ایک پیغام، والدین کےنام - عبدالصمد المدنی

ہمارے بچے، ہمارا مستقبل اور آنے والا کل ہیں، ایک اچھے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ، ان نونہالوں کی اچھی تعلیم و نگہداشت کے ساتھ ساتھ، اخلاق اور کردار کی تعمیر بھی عمدگی سے کی جائے۔

بچے موم کی طرح نرم ہوتے ہیں ان کو جس سانچے میں ڈھالیں گے، ڈھل جائیں گے۔ بچے کی تربیت میں جہاں درسگاہوں کی اہمیت ہے، وہیں ہمارے گھریلو زندگی کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے، بلکہ بچے کا پہلا مدرسہ اس کا گھر ہی ہوتا ہے اور ان دونوں کا ربط و جوڑ ہی اچھی تعلیم و تربیت کا ضامن ہوتا ہے۔

بچوں کو اچھائی کی طرف مائل کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرنا، جبکہ غلطی کی اصلاح نرمی اورمناسب طریقے سے کرنا لیکن اس عمل سے بھی پہلے اپنے اخلاق وکردار کو بہتر کرنا تاکہ آپ کا بچہ آپ کو اپنا آئیڈیل بنائے۔ آپ کے حسن اخلاق کے رنگوں میں رنگ جائے۔

عام طور پر ہوتا اس طرح ہے کہ، ہم اپنے بچوں کو فرشتے کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جن سے ادنیٰ سی غلطی بھی نہ ہو، سب لوگ ان کی تعریفوں کے پل باندھیں کہ ماشاء اللہ آپ کا بچہ مجموعہ محاسن ہے اور ہماری واہ واہ ہو لیکن ہم اپنے آپ کو اور اپنے گھر کے ماحول کو نہیں دیکھتے، جہاں سے بچہ یہ خصلتیں اور عادات أخذ کرتا ہے جو آگے چل کر اس کی فطرت بن جاتی ہیں لہٰذا پہلے اپنے آپ کی اصلاح کریں، ہمیشہ سچ بولیں، خیانت نہ کریں، اچھے اخلاق سے بات کریں، تمام امور میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، نماز پنجگانہ کی پابندی کریں، سگریٹ نوشی، پان اور نسوار کوئی بھی نشہ نہ کریں، کوئی مضر صحت چیز استعمال نہ کریں، صاف ستھرے رہیں۔ غرضیکہ جو چیز اپنے بچوں کے لیے پسند کرتے ہیں عملی زندگی میں ان کے سامنے اپنائیں۔ ہر وہ چیز جس سے اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں ان کو خود بھی نہ اپنائیں۔ اچھے کاموں پر ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

بسا اوقات ہم اپنے بچوں کی ناکامی کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ بات بات پہ ان کو کوسنا، ان کی غلطیوں کو نا قابل اصلاح بتانا، تجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا، میں تنگ آگیا ہوں تجھے سمجھا سمجھا کر، یہ کام تجھ سے نہیں ہو سکتا وغیرہ وغیرہ۔ ہم ان کی خامیوں پر ہروقت ٹوکتے رہتے ہیں، لیکن ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر کبھی ان کی تحسین اور حوصلہ افزائی نہیں کرتے، ایسے بچے عملی زندگی میں ناکام اور نامراد ہو جاتے ہیں گھر سے بددل ہوکر باہر کے ماحول کا رخ کرتے ہیں بری صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں یا منشیات کے عادی افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں یا جرائم کی دنیا میں قدم رکھ کر معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے ہیں،پھر یہ کسی پر بھی رحم نہیں کرتے کیونکہ ان پر رحم نہیں کیا گیا۔

قبل اس کے کہ ہمارے بچے ایسا کریں، ہمیں ان کی فکر کرنی چاہیے، ان کو اپنے قریب کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ وہ ہم سے دُور ہوں اور معاشرے میں پھیلے ہوئے درندے ان کو اچک لیں اور ہم کف افسوس ملتے ہوئے رہ جائیں، ہمارے پھول مسل دیئے جائیں اور ہم کچھ بھی نہ کر پائیں۔ آج ہی ان کی طرف توجہ کریں ان کو اہمیت اور حوصلہ دیں، خوش طبعی کریں ان کو وقت دیں اور اپنے آنے والے کل کو محفوظ کریں اوردینی تربیت کرکے اپنی آخرت کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔ ہم دنیا میں نہ ہوں لیکن ہمارے نامہ اعمال میں ہماری نیک اولاد کی وجہ سے اضافہ ہوتا رہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */