نظریہ نہیں نظام بدلیں - ثمینہ رشید

فارسی کا ایک محاورہ ہے خطائے بزرگان گرفتن خطاست کہ بزرگوں کی غلطیوں کی گرفت خود ایک خطا ہے۔ ہمارے معاشرے کے دانشوروں نے اس مثال پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کی ٹھان لی ہے اور بزرگوں یعنی حکمرانوں کی غلطیوں پہ گرفت کرنے کو ایک خطا ہی سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دانشور اس خطا سے بچنے کی بھرپور شعوری کوشش کرتے رہے ہیں اور بزرگوں سےآشیرباد وصول کرنے پر ہی اپنی خدمات موقوف رکھتے ہوئے ان کے سکھائے گئے سبق قوم کو سکھانے پر کمربستہ ہیں۔

اس ضمن میں نظریاتی سیاست اور جمہوریت کے چیمپئن کے حق میں لکھی گئی تحریروں کے بعد صحافت کی دنیا کے آغاز ہوا ہے نئی بحث کا۔ جس کا موضوع ہے اسلامک سیکولرازم۔ اب تک تو ہم سیکیولرازم کے حق اور مخالفت میں ہی دلائل سنتے آئے تھے کہ سیکیولرازم کی اس نئی جہت نے صورتحال کو آسان کرنے کی بجائے مزید مشکل بنادیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ سیکیولرازم ہو، اسلامی نظام ہو یا اسلامی سیکیولرازم۔ ملک میں ان میں سے کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے بعد اگر آپ کسی مثبت تبدیلی اور مثبت معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں تو اس کے پیچھے کیا دلائل ہیں؟ فرض کریں کل ہی کل میں دو تہائی اکثریت سے ملک میں سیکیولرازم نافذ ہوجاتا ہے تو بقول سیکیولرازم کے حامی لوگوں کے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں رہتا۔ معاشرے میں اجتماعی دانش کے اصول کے تحت قانون سازی کی جاتی ہے فرد کو ہر قسم کی آزادی بھی مل جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی گزارے اور ریاست مذہبی طود غیر جانبدار بھی ہوجاتی ہے۔ تو کیا ملک کے بیس، بائیس کروڑ عوام میں آپ اس تبدیلی کو نافذ کرسکیں گے؟ موجودہ ذہنی استعداد اور مائنڈ سیٹ کے ساتھ جو کہ ہماری عوام کی ہے آپ کو مثبت اور مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں گے؟ اسی طرح اسلامسٹ اگر فرض کریں کہ آپ ملک میں اسلامی نظام لے آتے ہیں اور ملک میں بیشتر انتظام اسلامی اصولوں کے تحت چلانے کی آپ بھی کوشش کرلیتے ہیں تو کیا عوام کے موجودہ مائنڈ سیٹ کے ساتھ آپ اسلامی نظام کے ثمرات حاصل کرسکیں گے؟

در اصل اس پوری بحث و مباحث میں جس چیز پر فوکس کیا جارہا وہ اصل مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں اور جب آپ کسی مرض کی درست تشخیص ہی کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا علاج کیونکر ممکن ہوگا؟

درست تشخیص کے بغیر نظام کی کوئی بھی تبدیلی بار آور نہیں ہوسکتی۔ کسی مریض کے زخموں کے علاج کے کرنے کے بجائے اس کو صرف اچھا لباس پہنا دینے سے اس کے زخم چھپ تو سکتے ہیں لیکن مندمل نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح کسی بھی نئے نظام کو اپنا کر ملک کی کایا پلٹنے والوں یا کوئی مثبت تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کی حیثیت دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرض آخر ہے کیا؟

ہماری سوسائٹی کا بنیادی مرض کو سمجھنے کے لیے اس کا تفصیلی تجزیہ کرکے معاشرے سے جڑے نفسیاتی، معاشرتی اور مذہبی عوامل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ صرف معاشی طور پر تقسیم معاشرہ نہیں۔ سیاسی و غیر سیاسی حکمرانوں نے اپنی غلط پالیسیوں سے اس ملک کی عوام کو نظریاتی و مذہبی طور پر تقسیم کردیا ہے۔ جس ملک کا نام ہی اسلامی جمہوریۂ پاکستان ہو اور جس کے ستانوے فیصد عوام مسلمان ہوں وہاں گہری ہوتی مندرجہ بالا خلیج کے اسباب دریافت کرکے اور ان کو رفتہ رفتہ ختم کرکے ہی کسی نظام کے نفاذ اور مثبت نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ نظریاتی خلیج کیا ہے اور اس کی بنیاد کیسے پڑی؟

ذرا پاکستانی سیاست کی تاریخ پہ نظر دوڑائیے پاکستان کی سیاست کےمدوجزر میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ دینی جماعتوں کا رول بھی قابل زکر رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹئیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پہ قائم ان دینی جماعتوں کو بوقت ضرورت باآسانی نہ صرف سیاسی جماعتوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بلکہ اقتدار پہ قابض ہونے والے آمروں نے اس سے بھی بڑے مقاصد کے حصول کے لیے بھی انہی کو آلۂ کار بنایا۔ روس کے افغان میں قدم رکھنے سے لے کر اس کے ٹوٹنے تک کی جنگ مذہبی جماعتوں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر لڑی گئی۔

سب سے پہلے یہ سوچیے کہ دینی جماعت کیوں؟ ہم الحمداللہ ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں جس کی ستانوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہر مسلمان ایک اللہ ایک رسول پر یقین رکھتا ہے اور کلمہ گو ہے۔ پھر کسی سیاسی جماعت کو مذہب کے نام پہ بنائے جانے کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ مسلمان معاشرے میں ایک تقسیم نہیں؟ کیوں مدرسے سے فارغ التحصیل ایک عام سیاسی کارکن نہیں ہوسکتا یا عام سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا؟ اسے مذہب کا ٹیگ کیوں درکار ہے جب کہ یہ ایک اسلامی ملک ہی ہے؟

اس پر غور کریں تو بہت سی گتھیاں خود بخود سلجھ جاتی ہیں۔ یہ خلیج معاشرے میں صرف ایک مختلف نظام تعلیم کی وجہ سے ہے۔ دینی علم کو دنیاوی علم سے علیحدہ کردینے کے عمل کی وجہ سے ہے۔ جب کہ اسلام اور قرآن اس طرح علم کو تقسیم نہیں کرتا۔ رب کریم کہتا ہے کہ کیا تم اس کائنات پہ غور نہیں کرتے کس طرح اس کا نظام چل رہا ہے۔ کیا رسول پاک نے نہیں فرمایا کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے اسے جہاں سے بھی ملے حاصل کرو تو پھر اس ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کو مختلف تعلیم کے نام پر عام لوگوں سے الگ کیوں کردیا گیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کیا یہ تقسیم واقعی تعلیم کے نام پر ہے یا اس کا کوئی سیاسی مقصد بھی تھا یہ ہے؟ کہیں یہ سب انگریز کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کا تسلسل تو نہیں؟

یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ملک میں پیدا ہونے والی نسلوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مدرسے سے پڑھ کر نکلنے والے ایک الگ ہی دنیا میں رہتے ہیں جن میں سے چند فیصد خوش نصیب ہی ہوتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اگر آگے نکل بھی جاتے ہیں تو بھی انہیں اسلامی کونسل اور رویت ہلال کمیٹی تک محدود کردیا جائے گا۔ دوسری وہ کلاس ہے جو ٹاٹ پہ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے گی اور ان میں سے جو لوگ پڑھ لیں گے وہ نچلے درمیانے درجے کی ملازمتیں کرکے اشرافیہ کی خدمت انجام دیں گے۔ ان میں سے ایک دو فیصد ایسے خوش نصیب بھی ہوں گے جو جان توڑ محنت کرکے خود کو اشرافیہ کی لائن میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مڈل کلاس کے بچے جو سرکاری سے کچھ درجے بہتر اسکولوں میں پڑھ کر ڈاکٹر، انجنئیر وکیل اور منتظمین کی سطح کے کام انجام دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کے اثرات - امیر بی بی

اس کے بعد جو غربت کی لکیر سے نچلی سطح پر پیدا ہوں گے ان کی زندگی اس لکیر تلے دب کر کسی نہ کسی طرح گزر جائے گی۔

اب آخری طبقہ بچا اشرافیہ کا۔

یہ سارے اوپر بیان کی گئی کیٹیگریز دراصل اس اشرافیہ کے کاموں کے لیے ہی بنے ہیں اور اپنی زندگی اور تقدیر کے فیصلوں کے لیے ان کی طرف دیکھنے پر مجبور۔ یہ سیاست دان، جاگیردار، بیورو کریٹس، اعلیٰ عہدوں پہ فائز سرکاری عہدے داران جن کے مفادات کے سرے آپس میں ایسے ملے ہوتے ہیں کہ بظاہر ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کر بھی اندر سے سب کی جڑیں مفادات کے ایک ہی درخت سے جا ملتی ہیں۔

دنیا میں ہر ترقی یافتہ قوم کی ترقی کا راز ڈھونڈیں تو اس میں ایک چیز ضرور مشترک ہوگی ان کا اپنے بچوں کے لیے تعلیمی ڈھانچہ

اب اس سیٹ اپ کے ساتھ تبدیلی کون لائے گا :-

تبدیلی اشرافیہ سے نیچے کے سارے طبقے مل کر لاسکتے ہیں نہ صرف غربت کی لکیر سے نیچے زندہ لوگوں کی زندگیوں میں بلکہ اپنی اور اس ملک کی اکثریت کی زندگیوں میں۔

لیکن اس تبدیلی سے خوفزدہ اشرافیہ نے معاشرے کے ان سارے طبقات کو بڑی خوبی سے تقسیم کرکے ان کی طاقت کو منتشر کردیا ہے۔ اس طرح ستر سال ہوئے عوام کی بہتری کا سفر دائروں پہ مشتمل ہے اور طبقات کی ذہنی اور فکری تقسیم گہری ہوتے ہوتے زہر آلود ہوتی جارہی ہے۔

لیکن کیا وجہ ہے؟ آخر ہم عوام اس سازش کا مستقل شکار کیوں ہیں؟ ہم اس تقسیم کو اور خلیج کو ختم کرکے ایک دوسرے کے قریب کیوں نہیں آتے؟

ہماری زبان، رنگ و نسل اور قومیت صرف ہماری پہچان ہے، اسے ہماری تقسیم کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔

اس سارے قضیے کی جڑ ہے نظامِ تعلیم۔ دنیا میں ہر ترقی یافتہ قوم کی ترقی کا راز ڈھونڈیں تو اس میں ایک چیز ضرور مشترک ہوگی ان کا اپنے بچوں کے لیے تعلیمی ڈھانچہ۔ جہاں ان کی ذہن سازی اور کردار سازی کی جاتی ہے۔ یعنی نئی جنریشن کو گائیڈ لائنز فراہم کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں بھی اس نظریاتی تقسیم کو صرف اور صرف ہمارا ایک تعلیمی نظام ہی دور کرسکتا ہے۔ مذہبی تعلیم کے نام پر بچوں کے ایک تہائی تعداد اگر مدارس میں پروان چڑھائی جائے گی جہاں انہیں قومی اور تعلیمی دھارے سے الگ کردیا جائے گا تو ان سے یہ توقع کیونکر کے وہ بڑے ہوکر قومی دھارے میں شامل ہوسکیں گے۔

ہم مدارس میں ایک تہائی بچوں کو پڑھا کر ان کو قومی ذہن سازی، کردار سازی، معاشرے کے عام اور مروجہ نظام سے الگ کرکے انہیں عام معاشرے اور انسانوں سے بالکل علیحدہ کردیتے ہیں۔

مدارس میں پڑھنے والے بچے جنہیں مذہبی تعلیم دینے کے ساتھ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ علم وہی ہے جو وہ حاصل کر رہے ہیں اور دنیاوی علم نعوذباللہ شیطانی علم ہے۔ خود کو نیک پاکیزہ اور برگزیدہ سمجھنے والے یہ بچے آہستہ آہستہ خود کو عام معاشرے سے دور کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح ان کی ذہن سازی کا عمل ایک مختلف ٹریک پر کردیا جاتا ہے۔

دوسری طرف اسکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی خود کو ان سے زیادہ ماڈرن اور اسمارٹ کردانتے ہوئے مذہبی اور مدارس کے ماحول میں پڑھنے والے بچوں سے ذہنی اور سماجی طور پر میلوں کی دوری پر ہوتے ہیں۔

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، کیا وجہ ہے کہ ہم دینی تعلیم اسکول کی تعلیم کے ساتھ نہیں دے سکتے؟ جہاں تمام طالب علموں کو اسلام کا ایک ہی نصاب پڑھایا جاسکے؟ جن بچوں کو آگے جاکر اسلامی نظام تعلیم میں اپنا مستقبل بنانا ہو، ان کے لیے نویں جماعت کے سبجیکٹس میں اسپیشل اسلامی فقہہ اور احادیث پر مشتمل ایک گروپ کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جنرل، سائنس کامرس اور کمپیوٹر سائنس کے گروپس ہیں۔ اسی گروپ کو آگے بڑھا کر کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک مذہبی تعلیم کی فراہمی کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ صرف اسی طرح اس ملک کی بڑی اکثریت کے بچے ایک ساتھ ایک ہی ٹریک پر رہتے ہوئے تعلیم حاصل کریں گے۔ اور ان میں نظریاتی خلیج نام کی چیز پروان نہیں چڑھ سکے گی۔

اسلام رہبانیت کا مذہب نہیں۔ نہ دینی و دنیاوی تعلیم کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام کی روشن خیالی، جدت، ریسرچ اور غوروفکر کے پیغام کو بھلا کر ہم ایک اپنی نوجوان نسل کی ایک بڑی اکثریت کو مذہب کے نام پر کونے میں دھکیل چکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ کام ان سے جبرا کرایا جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے انمول ذہن اور ان کے خواب مدرسے کی راہداریوں میں اور ٹوٹی چھت اور ٹاٹ والے اسکولوں کی چار دیواری میں دفن ہوجاتے ہیں۔

آپ اپنے ملک کو بدلنے کا خواب دیکھتے ہیں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو آغاز آج کے پرائمری کلاس کے بچوں سے کریں۔ اس ملک میں "یکساں" نظام تعلیم قائم کرنا پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ اسکے لیے سرکاری اور پرائیوٹ اسکول کے نصاب کو یکساں بنایا جائے تاکہ سرکاری اسکول اور پرائیوٹ اسکول کا طالب علم ایک جیسی تعلیم حاصل کرے۔ مدرسوں کو اگلے دس سال میں بتدریج اکیڈمیز کا درجہ دیا جائے اور اس میں کام کرنے والے اساتذہ کی تعلیمی استعداد بہتر بنا کر انہیں بھی اسکول ٹیچرز کی طرز پر نوکریاں فراہم کی جائیں۔

سرکاری اسکولوں کے نصاب کی مکمل اوور ہالنگ کی جائے اور انہیں جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ تمام اسکول و مدارس آپس میں جدید بنیادوں پر کنینکٹڈ ہوں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی جدید سہولتوں کے ساتھ ای لائبریریز کا قیام اگر عمل میں لایا جائے تو کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ کم لاگت میں پورے پاکستان کے اسکولوں کے بچوں کو حاصل ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً اگلے دس سے پندرہ سال کے بعد آپ کی نسل میں ایک انقلابی تبدیلی آئے گی۔ ایک ہی سطح پر کھڑے ہوکر چیزوں کو جانچنے اور ان پر رائے قائم کرنے کا شعور۔ تب آپ کسی بھی نظام کے یکساں نفاذ اور اس کے مثبت ثمرات پر بحث کرتے مناسب لگیں گے۔ ب

جس طرح کے اسلامی سیکولرازم کا نسخہ متعارف کرانے کے خواہشمند بہت سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے انڈونیشیا کی مثال پیش کرتے ہیں۔ کیا انڈونیشیا کی جغرافیائی حیثیت کا پاکستان سے مقابلہ ممکن ہے؟ کیا انڈونیشیا میں پاکستان کی طرح کے موجودہ چیلیجز کا سامنہ ہے؟ کیا انڈونیشیا کی دو سرحدیں اس طرح غیر محفوظ ہیں جیسے ہماری؟ کیا انڈونیشیا کا بنیادی تعلیمی ڈھانچہ اتنا ہی بدحال ہے جیسا کہ ہمارا؟

ایک کے بعد ایک سوال اٹھتا ہے۔ لیکن اگر ہم صرف ایک فیکٹر ہی اُٹھائیں جو کہ اوپر بیان کردہ مرض کی تشخیص اور حل کے حق میں ایک مستند دلیل ثابت ہوتا ہے تو وہ ہے انڈونیشیا کا لٹریسی ریٹ یا شرح تعلیم۔

یہ بھی پڑھیں:   شعبۂ تعلیم اور نظام تعلیم ۔۔۔توجہ اور خاطر خواہ اقدامات کے منتظر - محمد ریاض

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت انڈونیشیا کی شرح تعلیم 93.9 فیصد ہے۔

یعنی ایک چیز تو ثابت ہے کہ نظام کی تبدیلی اذہان کی تبدیلی سے ممکن ہے اور ذہن سازی ہی ہے قوموں کی تعمیر کرنے میں سب سے اہم ہتھیار ملک کی اکثریت کے لیے یکساں اور جدید تعلیم نظام کی فراہمی ہے۔

اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ شاید اس حل کے ذریعے مدرسوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایسا قطعی نہیں بلکہ جدید بنیادوں پر تعلیم کی فراہمی ہماری نسلوں میں آج کا ذہنی فاصلہ ختم کرکے انہیں شعور و بیداری اور ترقی کے یکساں رستے پر گامزن کرسکے گی۔ ہمیں مولوی کو لوگوں کے گھروں کے نذرونیاز پر نہیں چھوڑنا اسے معاشرے کا ایک فعال رکن اور ایک استاد کا درجہ دلوانا ہے جو کسی مغالطے اور کم علمی کے باعث کسی دوسرے کو کمتر یا خود کو برتر جانے بغیر ہمارے معاشرے کا حصہ بن سکے۔

یہ تو ہوا ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے مرض کا ایک پہلو اور اس حل کی تجویز۔ اس مرض کے دوسرے اہم پہلو کا تعلق ہمارے قانونی نفاذ کے نظام سے ہے۔ ان سیاسی لیڈرز سے ہے جنہیں گمان ہے کہ عوام نے انہیں جمہوری طریقے سے منتخب کیا اور انہیں ملک کی حکمرانی کا شرف حاصل ہوا۔ اور جنہوں نے کبھی یہ ثابت نہیں کیا کہ انہیں اقتدار یا پیسے کی ہوس سے زیادہ ملک عزیز تھا۔ بغیر کسی مخصوص پارٹی کو نشانہ بنائے اس سیکشن میں ہم مقتدر لوگوں کی ان پالیسیز پہ بات کریں گے جنہوں نے ہمارے ملک کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک میں آنے والے حکمرانوں کی اکثریت نے اقتدار میں آتے ہی سب سے زیادہ فوکس زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے اور اداروں کو کمزور کرنے کا کیا۔ جو بھی اقتدار میں آیا ملک کو ترقی دینے والی حقیقی پالیسیز کی جگہ چل چلاؤ والے نظام سے کام چلانے کر ترجیح دی۔ ذاتی طاقت کے حصول کے لیے اداروں کو نہ صرف کمزور اور زیر نگیں کیا بلکہ انہیں سیاسی جانبداری کے غلیظ کھیل میں بھی شامل کیا گیا۔

موجودہ جدید ریاست کے حصول کے پیچھے صدیوں کی جدوجہد ہے۔ ریاست کے قیام کا مقصد انسان کے اپنے زاتی طاقت و اختیار کو ریاست کے سامنے سرنڈر کرکے اپنے لیے بے خوف بغیر کسی جبر کے زندگی گزارنے کے حقوق کا حصول تھا جہاں خونریزی اور خوف کے سائے میں جیتے انسان کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمے داری تھی۔ کسی ظلم یا ناانصافی کی صورت میں عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا دینا ریاست کے قیام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک تھا۔ صدیوں کے بعد آج ریاست کا تصور و مقاصد متعین ہوچکے ہیں۔ ریاست کے جہاں آزادی رائے، جان و مال کا تحفظ، بنیادی حقوق کی فراہمی اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانا ریاست کے انتظام کو چلانے والے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن پاکستان میں مندرجہ بالا حقوق میں سے شاید ہی کسی حق سے عوام مکمل طور پر مستفید ہو پارہے ہیں۔

حکمرانوں کی کوتاہ بینی اور زاتی مفاد کے تحفظ کی پالیسیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کا دانشور طبقہ خود کو سیاسی وابستگیوں سے آزاد کرکے اس ملک کی عوام کی فلاح کے بارے میں عملی طور پر کچھ کرنے کا سوچیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے متوازن سوچ کے حامل لوگوں پر مشتمل ایک تھنک ٹینک کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جو سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر زمینی حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے ملکی نظام کی بہتری اور ریفارمز کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ چند اصلاحات جن کا ملک میں ہنگامی طور پر نفاز انتہائی اہم ہے۔ وہ درجِ زیل ہیں:-

۱- قومی مفاد اور ملک کی ترقی کے حوالے سے اداروں کو غیرجانبدار اور مضبوط بنانے کے حوالے سے تجاویز مرتب کی جائیں۔

۲۔ ملک میں بدحالی اور انتشار کا بنیادی سبب موجودہ قوانین کا مکمل نفاذ نہ ہونا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز مرتب کیں جائیں جس سے اداروں کی مضبوطی، قانون اور انصاف کی فوری اور یکساں فراہمی کے موثر نفاذ کو ممکن بنایا جاسکے۔

۳- ملک میں پھیلائی گئی سیاسی، مذہبی قومی اور لسانی منافرت کے خاتمے کے لیے سخت قانون سازی کی جائے۔

۴- انتہا پسندی کے جن کو قابو کرنے لیے نفرت انگیز لٹریچر اور تقاریر پر پابندی عائد کی جائے۔

۵- کسی بھی سیاسی، مسلکی، مذہبی اور لسانی بنیاد پر منافرت پھیلانے کے مجرم افراد اور تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے۔

۶- ہیٹ کرائم کو ختم کرنے کے لیے اس پر سخت سزا کا ہونا ضروری ہے صرف اسی طرح معاشرے میں انتشار میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ۷-ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

۹- مذہبی منافرت پھیلانے سے روکنے اور ایک دوسرے کے مسلک کا احترام ممکن بنانے کے لیے پرائمری اسکول کے بچوں کےسلیبیس میں اخلاقیات کے بنیادی اصولوں کو متعارف کرانے کا اہتمام کیا جائے۔

۱۰- سرکاری اداروں اور محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے نظام میں موجود سقم کو دور کیا جائے۔

۱۱- ملک میں قانون سازی کے ذریعے شخصیت پرستی اور سیاسی موروثیت کا خاتمہ ممکن بنانے کا لائحہ عمل بنانے پر کام شروع کیا جائے۔

۱۲۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کو قانونی طور پر پابند کرنے کے لیے قانون سازی کی تجاویز پیش کی جائیں۔ تاکہ اختیارات ایک فرد یا خاندان تک مرتکز ہونے کا سلسلہ ختم کیا جاسکے۔ ملک میں توانا اور نئی لیڈر شپ آنے کے سلسلے کو قائم رکھا جاسکے۔

۱۳- اس سلسلے میں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طلباء یونین اور غیر جماعتی صحت مند سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے۔ ۱۴۔ ملک کو فوری طور ہر چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے تاکہ عام لوگوں کی فلاح وبہبود کی ذمہ داری لوکل انتظامیہ کے پاس ہو۔

یہی وہ انقلابی اقدامات ہیں جن کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔ تبدیلی کسی سطحی نظام کے نفاذ سے نہیں بلکہ ان مسائل کے خاتمے سے ممکن ہے جو خرابی کا سبب ہیں۔ زمین کی آبیاری اور تیاری کے بعد بیج ڈالیں جائیں تو اس سے نکلنے والے درختوں کے ثمر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ کسی بھی طرح کا نظام لے آئیں اس کی حیثیت جڑ کے بغیر ایک نمائشی درخت سے زیادہ نہ ہوگی جس سے پھل کی امید رکھنا فرزانگی نہیں۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.