے، توچندہ توغزوہ تبوک کے موقع پرنبی برحق ﷺ نے بھی فرمایا تھا۔ دینی مصارف میں اللہ تعالیٰ ہر کسی کا مال قبول نہیں فرماتے۔ نصیب والے ہی ہوتے ہیں، جن کا مال دینی مصارف میں لگتا ہے، ورنہ حرام کی دولت تومادر پدر آزاد دھرنوں، ڈانس کلبوں اور وائن شاپس کی نذر ہوجایا کرتی ہے، جس کا پرویز خٹک سے زیادہ کس کو مشاہدہ ہوسکتاہے!

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کے پی کے حکومت کوآخریہ سوچنے کا موقع کیوں ملا کہ علماکی زبان بندی اوران سے اپنی مرضی کاکام لینے کا یہی نسخہ ہے کہ ان کوسرکار کی جانب سے وظیفہ دیا جائے؟کہیں ایسا تو نہیں ، کہ انھوں نے یامغربی این جی اوزنے علماکی عمومی کم زور مالی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا؟یقیناً ایسا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کی مالی حالت اس قدر کم زور ہونے میں قصور کس کا ہے؟کہنے کو توکہا جاسکتا ہے کہ اسلاف کی طرح آج کے علمادین کا کام بلا معاوضہ کیوں نہیں کرتے، جس طرح انھوں نے دین کا کام تو بلا معاوضہ کیا اورمعاش کے لیے دوسرے ذرائع اپنائے، مثلاً امام ابوحنیفہ ، جن کے ماننے والوں کی تعداد دنیا میں تمام فقہی مسالک سے زیادہ ہے، نے کپڑے کی تجارت کی، امام قدوری نے اپنے ہاتھ سے ہانڈیاں بنائیں۔ لیکن، معاف کیجیے!مدارس کی کل وقتی مصروفیات میں ایک عالم دین کے لیے اب یہ بات ممکن نہیں رہی ہے۔ ایک امام مسجد بھی دن بھر کے اوقات میں نمازوں کی وجہ سے پابند ہوجاتا ہے۔ توان کے معاش کی ذمے داری یقیناً انھی اداروں پر عائد ہوتی ہے، جہاں خدمات کی انجام دہی کی وجہ سے یہ حضرات کوئی دوسری مشغولیت کے لیے وقت نہیں نکال سکتے۔

ماضی میں مولانا فضل الرحمٰن اوران کی جماعت نے اگر اپنے ادوارِ اقتدار میں ائمہ کا معیار زندگی بلند کرنے اور ان کی معاشی ضروریات کے حوالے سے کوئی گرینڈپلان تشکیل دیا ہوتا تو ائمہ مساجد اتنی جلدی چند ہزار کے چکر میں اپنے کوائف مغربی این جی اوز کی جھولی میں نہ ڈالتے۔ اس اعتبار سے اس کی ذمے داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے یہ ائمہ حضرات بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ انھیں اس قدر سطحی نظر سے اس اقدام کونہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ کوائف دینے سے پہلے اس بات کی تو تسلی کی جاتی ، کہ انھیں یہ اعزازیہ کون دے رہا ہے؟مساجد کا تعلق اوقاف سے ہوتا ہے اور کوائف فارم تعلیمی بورڈکے ذریعے تقسیم ہورہے ہیں، جس کا کام صرف امتحانات کے نظم تک محدود ہے۔ اسی طرح مساجد کے معاملات کووزارتِ مذہبی امورکے سپرد کرنے کے بجائے وزارت صنعت وانڈسٹریزکے ساتھ منسلک کیا جارہاہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس اعزازیے کے اجراکے لیے نہ توائمہ کا سرکاری ملازم کے طور پرتقررکیا جارہا ہے، نہ ان کا کوئی پے اسکیل متعین کیا جارہا ہے، غرض کسی قسم کی کوئی وضاحت ہے اور نہ ہی تقرری کے قواعد وضوابط کا دور دور تک نام ونشان، کیااس سے مولانا فضل الرحمٰن کے اس تاثر کی تائید نہیں ہوتی ، کہ یہ رقم بیرونی این جی اوزکی جانب سے جاری کی جارہی ہیں، جن کا ایجنڈاہی وطن عزیز سے اسلام کومٹانااور اسے سیکولر اسٹیٹ بنانا ہو، ان کایوں علماکے معیار زندگی کو بلند کرنے کی فکر میں پڑجانا باعث حیرت نہیں؟کیاان ائمہ مساجد نے اس بات پرغور کیا، کہ کہیں یوں ہم اپنی لگام مغربی ویورپی این جی اوز کے ہاتھوں میں تونہیں دے رہے۔ خدارامفادات کے اسیرنہ بنیے!آنکھیں کھلی رکھیے۔ نتائج وعواقب سے نظریں نہ چرایئے!آپ اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کہلاتے ہیں، آپ کے اسلاف نے روکھی سوکھی کھاکربھی اپنے کاز اور مشن سے پیچھے ہٹناگوارانہ کیا، سوچیے!آپ کیاکرنے جارہے ہیں!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کے پی کا تو نہیں پتہ لیکن پنجاب میں تو اکثر مساجد کے علماء کو بد حال اوربھیک پر گذارا کرتے ہی دیکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیکٹا سے تعاون کرنا اور اپنے کوائف دینا کیا جرم ہے؟
    باقی رئیس المنافقین مسٹر فضل الرحمٰن جیسے ہر حکومتی دستر خوان پر سے فیض یاب ہونیوالوں کے منہ سے ائمہ مساجد کو ایسی نصیحتیں؟؟؟؟؟؟