زمان و مکاں اپنا اپنا - ادریس آزاد

ناؤ سلائس اور لائٹ کون پر دو مختصر پوسٹس لکھنے پر بہت سے دوستوں نےکمنٹس میں لکھا کہ ’’کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اِس مضمون کے ذریعے میں نے کوشش کی ہے کہ پہلے لائٹ کون اور پھر ناؤسلائس کی وضاحت کردوں۔ یہ چونکہ کاغذ پر گراف کی شکل میں بنا کر سمجھنے والی چیزیں ہیں اس لیے تحریر کی شکل میں لکھنا خاصا دشوار ہے۔ پھر بھی میں نے کوشش کی ہے کہ اِن سطروں میں وہ تصویریں دکھاسکوں جن کی مدد سے لائٹ کون کی سمجھ آجائے۔ ایک بار لائٹ کون کی سمجھ آگئی تو ناؤسلائس کو سمجھنا چنداں مشکل نہ ہوگا۔


کوئی بھی واقعہ پیش آتاہے تو وہ زمان و مکاں میں پیش آتاہے۔ یعنی زمانے میں بھی پیش آتاہے اور مکان میں بھی، ایک ساتھ ۔ جس طرح مکان کی اکائی ایک نقطہ ہے، اسی طرح زمانے کی اکائی ایک لمحہ ہے۔ ایک لمحے میں کوئی واقعہ پیش آتاہے تو مکان میں ایک نقطے پر بھی پیش آرہاہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی واقعہ تو پیش آئے لیکن زمانے یا مکان میں سے کسی ایک میں پیش آئے۔ جب کبھی بھی کوئی واقعہ پیش آئےگا تو ہرقیمت پر وہ دونوں میں پیش آئےگا، یعنی زمان ومکاں میں۔

زمانے اور مکان کا یہ اٹوٹ رشتہ آئن سٹائن سے بہت پہلے کا لوگوں کو معلوم ہے۔ آئن سٹائن نے زمانے اور مکان کے آپسی تعلق کی ساخت کو سمجھا اور بیان کیا اور اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ آئن سٹائن نے زمانے اورمکان کی علیحدہ علیحدہ حقیقتوں کو یکجا کرکے سپیس ٹائم کا مشترکہ تصورمتعارف کروایا۔

مکان کے تین ابعاد سے ہم واقف ہیں جنہیں انگریزی میں تھری ڈی کہا جاتاہے۔ ایک بُعد (ڈائمینشن) میں دوسمتیں ہوتی ہیں۔ تین ابعاد سے چھ سمتیں وجود میں آتی ہیں، جنہیں فارسی میں شش جہات کہا جاتاہے۔ دائیں بائیں، اُوپر نیچے اور آگے پیچھے، یہ ہیں شش جہات۔ ان جہات میں لائنیں کھینچ دی جائیں تو تین لائنیں کھینچی جائیں گی۔ دائیں اور بائیں کے درمیان ایک لائن، جسے ایکس ایکسز کہتے ہیں۔ اُوپر اور نیچے کے درمیان ایک لائن جسے وائی ایکسز کہتے ہیں اور آگے پیچھے کے درمیان ایک لائن جسے زیڈ ایکسز کہتے ہیں۔ یہ ہیں مکان کی شش جہات، تین ابعاد یا تھری ڈی۔

ہمارے عام مشاہدے کے مطابق مکان کے تین ابعاد ہیں لیکن زمانے کا ایک ہی بعد ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک بُعد سے دو سمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ زمانے کے ایک بُعد سے بھی دو سمتیں یا جہات پیدا ہوتی ہیں۔ ماضی اور مستقبل۔

کوئی بھی واقعہ جب پیش آتاہے تو وہ ایک لمحے میں اچانک پیش آتاہے لیکن عین اسی لمحے میں وہ مکان کی شش جہات میں بھی کسی ایک نقطے پر پیش آیاہوتاہے۔ فرض کریں ہم ایک تالاب کے کنارے بیٹھے ہیں۔ ہم تالاب کی سطح کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ پانی ٹھہرا ہوا ہے۔ اچانک ایک کنکر ٹھہرے ہوئے پانی کی سطح پر گرتاہے۔ اب ہم نے دیکھا کہ مکان میں وہ واقعہ ٹھہرے ہوئے پانی کی سطح پر ایک مخصوص نقطۂ مکانی پر پیش آیا اور ایک خاص لمحۂ زمانی میں پیش آیا۔ عین وہ وقت جب واقعہ پیش آیا اور عین وہ نقطہ جہاں واقعہ پیش آیا، کاغذ پر بنائے گئے گراف پر کسی ایونٹ کا اوریجن کہلاتےہیں۔ اگر گراف ایک جمع کا نشان ہو تو اوریجن اس نشان کے عین درمیان والا مقام ہوگا جہاں جمع (پلس) کے نشان کی افقی اورعمودی لائنیں ایک دوسرے کو کراس کررہی ہیں۔ اور اس کا ماضی یا مستقل باقی گراف پر بنایا جائے گا۔

وہ واقعہ ہمیں کیوں نظرآتاہے؟ کیونکہ ہمارے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں۔ اگر ہم آنکھوں سے نہ دیکھ رہے ہوتے تو ہم کانوں سے سن کر بتاتے کہ واقعہ پیش آیا ہے۔ لیکن جب ہم کانوں سے سن کر بتاتے تو ہمیں اُس واقعہ کا عین اس وقت پتہ نہ چلتا کہ جب وہ پیش آیا، بلکہ اُس کے پیش آنے کے کچھ دیر بعد پتہ چلتا۔ کیونکہ آواز کی موج روشنی کی موج سے بہت سست ہے اور یہ سست موج ہم تک دیر سے اطلاع لے کر آتی۔ اس سے کیا پتہ چلتاہے؟ اس سے یہ پتہ چلتاہے کہ آنکھوں سے دیکھنے کی وجہ سے ہمیں واقعے کا بروقت پتہ چلتاہے تو فقط روشنی کی مدد سے۔ ہم کسی بھی واقعہ کو روشنی کی مدد سے دیکھتےہیں۔ کسی بھی زمانی لمحے میں، کسی بھی مکانی نقطے پر پیش آنے والا حادثہ ہمیں اس لیے دکھائی دیتاہے کہ ہماری آنکھیں روشنی کے ذرّات کی صورت اس واقعہ کی ایک فلم وصول کرتے اور ہمارے دماغ کو واقعہ ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔ اگر ہماری آنکھیں نہ ہوتیں اور ہم فقط سن کر ایسی اطلاع حاصل کرتے تو وہ اطلاع ہمارے پاس دیر سے آتی کیونکہ آواز کی موج سست رفتارہوتی ہے۔

کائنات میں جتنے بھی حادثات یا واقعات پیش آرہے ہیں، وہ سب کے سب ہم نہیں دیکھتے لیکن ہم نے بغیر دیکھے ہی ان کے بارے میں بہت ساری معلومات حاصل کررکھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جن واقعات کو دیکھتے ہیں ہم نے ان کی مدد سے اندازے قائم کرلیے ہیں۔ ہم نے اپنی کائنات کی رفتاروں کو روشنی کی مدد سے پہچانا ہے اس لیے ہم ہمیشہ روشنی کو معیار مان کر چلتے ہیں۔ چنانچہ یوں کہنا غیر درست نہیں ہوگا کہ جسے ہم روشنی کی رفتار سمجھتےہیں وہ دراصل روشنی کی رفتار نہیں بلکہ واقعے کی رفتار ہے۔ کازیلٹی کی رفتار ہے۔ سلسلہ علت و معلول کی رفتار ہے۔ کیونکہ روشنی کو کسی بھی رفتار پر سمجھ لینا ہمارے اپنے فہم کا خاصہ ہے۔ روشنی سے پوچھا جائے کہ ’’روشنی بی بی! تمہاری کوئی رفتار ہوتی ہے؟‘‘ تو روشنی ہمیں جواب دے گی کہ ’نہیں‘‘۔ روشنی کا ایک ذرّہ جو بگ بینگ وقت پھوٹا آج تک بھی اگر موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اُس ذرّے نے بھی 14 بلین سال کی عمر گزاری ہے۔ اس ذرّے سے پوچھا جائے تو اس نے ایک پل بھی نہیں گزارا کیونکہ روشنی کے ذرّے کے لیے کوئی وقت ہی نہیں گزرتا۔ وہ ایک ہی پل میں رہ رہاہے۔ وہ ابدی حال ہے۔ سو اگر روشنی ہماری طرح نہیں سوچتی تو ہم کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ روشنی بھی ہماری طرح سوچتی ہوگی؟ ہم چیزوں کو روشنی کی مدد سے دیکھتےہیں۔ ہم واقعات کو روشنی کی بدولت دیکھتے یا بِن دیکھے ہی شمار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ یہ رفتاریں ہم نے اپنے محدود حواس کی وجہ سے طے کی ہیں۔ کوئی واقعہ زمان و مکاں میں پیش آیا اور ہم نے اس کا مشاہدہ کیا تو فی الاصل یہ ہمارا مشاہدہ تھا جس نے طے کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔

ہم دوسری چیزوں کی رفتاروں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ فُلاں چیز اتنی اتنی رفتار پر ہے تو ہم ہمیشہ روشنی کی مدد سے بتاتے ہیں۔ روشنی ہمارے پاس نہایت تیز رفتار یعنی تین لاکھ کلومیٹرفی سیکنڈ کی رفتار سے اطلاع لاتی ہے کہ فُلاں چیز حرکت میں ہے۔ یقینا روشنی اس چیز کی حرکت سے کہیں زیادہ تیز رفتار میں ہم تک اطلاع لاتی ہے۔ اگر روشنی سست رفتار ہوتی تو ہم کسی اور شئے کی رفتار کا تعین کیسے کرتے؟ ہم تو کبھی نہ جان سکتے کہ فلاں چیز حرکت میں۔ لیکن ہم تو اس شئے کی حرکت اور رفتار کو ٹھیک ٹھیک پیمائش کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ فقط روشنی کی مخصوص رفتار ہے جو مستقل رہتی ہے۔ وہ رفتار جو روشنی کے اپنے لحاظ سے کوئی رفتار نہیں ہے لیکن ہمارے لحاظ سے تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہے۔ دوسری چیزوں کی حرکت ہمیشہ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ سے کم ہوگی۔ ہمیشہ کم ہوگی۔ ورنہ ہم کسی اور شئے کی حرکت کو نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ماپ سکتے ہیں۔ روشنی ہی تو واحد سکیل ہے جس کی مدد سے ہم اشیأ کی حرکت، زمانے اورمکان کی پیمائش کرسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ ہم جسے روشنی کی رفتار سمجھ رہے ہیں وہ دراصل کازیلٹی کی رفتار ہوتی ہے۔ یعنی علت و معلول کی رفتار ہوتی ہے اورحقیقت یہ ہے کہ علت و معلول کا سارا تصور ہی ہمارے ذہن کی پیداوار ہے۔ اگر ہم کوئی ایسی مخلوق ہوتے جس کی حِسّیں ہماری حسّوں سے مختلف ہوتیں یا ہم روشنی کی مدد سے چیزوں کی حرکت کا حساب کتاب نہ رکھتے ہوتے بلکہ کسی اور طرح سے رکھتے تو ہمارا سلسلۂ علت و معلول بھی اور طرح سے ترتیب پاتا۔ آواز کی رفتار بے پناہ سست ہے۔ اس لیے ہم اگر فقط آواز کی حِس تک محدود ہوتے جیسا کہ اب بھی کئی جاندار ہیں۔ بلکہ بعض جاندار تو ایسے بھی ہیں جو آواز کی موج سے بھی دنیا کو نہیں دیکھتے، مثلاً بچھو وغیرہ، اگر ہم بھی مختلف حسّوں کے مالک ہوتے تو ہمارا سلسلہ ٔ علت و معلول یا ہماری کازیلٹی کی رفتار بالکل مختلف ہوتی۔ تب ہم یہ تو بے شک نہ جانتے کہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیز رفتار کی موج بھی دستیاب ہے جسے روشنی کہتے ہیں اور ہم اس کی مدد سے اپنا سلسلہ ٔ علت و معلول دوبارہ مرتب کرسکتےہیں لیکن ہمارے نہ جاننے سے کیا ہوتاہے۔ روشنی تو تب بھی موجود ہوتی، جیسا کہ بچھُو فقط چھُونے کی حس سے سے اپنے سارے اعدادوشمار مقررکرتاہے، وہ نہیں جانتا کہ آوازیا روشنی موجود ہے لیکن آواز یا روشنی موجود تو ہے۔ اسی اینالوجی کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتےہیں کہ اب بھی چونکہ ہماری حس روشنی کو محسوس کرنے تک محدود ہے اس لیے یہ کائنات اور اس کے تمام تر اعدادوشمار جو ہم نے روشنی کی مدد سے مقرر کررکھے ہیں، فقط ہمارے ہی اعدادوشمارہوسکتے ہیں۔ کسی اور کے نہیں۔ آنکھوں سےزیادہ طاقتور حِس کا ابھی ہمارے پاس تصور موجود نہیں، جیسے بعض جانداروں کے پاس آنکھوں کا تصور موجود نہیں۔ لیکن ایسا کہنا بعیدازقیاس نہیں ہوسکتا کہ ہماری آنکھوں کی حس سے زیادہ تیز حس بھی ہوسکتی ہے۔ شاید کسی اور مخلوق کے لیے کوئی ایسی حس موجود ہو۔ جیسا کہ ہم بچھوؤں کے لیے کوئی اور مخلوق ہیں اور ہمارے لیے ایسی حس یعنی سننے اور دیکھنے کی حسیں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   درست فیصلہ وہ جو بر وقت کیا جائے - حبیب الرحمن

جب یہ طے ہوگیا کہ روشنی کی رفتار کازیلٹی کی رفتار کو کہتے ہیں اور یہ کہ روشنی سے پوچھا جائے تو اس کی کوئی رفتار نہیں ہے تو پھر یہ بھی طے ہوگیا کہ ہم جتنے واقعات دیکھتے ہیں ان کی رفتار دراصل روشنی کی رفتار ہوتی ہے۔ واقعہ ہونے کی رفتار دراصل کازیلٹی کی رفتار ہے۔

اتنی ساری گفتگو سے ہمارے سامنے تین چیزیں واضح ہوکر آگئی ہیں، جن کےساتھ ہمارا سارا معاملہ ہے۔

نمبر۱۔ مکان (سپیس)

نمبر۲۔ زمانہ (ٹائم)

نمبر۳۔ روشنی

آئن سٹائن سے پہلے ہم انسان یہ سمجھتے رہے کہ روشنی کی رفتار تو تیز یا زیادہ ہوسکتی ہے لیکن زمانے اور مکان کی رفتار مستقل بنیادوں پر رُکی رہتی ہے۔ زمان و مکاں مطلق ہے لیکن روشنی مطلق نہیں ہے۔ یہ تھا ہمارا منطقی فہم آئن سٹائن سے پہلے۔ آئن سٹائن لڑکپن سے ہی ہمہ وقت سوچا کرتا تھا کہ اگر روشنی کی رفتار تیز یا سست ہوسکتی ہے تو پھر ہمیں معلوم ہوجانے والے واقعات کا سلسلہ علت و معلول بھی تبدیل ہوتے رہنا چاہیے تھا کیونکہ ہم واقعات کو روشنی کی مدد سے دیکھتے ہیں۔ اگر کسی واقعہ کے ہونے کی اطلاع روشنی کی کوئی ایکسٹرا تیز شعاع ہم تک لاتی تو وہ واقعہ کیسے نظرآتا؟ اسی طرح اگر کسی واقعہ کے ہونے کی اطلاع روشنی کی کوئی سست شعاع ہم تک لاتی تو وہ واقعہ کیسے نظرآتا؟ مثلاً ایک واقعہ کی اطلاع روشنی کی کوئی ایکسٹرا تیز شعاع ہم تک لاتی تو وہ واقعہ اپنے پیش آنے سے پہلے ہمیں نظر آنا چاہیےتھا۔ کیونکہ ہم تک اطلاع لانے والی شعاع واقعہ کی اپنی رفتار سے زیادہ تیز تھی۔ یہ ایک بے معنی بات ہے۔

یہاں تھوڑی دیر رک کر ہم یہ دیکھتے چلیں کہ روشنی کی شعاع اور دیگر انرجی کی شعاعوں میں نوعیت کا فرق ہے نہ کہ فقط رفتار یا درجے کا۔ ہم میں سے اکثر طلبہ اس غلط فہمی کو کبھی دور نہیں کرپاتے کہ روشنی اور دیگر توانائیوں میں نوعیت کا جو فرق ہے وہ دراصل کیسے ہے؟ مثلاً آواز کی موج بھی تو ایک توانائی ہے اور روشنی کی موج بھی ایک توانائی ہے۔ تو کیا آواز اور روشنی کی موجوں میں فقط رفتار کا فرق ہے؟ کیا فقط یہی فرق ہے کہ آواز کی موج سست ہے اور روشنی کی موج تیزہے اور بس؟ زلزلے کی لہر بھی تو توانائی کی لہر ہوتی ہے تو کیا زلزلے کی موج اور روشنی کی موج میں فقط رفتار کا فرق ہوگا؟ نہیں، آواز کی موج میں کوئی مواد نہیں ہوتا۔ آواز کی موج کا مواد تو ہوا ہے۔ آواز ہوا کے مالیکیولوں سے ٹکراتی ہے تو ان میں ارتعاش پیدا ہوجاتاہے۔ ہوا کے ذرّات تو پہلے سے فضا میں موجود تھے جو آواز کی موج کا مواد بن گئے۔ روشنی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ روشنی کے ذرّات پہلے سے فضا میں موجود نہیں تھے۔ روشنی خود آئی۔ دُور کسی کہکشاں میں ایک سپرنوا پھٹا۔ اس حادثے میں روشنی بھی پیدا ہوئی اور وہ روشنی چل کر ہماری آنکھوں تک آئی۔ لیکن اس سپرنوا کے پھٹنے سےجو آواز پیدا ہوئی وہ ہم تک نہ آسکی کیونکہ آواز خود کوئی مواد نہیں ہے بلکہ فضا میں ہوا کے ذرّات ہونگے تو آواز آسکے گی ورنہ نہیں۔

خیر! تو جب تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ آواز کی موج کی طرح روشنی کی موج بھی کسی واسطے یعنی میڈیم میں سفر کرتی ہوگی تب تک یہ بھی سمجھا جاتا رہا کہ روشنی کی رفتار تیز یا سست بھی ہوسکتی ہوگی۔ کیونکہ آواز کی موج جس میڈیم میں سفر کررہی ہوتی ہے اس میڈیم کو تیز کردینے سے آواز کی موج بھی تیز ہوجاتی اور تیزی سے ہم تک پہنچتی ہے۔ جیسا کہ ہم جب کسی میدان میں کھڑے ہوں اور تیز ہوا چل رہی ہو تو کسی کسی وقت دور کی آوازیں اچانک ہمیں سنائی دینے لگ جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہےکہ اب چونکہ ہوا تیز ہوگئی تو اس میں سفر کرنے والی آواز کی موج بھی تیز ہوگئی۔ لیکن روشنی کو ایسے کسی میڈیم کا دھکا نہیں لگتا۔ روشنی کو آواز کی طرح دھکا مار کر تیز نہیں کیا جاسکتا۔

اب ہم واپس اپنی پہلی گفتگو کی طرف آتے ہیں۔ ہمارے پاس تین تصورات جمع ہوچکے ہیں۔ نمبرایک، مکان۔ نمبردو، زمانہ اور نمبرتین روشنی۔ ان میں سے کسی نہ کسی کو سست یا تیز ہونا پڑیگا، لازمی طورپر۔ تینوں کے تینوں کو مستقل نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ تھی آئن سٹائن کی سوچ۔ اگرروشنی واقعات کی اطلاع دینے والی ہے تو پھر ضرور زمان و مکاں کو سست یا تیز کرکے دیکھنا ہوگا ورنہ بات نہیں بنے گی۔ ورنہ ساری ریاضی خراب ہوجائے گی۔ یہ تو بالکل ایسا ہوگا جیسے کہاجائے کہ ایک شخص اسلام آباد سے لاہور ایک رفتار پر سفر کرنے کےباوجود دو مختلف اوقات میں پہنچتاہے۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ ایک بڑے میدان میں خاصے فاصلے پر دو نشانات لگائیں۔ نشان اے اور نشان بی۔ اب نشان اے سے نشان بی تک بندوق کی گولی چلائیں۔ ظاہر ہے ایک ہی بندوق سے دوبار چلائی گئی گولی ایک جیسا وقت ہی خرچ کرےگی۔ لیکن اگر یوں ہو کہ ہربار گولی مختلف وقت خرچ کرے تو ہم کیا کہینگے؟ ماسوائے اس کے ہم کیا کہہ سکیں گے کہ ہربار زمین سکڑ جاتی رہی۔ یا ہر بار وقت سکڑ جاتا رہا۔ بس یہی آئن سٹائن نے دریافت کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت افراتفری کا - جویریہ سعید

اب ذرا لائٹ کون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید آج سمجھ آجائے۔ لائٹ کون کو پہلی نظر دیکھنے والے کے ذہن میں کنفیوژن اس لیے پیدا ہوجاتاہے کہ وہ کون کی ڈرائنگ پر غور کرنے لگ جاتاہے نہ کہ اس کے گراف پر۔ کون کو دیکھتےہوئے آپ اس کے کون ہونے یا اس کی سفیریکل ڈرائنگ کو نظرانداز کردیں۔ کون میں ایک گراف بھی ہے۔ آپ اس گراف کو بغور دیکھیں۔ یا خود گراف بنالیں۔ مثلاً ایک کاغذ پرعمودی خطوط والا کراس لگائیں پہلے۔ جیسے جمع کا نشان ہوتاہے۔ کاپی پنسل لے لیں اور ایک کاغذ پر بڑا سا جمع کا نشان لگائیں! اب جمع کے نشان کو غور سے دیکھیں۔ اس کے چار خانے ہیں۔ جنہیں کواڈرینٹس (Quadrants) کہتے ہیں۔ ایک دائیں طرف اوپر والا خانہ، دوسرا بائیں طرف اوپر والا خانہ، تیسرا دائیں طرف نیچے والا خانہ اور چوتھا بائیں طرف نیچے والا خانہ۔ یہ پورا جمع کا نشان ایک آبزرور کا فریم آف ریفرنس ہے۔ یاد رہے، صرف ایک آبزور کا۔ ایک آبزور کوئی بھی ہوسکتاہے۔ ایک انسان، ایک جانور یا ایک کیمرہ۔ ایک آبزور کا فریم آف ریفرنس اس آبزور کے ساتھ ساتھ چلتاہے ساری زندگی۔ آپ کا فریم آف ریفرنس بھی ایسا ہی ایک جمع کا بڑا سا نشان ہے۔ یہ نشان ہمارے چہرے بلکہ آنکھوں پر نصب ہے اور پیدائش سے موت تک ہمارے ساتھ چلتاہے۔ یہ ہمارا اپنا گراف ہے۔ ہر کسی کا الگ گراف ہوتاہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہرکسی کا الگ گراف ہوتاہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آبزور اپنی جگہ ساکت ہے۔ باقی ساری دنیا اس کے آس پاس حرکت میں ہے۔ ہم جب پیدل چل رہے ہوتے ہیں تو ہمارا فریم آف ریفرینس بھی ہمارے ساتھ ساتھ چل رہاہوتاہے۔ ہماری آنکھوں میں نصب یہی بڑا سا جمع کا نشان ہی ہمارا فریم آف ریفرنس ہے۔ ہم اس گراف کی رُو سے دراصل رکے ہوئے ہوتے ہیں اور ہمارے آس پاس کی چیزیں حرکت میں ہوتی ہیں۔ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ ہم رکے ہوئے ہیں؟ ثبوت یہ ہے کہ ہم اپنے فریم میں فزکس کے قوانین کو لاگو کرکے دیکھ سکتےہیں۔ مثلاً ہم کار میں بیٹھے ہوں اور کار ایک ہی رفتار سے سیدھی چل رہی ہو تو ہم جب جگ سے تھوڑا سا پانی گلاس میں ڈالیں گے تو پانی سیدھا سیدھا گلاس میں چلا آئے گا۔ وہ دائیں بائیں کو نہ چھلکے گا۔ یعنی نیوٹن کا قانون کہ کسی شئے پر جب تک کوئی بیرونی قوت اثرانداز نہ ہو وہ اپنی حالت نہیں بدلتی کے مصداق ہم پر کوئی بیرونی قوت اس وقت اثر انداز نہ ہورہی ہوگی۔ کوئی دھچکا نہیں لگےگا جس سے ہمارا جگ ہل جائے اور پانی باہر کسی ایک جانب کو چھلک جائے۔ یہ ہمارا فریم ہے۔ یہ ہمارا انرشیل فریم کہلاتاہے۔ ایک انرشیل فریم میں فزکس کے قوانین پورے اترتے ہیں۔ہماری پوری زمین بھی ہماری کار کی طرح سے ایک انرشیل فریم کی مثال کے طورپر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ ایک رُکا ہوا فریم ہے۔ بھلے زمین حرکت میں ہے۔ کار بھی رکی ہوئی ہے بھلے کارچل رہی ہے۔ رُکی ہوئی اس لیے ہے کہ کار ایک ہی رفتار سے چل رہے اور سیدھی چل رہی ہے۔ ایسے فریم کو انرشیل فریم کہتے ہیں۔ ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے آس پاس کی چیزیں حرکت کررہی ہیں۔ ہم حرکت نہیں کررہے۔ ہر آبزور رکا ہوا ہوتاہے۔ کیونکہ اسے اپنے فریم سے دنیا کو دیکھنا ہے۔ وہ باقی دنیا کو حرکت کرتاہوا دیکھتاہے۔ ہوائی جہاز کے نیچے سے زمین حرکت کررہی ہوتی ہے جبکہ ہوائی جہاز ایک ہی جگہ رکا ہوتاہے۔ بس میں ہم جس کھڑکی کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ ہمارا فریم آف ریفرنس ہے۔ اسی کھڑکی میں ہمارا بڑا سا پلس کا نشان نصب ہے جو ہمارا اپنا فریم آف ریفرنس ہے۔ یہاں تک تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ہم کسی ایک فریم آف ریفرنس کے گراف کو کسی اور آبزور کے فریم آف ریفرنس کے گراف کے ساتھ ملاکر کچھ ریاضیاتی پیمائشیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کی رفتاروں کو معلوم کرکے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔

دویا دو سے زیادہ مختلف آبزرورز کے گرافس یعنی جمع کے نشانوں کو ایک ساتھ بھی بنایا جاسکتاہے۔ تب ڈرائنگ کی شکل کیسی ہوگی؟ امیجن کریں؟ کیا سارے جمع کے نشان ایک دوسرے پر بالکل برابر برابر بِٹھائے جاسکیں گے؟ یعنی ایک جمع کا نشان اور پھر اس کے عین اوپر دوسرا جمع کا نشان؟ نہیں۔ چونکہ ہرکوئی حرکت میں ہے اس لیے جب ہم کاغذ پر بہت سارے آبزورز کے جمع کے نشانات بنائیں گے تو کسی کا نشان تو یوں ہوگا کہ سیدھا۔ یعنی جیسے سیدھا سیدھا جمع کا نشان ہوتاہے جبکہ اس کے اوپر ایک اور نشان جب رکھا جائےگا تو وہ تھوڑا سا روٹیٹ ہوکر بنے گا کیونکہ دوسرا شخص حرکت میں تھا۔ حرکت میں ہونے کی وجہ سے اس کی ’’ورلڈ لائن‘‘، رکے ہوئے شخص کی ورلڈ لائن سے مختلف ہوگی۔

یہ ورلڈ لائن کیا ہوتی ہے؟ وہی جمع کا نشان جو ہماری آنکھوں پر نصب ہے۔ اس میں اوپرسے نیچے تک جو ورٹیکل لائن ہے، وہ ہماری ورلڈ لائن ہے۔ وہی ہمارا ٹائم کا گراف ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک جمع کا نشان کس طرح کا ہوتاہے؟ ایک کراس۔ ایک لائن اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے جسے ورٹیکل لائن کہتے ہیں اور دوسری لائن دائیں سے بائیں ہوتی ہے جسے ہاریزنٹل لائن کہتے ہیں۔ ہمارے فریم آف ریفرینس والے جمع کے نشان میں ورٹیکل لائن ہماری ورلڈ لائن ہے۔ ہم جب کسی اور کو اس کے گراف سمیت دیکھنا چاہیں تو وہ صاحبِ گراف ہمیں کیسے دکھائی دے گا؟ ہماری اپنی ورلڈ لائن تو سیدھی ہے اور ہم اسے کسی قیمت پر ترچھا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں یقیناً جس آبجیکٹ کو ہم دیکھ رہے ہیں اس کی ورلڈ لائن ہمارے لیے خودبخود ترچھی ہوجائےگی۔ وہ ہماری نظرکے زاویے میں ترچھی ورلڈ لائن والا آبجیکٹ ہے اور ہم خود ورٹیکل لائن والے، جن کی ورلڈ لائن بالکل سیدھی ہے، نوّے درجے کے زاویے پر۔ دوسرا شخص یا دوسرا آبجیکٹ چونکہ ہمارے حساب سے حرکت میں ہے اس لیے اس کی ورلڈ لائن ہمارے سامنے ترچھی ہوجائے گی کیونکہ وہ ایک زناٹے سے ہمارے پاس سے گزر گیا۔ اور یوں دو مختلف گرافس ایک جگہ جمع کیے جائیں گے۔

اب مزے کی بات شروع ہوتی ہے۔ گراف چاہے کسی بھی آبزرور کا ہوگا۔ روشنی کی شعاع اس جمع کے نشان میں اپنا زاویہ ہمیشہ پینتالیس ڈگری کا ہی رکھے گی۔ ہے نا مزے کی بات؟ یہی پینتالیس ڈگری کا زاویہ دونوں طرف بنایا جائے تو جمع کے نشان پر خود بخود کون ظاہرہوجاتی ہے۔

(اف بہت لمبا ہوگیا اور ابھی لائٹ کون اور ناؤسلائس شروع بھی نہیں ہوئی۔ ویسے اِسی پلس کے سائن پرلائٹ کون بنا تو رہا تھا لیکن مضمون زیادہ لمباہوگیا! آئی ایم سوری)

Comments

ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسفہ کے استاد ہیں۔ کئی کُتب کے مصنف ہیں، جن میں چند معروف تاریخی ناول بھی شامل ہیں۔ فزکس، فلسفہ، اقبالیات، ارتقأ، جدید علم الکلام، لسانیات، اور اسلامی موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھے گئےمضامین قارئین کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.