ہر جدید لذیذ نہیں ہوتا! - نصیرالدین قاسمی

"کل جدید لذیذ " عربی کا بہت گھسا پٹا مقولہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ لوگ عموماً ہر نئی چیز کی طرف لپکتے ہیں ؛ لیکن اس کلّیے سے افکار و خیالات اور طریق ہائے زندگی کو ہمیشہ مستثنیٰ مانا گیا ہے۔ آپ پرانے بت کی جگہ نیا بت رکھ دیجیے، پجاری کچھ دن کے لیے "بڑا پجاری" بن جائے گا لیکن آپ بت کی جگہ ایک خدائے واحد کی عبادت کی دعوت پیش کیجیے پورا معاشرہ آپ کا دشمن بن جائے گا۔ زمین کو گول کہا گیا حالانکہ گول یا چپٹی ہونے سے معاشرت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ کہنے والوں کو تختۂ دار تک چومنا پڑ گیا تھا کیونکہ یہ پرانی سوچ کے مخالف تھا۔

آپ اپنے محدود معاشرے اور ماحول میں ذرا نیا آئیڈیا نئی سوچ پیش کر کے دیکھیے گا لوگ کس طرح آپ کے مخالف بنتے اور اس فکر کا مذاق اڑاتے ہیں "أهذا الذي يذكر آلهتكم" تمام علمائے بلاغت کا اتفاق ہے کہ آیت میں (جو کہ کفار کا قول ہے) نبی مقبول کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

کسی بھی نظام میں ، خواہ وہ معاشرتی ہو خواہ علمی اور ادبی اور تعلیمی ہو۔ خواہ سیاسی اور حکومتی ، آپ نیا اصول اور نئی سوچ سامنے لائیے، پھر دیکھیے لوگ کس طرح آپ کی مخالفت اور اس سے آگے عداوت پر اتر آتے ہیں۔

"کل جدید لذیذ" کا کلیہ یہاں آکر بالکل کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ سال پہلے کہیں پڑھا تھا کہ امریکہ میں بھی ایسے لوگ مل جائیں گے جنھیں اب تک اس بات میں شک ہے کہ انسان چاند پر جا کے آیا ہے۔ ہندوستان کو تو رہنے ہی دیجیے یہاں کی روایات پرستی اور واہیات عالم آشکار ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مخالفت کے باوجود لوگ آہستہ آہستہ اس سوچ اور نظریہ کی طرف بڑھتے رہتے ہیں۔ زمین کو گول تسلیم کر ہی لیا، بتوں کی مخالفت کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہ کر سکنے والے آہستہ آہستہ بت شکن بن ہی گئے اور معاشرے کی کتنی ہی رسومات کو پاش پاش ہوتے اور ان کی جگہ نئے طریقوں کو آتے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ہاں البتہ آہستہ آہستہ۔

یہی وجہ ہے کہ کتنے ہی مصلحین مفکرین اور عظیم لوگوں نے اپنے زمانے کا شکوہ کیا ہے کیونکہ زمانہ ان کے افکار و نظریات کا ہمیشہ مخالف رہا۔ متنبی کہتا ہے " کیا کبھی ایسا قصیدہ بھی کہوں گا جس میں زمانے کا شکوہ گلہ نہ کروں "۔ اقبال نے بھی کہا تھا

من نوائے شاعرِ فرداستم

یعنی میں آنے والے دور کا شاعر ہوں میرے زمانے کے لوگوں کا یہ حوصلہ نہیں کہ یہ میرے افکار و خیالات کو قبول کرنے کی تاب لا سکیں۔

بہر حال ہمیں یہ سوچ کر نئے افکار و خیالات کو سامنے لانے سے نہیں گھبرانا چاہیے کہ ہمارا نظریہ قبول نہیں کیا جائے گا، یا اس کی مخالفت ہوگی۔ ایک دن ضرور آئے گا کہ لوگ اس کے آستانے پر آنے کو عزت و افتخار خیال کریں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com