"دستوری ظلم" کے تین مدارج - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پہلا درجہ

پاکستان بننے کے وقت کچھ "شاہی ریاستیں" موجود تھیں جنھیں قانونِ آزادیِ ہند 1947ء کے تحت اختیار دیا گیا کہ وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔ جو ریاستیں بھارت کے بیچوں بیچ واقع تھیں، انھوں نے بھارت ہی سے الحاق کرنا تھا طوعاً یا کرھاً؛ اور جو ریاستیں پاکستان کے بیچوں بیچ واقع تھیں، انھوں نے پاکستان ہی سے الحاق کرنا تھا طوعاً یا کرھاً۔ کشمیر کا معاملہ البتہ مختلف رہا کہ وہاں کے راجا کے پاس عملی طور پر دونوں آپشن تھے۔

بہرحال جن ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ان کی الگی ریاستی حیثیت پر پہلی بڑی چوٹ 1955ء میں لگائی گئی جب "مغربی پاکستان" کا ایک صوبہ، "ون یونٹ" بنایا گیا۔ دوسری بڑی چوٹ 1969ء میں لگائی گئی جب ان ریاستوں کو جبراً اپنی الگ ریاستی حیثیت ختم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر ان کی الگ حیثیت ختم کرنے کے بعد 1970ء میں لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے "ون یونٹ" کا خاتمہ کیا گیا اور ان کی جگہ چار صوبے بنادیے گئے۔ جو "سابقہ" ریاستیں جس صوبے کے اندر واقع تھیں، انھیں اسی صوبے کا حصہ بنادیا گیا (جیسے بہاول پور کو پنجاب کا، خیرپور کو سندھ کا، قلات کو بلوچستان کا اور سوات کو سرحد کا)۔

البتہ صوبوں کا حصہ بنانے میں ایک فرق روا بھی کیا گیا جسے میں "دستوری ظلم کا پہلا درجہ" کہتا ہوں۔ وہ فرق یہ ہے کہ جو ریاستیں پنجاب اور سندھ کا حصہ بنادی گئیں، انھیں ان صوبوں کے دیگر اضلاع کے برابر کی حیثیت دی گئی لیکن سرحد اور بلوچستان میں شامل کی گئی ریاستوں کو ایک ایسی حیثیت دی گئی کہ نہ تو ان کی سابق حیثیت برقرار رہی، نہ ہی انھیں صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر کی حیثیت ملی۔ اس "منزلۃ بین المنزلتین" کو PATA کا نام دیا گیا، یعنی Provincially Administered Tribal Areas (صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقے)۔

پاٹا کے ان علاقوں میں باقاعدہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران کا انتخاب ہوتا ہے لیکن پاٹا کےلیے صوبائی اسمبلی قانون سازی نہیں کرسکتی، نہ ہی وفاقی پارلیمان کا منظور کردی قانون یہاں نافذ ہوسکتا ہے جب تک گورنر اس کی اجازت نہ دے۔

نوّے کی دہائی کی ابتدا میں جب عدلیہ نے "پاٹا ریگولیشنز" کو غیردستوری قرار دیا تو اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں "تحریکِ نفاذ شریعتِ محمدی" کا آغاز ہوا جس کا کہنا دراصل یہ تھا کہ 24 سال قبل کا نظام ہی ہمیں واپس دے دیا جائے۔ ایک خونریز تصادم کے بعد ریاست نے ان علاقوں میں گورنر کے ذریعے "شرعی نظامِ عدل ریگولیشنز" نافذ کردیے۔ 1999ء میں تحریک دوبارہ اٹھی تو شرعی نظامِ عدل ریگولیشنز کا دوسرا ایڈیشن نافذ کیا گیا۔ 2009ء میں ان ریگولیشنز کا تیسرا ایڈیشن نافذ کیا گیا ہے جو اب تک رائج ہے۔

بہرحال 47 سال گزرنے کے بعد آج بھی پاٹا کی یہ حیثیت برقرار ہے کہ یہ صوبے کا حصہ ہے بھی اور نہیں بھی۔

دوسرا درجہ

دستوری ظلم کا دوسرا درجہ ہمیں ان علاقوں میں نظر آتا ہے جنھیں FATA، یعنی Federally Administered Tribal Areas (وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے) کہا جاتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے آج تک ان علاقوں کو پاکستان کے دستور میں مہیا کیے گئے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی شنوائی ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ میں نہیں ہوسکتی۔ نہ ہی پاکستان کے پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین یہاں نافذ ہوسکتے ہیں جب تک صدرِ پاکستان اس کی اجازت نہ دے۔

جو لوگ فاٹا کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ساتھ انضمام کی بات کرتے ہیں وہ پاٹا کا حشر دیکھ لیں کہ انضمام کے 47 سال بعد بھی پاٹا آج تک "منزلۃ بین المنزلتین" میں لٹکا ہوا ہے۔

تیسرا درجہ

دستوری ظلم کا تیسرا درجہ ہمیں ان علاقوں میں نظر آتا ہے جنھیں گلگت بلتستان کہا جاتا ہے۔

پاٹا کو تو صوبوں کا حصہ بنادیا گیا؛ فاٹا کو کم از کم ریاست کے علاقوں میں شامل تو قرار دیا گیا؛ لیکن گلگت-بلتستان کو ابھی تک پاکستان میں شامل علاقوں کی فہرست میں ہی شامل نہیں کیا گیا۔

یہ علاقے تقسیمِ ہند کے وقت ریاستِ جموں و کشمیر کا حصہ تھے اور تقسیمِ ہند کے اعلان کے بعد انھوں نے لڑ کر مہاراجا سے آزادی حاصل کرکے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ریاستِ جموں و کشمیر کے وہ علاقے، جنھیں آج آزاد جموں و کشمیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، بعد میں چھڑائے گئے۔

بہرحال اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور لائن آف کنٹرول کھینچ دی گئی۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے باشندے استصوابِ راے کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ اس استصوابِ راے کے انتظار میں آج تک پاکستان نے گلگت-بلتستان کو اپنا باقاعدہ حصہ نہیں بنایا، نہ ہی اسے آزاد جموں و کشمیر کی طرح نیم خودمختار حیثیت دی ہے۔

واضح رہے کہ سی پیک کے تمام راستے گلگت بلتستان سے آتے ہیں۔

پس چہ باید کرد؟

پہلے درجے کے ظلم کے خاتمے کےلیے پاٹا کی الگ حیثیت ختم کرکے اسے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ بلوچستان کا باقاعدہ حصہ بنادیا جائے۔

دوسرے درجے کے ظلم کے خاتمے کےلیے فاٹا کے لوگوں سے استصوابِ راے کیا جائے کہ وہ الگ صوبہ، یا صوبے، بنانا چاہتے ہیں، یا صوبہ خیبر پختون خوا کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے فیصلے کے بعد پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ان علاقوں میں بھی دستور اور قانون کی مکمل تنفیذ کا اعلان کیا جائے۔

تیسرے درجے کے ظلم کے خاتمے کےلیے گلگت بلتستان کےلیے بھارتی دستور کی دفعہ 370 کے طرز پر، یا اس سے بھی بہتر طریقے پر، خصوصی دستوری حیثیت مان لی جائے۔

یاد رکھیے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.