فلسطینی سفیر، امت اور نیشن سٹیٹ - آصف محمود

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ جناب محمود عباس نے پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر کو دفاع پاکستان کونسل کے ایک اجتماع میں شریک ہونے کی پاداش میں واپس بلا کر ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم ’امت‘ کے اپنے روایتی تصور اور ’نیشن سٹیٹ‘ کی بے رحم زمینی حقیقتوں کو بیک وقت مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسی کی صورت گری کریں ۔ سوال یہ ہے کیا ہم یہ بھاری پتھر اٹھانے کو تیار ہیں یا اس بار بھی اسے چوم کر آ گے بڑھ جائیں گے؟

درست کہ ہم امت کا حصہ ہیں اور ہم چاہیں بھی تو امت کے دکھ اور درد سے لاتعلق ہو کر نہیں رہ سکتے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم ایک ’نیشن سٹیٹ‘ بھی ہیں اور ہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایک صحت مند سماج کی تشکیل کیلیے ضروری ہے کہ ’امت‘ اور ’نیشن سٹیٹ‘ کے تصورات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک پالیسی بنائی جائے لیکن ہمارے عمومی روایتی جذباتی ماحول میں یہ توازن قائم نہیں رہ پاتا۔اس توازن کے بارے میں اب ہمیں حساس ہونا ہوگا۔

فلسطین ایک انسانی مسئلہ ہے، پھر یہ مسلمانوں کا مسئلہ بھی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ عربوں کا مسئلہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے، اور مسلمانوں کا مسئلہ بھی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ فلسطین کے مسئلے کے بنیادی فریق عرب اور اسرائیل ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیری، پاکستان اور بھارت ہیں۔ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے جو ناجائز ہے اور کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے جو ناجائز ہے۔ فلسطین میں بھی اس ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت چل رہی ہے اور کشمیر میں بھی ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔

اب تصور امت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم فلسطین کے لیے سراپا خیر ہوں اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ کسی بین الاقوامی فورم پر ہم اس کے مفادات کے خلاف کسی ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں اور حتی المقدور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کی سعی کرتے رہیں۔ الحمد للہ ہم اس باب میں سرخرو رہے۔ ہم نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ ہم فلسطین کی جدوجہد آزادی کو جائز مانتے ہیں۔ ہم القدس ڈے ہی نہیں مانتے القدس ریلیاں بھی نکالتے ہیں۔ ابھی تازہ تنازعہ امریکی سفارت خانے کا یروشلم منتقل ہونے کا فیصلہ تھا۔ ہم نے پوری جرات سے بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر فلسطینیوں کا ساتھ دیا۔ ہم ان تین ممالک میں سے ایک تھے جنہوں نے امریکی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ ( یاد رہے ان تین ممالک میں امت کی قیادت کے دونوں دعویدار یعنی سعودی عرب اور ایران شامل نہیں تھے)۔

اس کے ساتھ ساتھ اب ہمارے سامنے نیشن سٹیٹ کے تقاضے بھی ہیں۔ بطور نیشن سٹیٹ یہ ضروری ہے کہ ہم عربوں کے مسئلہ فلسطین کے لیے جتنی حساسیت رکھتے ہیں وہ بھی ہمارے مسئلہ کشمیر کے لیے اتنی ہی حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر سوالات اٹھتے ہیں اور کوئی بھی نیشن سٹیٹ ان سوالات کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

چند سوالات میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ جب ہم نے فلسطین پر ناجائز قبضے کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تو جواب میں عرب دنیا نے ہمارے مسئلہ کشمیر کے لیے کیا کیا؟ ہم نے تو اسرائیل کو دشمن بنا لیا لیکن عربوں نے بھارت سے دوستی قائم کر لی اور مودی جیسے قاتل وزیر اعظم کو بلا کر اپنے قومی ایوارڈ عطا فرمائے۔ ایسا کیوں ہے؟ عربوں نے اپنے مسئلہ فلسطین کے لیے تو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بھی کافی کچھ کیا لیکن کشمیر کے لیے کچھ نہ کر سکے حتی کہ بھارت کو او آئی سی کا رکن تک بنانے چلے تھے جو پاکستان کے او آئی سی سے الگ ہو جانے کی دھمکی کی وجہ سے نہ کر سکے۔ او آئی سی کے چارٹر میں فلسطینیوں کی آزادی کی بات کی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ ایسی کوئی بات کشمیر کے لیے کیوں نہیں کی گئی؟ او آئی سی کے چار سیکرٹری جنرل میں سے ایک صرف فلسطین کے لیے ہے، سوال یہ ہے کہ کشمیر کہاں گیا؟ او آئی سی نے القدس فنڈ اور القدس کمیٹی اور القدس ڈے جیسے اقدام تو بہت کیے کشمیر کے مقتل میں تو وہ ایک وفد تک نہ بھیج سکی کیوں؟ کہنے ہی کو سہی لیکن کاغذات میں او آئی سی نے ایک عدد اسلامک آفس فار ملٹری کوآپریشن ود فلسطین جیسا ادارہ بنا دیا، کشمیر کے لیے ایسی کوئی رسم کیوں پوری نہ کی جا سکی؟ ہمارے ہاں تماشا یہ ہے کہ بجائے نیشن سٹیٹ سے متصل ان سوالات پر غور کیا جاتا، یہاں امت کے نام پر متحرک برادر اسلامی ممالک کی پراکسی کا کردار ادا کرنے والے نیک صورت گروہ الٹا پاکستان ہی کو مطعون کرتے پائے جاتے ہیں کہ کیسی ایٹمی قوت ہے جو فلسطینی مسلمانوں کے لیے کچھ کر ہی نہیں رہی۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امت کے لیے تو ہم نے بہت کچھ کیا، امت نے ہمارے لیے کیا کیا؟ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ سیاسی معنوں میں امت کا کہیں وجود نہیں، یہ صرف مولوی کے وعظ میں اور درسی کتابوں میں اپنا وجود رکھتی ہے۔

امت اور نیشن سٹیٹ میں توازن کا مطلب کیا ہے؟ مطلب بہت واضح ہے۔ ہم امت کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے اور ہم امت کے موہوم تصور میں اپنے نیشن سٹیٹ کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔

اب آئیے اس معاملے کی طرف کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سفیر کو واپس بلا لینے کے اس فیصلے پر ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

فلسطین نے حافظ سعید کے ساتھ ایک جلسے میں شریک ہونے پر صرف سفیر واپس نہیں بلایا بلکہ فلسطینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فلسطین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے کردار کو سراہتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف کہاں لڑ رہا ہے؟ کیا کشمیر میں بھارتی درندگی کو فلسطینی اتھارٹی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سمجھتی ہے؟ ہم فسلطین کی جدوجہد آزادی کی جنگ کو دل و جان سے عزیز رکھی، لیکن فلسطین ہماری کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے دے، اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے گھر میں آگ لگی ہے - موسیٰ مجاہد

عربوں نے پہلے یہی کام سلطنت عثمانیہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر کیا، اب وہ اسی حسن سلوک کا نشانہ ہمیں بنا نا چاہیں تو یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینی اتھارٹی سے کہہ دیا جائے کہ نیا سفیر بھیجنے میں جلدی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، پہلے اپنی پوزیشن واضح کی جائے۔ آپ ہماری جدوجہد آزادی کشمیر کو جس نظر سے دیکھیں گے، ہم بھی فلسطین کے کاز کو اسی نظر سے دیکھیں گے۔ ہمارا لہو تمہارے لہو سے کم تر نہیں اور تمہارا خون ہمارے خون سے افضل نہیں۔ جیسے تمہاری جدوجہد آزادی ویسی ہماری جدوجہد آزادی۔ ہم آپ کے خیر خواہ ضرور ہیں لیکن ہم آپ سے محبت کرتے ہیں آپ کی بندگی نہیں کرتے۔

قوموں کے تعلقات احترام باہمی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ نص شرعی میں کہیں نہیں لکھا کہ فلسطین کی تحریک تو بہت افضل ہے اور کشمیر کے لہو کی کوئی قیمت نہیں۔ دونوں جگہوں پر ظلم ہو رہا ہے اور دونوں جگہوں پر ہونے والے ظلم کی مذمت ہونی چاہیے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی کشمیر کے مسئلے کی طرح ہے اور کشمیر کا مسئلہ فلسطین کے مسئلے جیسا۔ یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایسا نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ تو محض زمین کا مسئلہ ہو اور فلسطین کا مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ ہے۔ ( اس نکتے پر ہو سکتا ہے، میں ایک تفصیلی کالم میں اپنی گذارشات پیش کروں) بنیادی طور پر دونوں مسائل سیاسی ہیں اور دونوں جگہوں پر ظالم قوت قابض ہے۔

بعض لوگ یہ عذر پیش کر رہے ہیں کہ دیکھیے صاحب یہ حماس کا نہیں، یہ تو الفتح کے محمود عباس کا فیصلہ ہے جو سیکولر ہیں۔ یہ عذر کمزور ہے۔ ہمارے لیے یہ صرف فلسطینی اتھارٹی کا فیصلہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی سیکولر لوگ ہی حکومتوں میں رہے، اسلامی انقلاب تو ہمارے ہاں بھی نہیں آیا، لیکن ہم نے اسرائیل کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔

کیا ہم امت مسلمہ کا حصہ ہونے کا انکار کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
تو کیا ہم امت مسلمہ کے مزارع ہیں؟ ہرگز نہیں۔

بات بہت سیدھی سی ہے۔ فلسطین اگر کشمیر کی جنگ میں بھارت کے ساتھ کھڑا ہے تو جواب میں، میں فلسطین کی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ تو کھڑا نہیں ہو سکتا لیکن میں یہ سوچنے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ مجھے فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محمودعباس کابہائی مذہب سے تعلق ہے اس سے کیا گلہ اور امت توہے ہی سرحدوں رنگوں نسلوں تمام عصبیتوں سے ماورا ہو کر ایک اللہ کی غلامی کی نسبت سےیکتائی کا نام