تخلیق کا کرب - ساجد العبدلی

جولوگ یومیہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں، انہیں اندازہ ہوگاکہ مسلسل لکھتے رہناایک لکھاری کے لیے کئی حوالوں سے سخت تھکن آمیز ہوتاہے۔ لکھنے کے لیے وقت نکالنا، پھربیٹھنے کے لیے جسمانی ونفسیاتی قوت وصلاحیت کو بروئے کارلانا، ذہن میں موجودخیال کو ایک قابلِ مطالعہ مواد کی صورت تشکیل دینا اوراس سے بھی پہلے کسی اچھے اورمعنی خیزخیال کاذہن میں پیداہونا اوراسے محسوس کرنا؛یہ سب ایک لکھنے والے کے لیے بڑے مشکل مرحلے ہیں، ان کے علاوہ بسااوقات یہ اندیشہ بھی ذہنی افسردگی کاسبب ہوتاہے کہ میری تحریر/مضمون /تجزیہ چھپنے کے بعد قارئین کوپسندآئے گایانہیں؟ میرامضمون دوسروں کے مضامین سے ممتازہوگایانہیں؛ تاکہ اپنے ہم عصروں میں میری ایک انفرادی شناخت باقی رہے یاکم ازکم ان کی نگاہ میں میراوقارومعیارقائم رہے اورمیری تحریر اخباری اوراق یاالیکٹرانک دنیامیں محض ایک اضافہ ثابت ہوکرچندلمحوں میں ہی اثروتاثیر سے خالی نہ ہوجائے۔ اس طرح کے بہت سے اندیشے، وسوسے اوراوہام بعض لوگوں کوایک دائمی کڑہن اور ذہنی ونفسیاتی افسردگی کاشکاربنادیتے ہیں۔ ـ

البتہ دھیان رہے کہ میری یہ بات ان لکھنے والوں کے حوالے سے ہے،جونہایت اہتمام سے لکھتے اورلکھنے کوایک فریضہ سمجھتے ہیں اورانہیں لگتاہے کہ ان کی تحریر نہ صرف ایک ذمے داری کی ادائیگی ہے بلکہ وہ آئندہ فکروعمل کے دسیوں بنددروازوں اور شعورواحساس کے مقفل قلعوں کوکھولنے کاوسیلہ بھی بن سکتی ہے، جس کی انتہایاتوخیروصلاح پرہوگی یا فساد وگمراہی پر ـ۔

رہے ایسے لکھاری /صحافی /قلم کار، جوکھڑکیوں کے راستے یادیواریں پھلانگ کراِدھرآگئے ہیں، انہیں ایسی کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی بلکہ انہیں اس کااحساس تک نہیں ہوتا کیوں کہ وہ تخلیق وتحریر کے کرب سے قطعاً ناواقف ہوتے ہیں، ان کی تمام ترمحنتوں کاثمرہ یہ ہے کہ ایک متعینہ حلقے میں چمک جائیں اورشہرت وناموری حاصل کرلیں ـ۔

اس وضاحت کے بعد میرااحساس یہ ہے کہ آپ میں سے بعضوں کومیری مذکورہ بالابات سخت اور عجیب لگے گی اورآپ کے دل میں یہ سوال پیداہوگا کہ آخرکیوں کوئی شخص ایسی تکلیف یادائمی افسردگی کی حالت میں جیے گا؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ ایک حقیقی قلم کار /لکھاری کواس دائمی منتشراورتکلیف دہ صورتِ حال کی لت لگ جاتی ہے، وہ اس سے چھٹکارابھی نہیں پاسکتا، وہ اس کرب سے دوررہ کر جی ہی نہیں سکتا، وہ فرصت کے اوقات میں بھی عام زندگی جینے کوآمادہ نہیں ہوگا، اسے جس طرح لکھنے کی لت ہوگی، اسی طرح اس کو اپنی ذات، فکر، اپنی تحریر اور اپنے قاری کے تئیں اپنی ذمے داریوں کومحسوس کرنے کی بھی لت ہوگی۔ ایک سچافن کار /قلم کار ہمیشہ یہ سوچتاہے کہ اس کی اوراس کی تحریروں کی رسائی چاہے جہاں تک بھی ہواوراس کے لکھنے کے مضوعات اورنیچر جوبھی ہوں، انہیں بھرپور انداز میں ہوناچاہیے، اس کےخیالات مکتوب الفاظ کی صورت باہرکی دنیامیں نکلیں تاکہ خارج میں انہیں ایک معنویت اورمخصوص شناخت حاصل ہو اوراسے اس حقیقت کابھی شدیداحساس ہوتاہے کہ اس کے افکاروخیالات کی ترجمانی خوداس سے بہترطریقے سے کوئی بھی نہیں کرسکتا ـ ۔

یہ بھی پڑھیں:   میں کیوں لکھوں؟ عبدالباسط ذوالفقار 

بعض لوگوں نے ایک مرتبہ جب مشہورارجینٹینی ادیب جارج لوئس برگیس (1986-1899) سے یہ دریافت کیاکہ "آپ کس کے لیے لکھتے ہیں؟ "

توانھوں نے جواب دیا:

"اپنے لیے "ـ

ان کے اس جواب کامطلب (جہاں تک میں سمجھ سکاہوں) یہ ہے کہ ایک حقیقی لکھاری /تخلیق کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے لیے لکھے، یعنی ایسی چیزلکھے، جواس کے اپنے "ذوق"کوبھاجائے، جس کی مثال ایک ایسی متلون مزاج مغرورحسینہ سے دی جاسکتی ہے، جس کاحصول مشکل ہو۔ پس وہ شخص اس لیے لکھتاہے کہ اس کی اپنی تحریر فکری، تخلیقی اور وقعت کے اعتبار سے اس کی اپنی خوشی کے اعلی ترمعیارتک پہنچ سکے اوراِس خوشی کاحصول فی الحقیقت نہایت مشکل اورتھکادینے والاعمل ہے ـ

کم ازکم میرے نزدیک یہ ایک قابلِ نفریں اورکرب انگیز حالت ہے، خاص طورسے کسی مقالہ /مضمون کولکھنے اوراپنے افکار کوتحریرکے سانچے میں ڈھالنے کی ابتدائی حالت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے، مگرپھرجب آپ اپنے افکاروخیالات کوصفحۂ قرطاس پراتاردیں اور آپ کی تحریراشاعت کے مرحلے تک پہنچ جائے، تویہ حالت فرحت ومسرت اور سروروابتہاج کے ایک انوکھے احساس میں بدل جاتی ہے؛ اسی لیے میں کبھی اپنی اس کیفیت سے دست بردارنہیں ہوسکتا، نہ مجھے کسی اورمشغلے میں چین آسکتاہے:

مجھے تواورکوئی کام بھی نہیں آتا!

(ترجمہ: نایاب حسن)