ہم نے نیو ایئر نائٹ منائی - انعام الحق

جی ہاں! عنوان میں کوئی غلطی نہیں، یہ بالکل صحیح لکھا ہے۔ ایک بار پھر پڑھ لیں یہی لکھا ہے نا کہ ہم نے نیو ایئر نائٹ منائی؟ اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے؟ میں اکیلا تو نہیں تھا، مجھ جیسے سینکڑوں تھے، جوان تو تھے ہی تھے، بوڑھے بھی چلے آئے تھے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ اوپر والی منزل میں خواتین کی بھی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ قمقمے بھی تھے اور جگ مگ جگ مگ روشنیاں بھی، دل جھوم رہے تھے، تو سماعتوں کی مستی کا سامان بھی موجود تھا۔

لیکن تھی یہ ایک مختلف طرز کی نیو ایئر نائٹ! کیوں کہ اس کا انعقاد عین مسجد کے اندر کیا گیا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد شروع ہونے والی یہ محفل، ترکی کے مایہ ناز قاریوں کی تلاوت سے شروع ہوئی، حمد ونعت کے نذرانے بھی پیش ہوئے، عشاء کی اذان تو اتنی خوبصورتی سے ادا کی گئی کہ سماں ہی بندھ گیا۔ عشاء کی نماز کے بعد چائے کا وقفہ تھا، پھر تلاوت سے دوبارہ محفل کو رنگین کیا گیا، امام مسجد نے مختصر سے بیان میں آنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس پروگرام کا مقصد صرف کس صف میں ہونے کا اظہار ہے۔ ان کے بعد سکاریہ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ابوبکر صوفو اوغلی کا پرمغز بیان سننے کو ملا۔ بیان کے بعد قرآن کی چودہ آیات سجدہ کی تلاوت اور ہر آیت کے ساتھ ساتھ سجدے کے نذرانے پیش کیے گئے، جس کے فوراً بعد امام مسجد نے جو دعا کو ہاتھ اٹھائے تو دل بار بار یہی کہہ رہا تھا کاش دعا ختم نہ ہو، کچھ مزید لمبی ہوجائے۔ دعا سے دل کی کیفیت ایسی تھی جیسے گارے مٹی کے ڈھیر کے اندر سے کوئی بلبلہ اس ڈھیر کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔ آخر میں مختصر ضیافت کا اہتمام تھا۔ اتنے ٹھنڈے موسم میں اتنے افراد کا شریک محفل ہونا یقیناً پرامید مستقبل کی نوید تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   شامی خانہ جنگی میں عالمی طاقتوں کے مفادات اور ترکی کا مسیحانہ کردار - محمد ایاز

اور ہاں! یہ بھی ذہن میں رہے یہ سب کچھ ایک ایسے وطن میں ہوتے دیکھا، جس کی گزشتہ ایک صدی، مغربیت، سیکولر ازم اور لا دینیت کی دبیز تہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہے، جہاں لوگ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھتے اور اس کے لیے علیحدہ لباس رکھتے تاکہ خالق کائنات کے سامنے کیے گئے سجدوں کے نشانوں کی چغلی کھاتے کپڑے مشکلات کا باعث نہ بن جائیں، جہاں مسجدیں بند اور اذانیں بدلی گئی تھیں۔ یہ سکاریہ یونیورسٹی کی جامع مسجد کی بابرکت محفل تھی۔ گزشتہ سال اسی رات فتح مکہ کے عنوان سے شہر کے سب سے بڑے ہال میں پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس میں کم وبیش ۵۰۰۰ افراد نے شرکت کی تھی۔

پروفیسر ابوبکر صوفو اوغلی کا طویل بیان تھا جس کا خلاصہ بوسنیا کے عظیم لیڈر علی عزت بیگویچ کا وہ قول ہےجس سے پروفیسر صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا، انہوں نے فرمایا تھا: "انسان مارے جانے سے نہیں ہارتا، دشمن جیسا ہوجا نے(اس کی تقلید کرنے سے) سے ہار جاتا ہے"۔ اور پھر پوری تقریر اسی کی تشریح بنی رہی۔ آپ نے اس نکتے پربھرپور زور دیا کہ ہماری عزت، ہمارا رعب، ہماری کامیابی کتاب اللہ سے وابستہ ہے، مغرب اسی کو ہم سے چھیننا چاہتا ہے اور اس کے لیے دو راستے استعمال ہورہے ہیں پہلا جدیدیت اور ماڈرن ازم کا راستہ ہےجس میں ہر چیز میں اپنی تقلید کروانا چاہتے ہیں۔ دوسرا راستہ دینی ہے، جس میں سنت وحدیث کوناقابل اعتبار قرار دے کر قرآن پر دست درازی کی کوششیں جاری ہیں، سنت و حدیث دراصل فہم قرآن کی سب سے اہم کڑی ہے، یہی قرآن کے معانی کی محافظ ہے۔ اگر اہل اسلام نے اس مورچے کو خالی چھوڑ دیا تو اگلا قدم ایسے مسلمانوں کی صورت میں اٹھے گا جو قرآن کے مکمل ہونے اور اس کے قابل اعتبار ہونے پر انگلیاں اٹھانے کے باوجود خود کو مسلمان کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی تارکین وطن کے مسائل - مفتی منیب الرحمن

جس ملک میں مذہب کو زندگی کے ہر گوشے سے نکالنے کی کوشش کی گئی، وہاں کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر کو قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے دیتے ہوئے دل میں خوشی کی جو لہریں اٹھ رہیں تھیں،ان کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد، اور خاص طور پر ایسے موقعوں پر انعقاد کہ جب باطل طاقتیں اپنا سودا لیے بازار میں نکل کھڑی ہوں، متاثر کن ہے، یہ ان کوششوں میں سے ایک کوشش ہے جس کے ذریعے ترک اہل درد اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ کرنے میں مصروف ہیں، مسجد میں، اور گزشتہ سال اس وسیع وعریض حال میں جوانوں کی کثیر تعداد کو دیکھ کر اس مقصد میں کامیابی کے دیے روشن دکھائی دیے۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.