شہباز شریف کو پھر لالی پاپ مل گیا؟ - ڈاکٹر شفق حرا

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ان دنوں کافی خوش نظر آتے ہیں۔ بات بات پر مسکرانا اور قہقہے لگانا ان کی عادت بن گیا ہے۔ ذوالفقار بھٹو کی طرح مائیک گرانا بھی کم کردیا ہے کیونکہ اگر انہوں نے بھٹو کا طرز تقریر اختیار کیا تو کہیں اسٹیبلشمنٹ ہی ناراض نہ ہوجائے۔ ہر تقریب میں بڑے بھیا میاں نوازشریف کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے آداب بجانے کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔ چودھری نثار کو اب بڑے میاں صاحب کے خلاف ہاتھ ہولا رکھنے کی بھی تلقین کردی ہے۔ رات گئے مشہور زمانہ ہیٹ، جوگرز اور جیکٹ اتار کر شیروانی پہننے کی مشق کو عادت بنا لیا ہے۔

شہباز شریف میں ان تمام تبدیلیوں کی وجہ کچھ دن قبل نوازشریف کا وہ اعلان ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ الیکشن کے بعد مسند اقتدار وہ شہباز شریف کے حوالے کریں گے اور اب کی بار تخت اسلام آباد انہیں سونپا جائے گا۔ گرچہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد ہی شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے جواب آنا شروع ہوگئے تھے لیکن افسوس وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ نوازشریف نے نااہلی کے بعد جب کرسی خالی کی تو اعلان فرمایا کہ اس کرسی کا حقدار فقط شہباز ہے لیکن چونکہ وہ ایم این اے نہیں اس لیے عارضی طور پر یہ کرسی شاہد خاقان عباسی کو سونپی جارہی ہے۔ شہباز شریف نے چاروناچار اس فیصلے کو اسی طرح قبول کیا جس طرح سے نوازشریف نے سپریم کورٹ کا اپنی نااہلی کا فیصلہ قبول کیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے تو اپوزیشن نے بہت واویلا کیا کہ وہ چالیس روزہ نہیں بلکہ سال بھر والے وزیراعظم لگ رہے ہیں تاہم شہباز شریف نے اسے رقیبوں کی جلن سمجھ کر نظر انداز کیا۔ عقدہ تب کھلا جب بڑے بھائی نے ان افواہوں پر مہر تصدیق ثبت کی اور شہباز شریف سیمی فائنل میں وزارت عظمیٰ کی شیروانی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وقت نے کروٹ بدلی تو چاروناچار نوازشریف کو ایک بار پھر یہی اعلان کرنا پڑا۔ اس اعلان کی ایک وجہ پارٹی میں بڑھتا ہوا اضطراب ہے کیونکہ اکثر اراکین شہباز کے ہمنوا ہیں اور وہ نوازشریف کی جگہ صرف شہباز شریف کو ہی وزرات عظمیٰ دیے جانے کے متمنی ہیں۔ اعلان کی ایک اور وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے جس کی شہباز کے ساتھ لائن تو سیدھی ہے لیکن نوازشریف کے ساتھ لائن جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ نوازشریف کو یہ بھی نظر آرہا ہے کہ وہ شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا سبز باغ دکھا کر ہی اپنے لیے این آر او لے سکتے ہیں کیونکہ اگر انہوں نے مریم نوازشریف یا خود کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار پیش کیا تو نثار گروپ کھل کر سامنے آجائے گا جس کے بعد ہوسکتا ہے شہباز شریف خود ہی میدان میں آجائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

اس اعلان کی ایک وجہ پارٹی میں قحط الرجال بھی ہے کیونکہ موروثی سیاست مسلم لیگ ن میں کوٹ کوٹ کر بھر چکی ہے۔ اگرچہ پیپلزپارٹی اس صف میں مسلم لیگ ن سے بھی دو ہاتھ آگے ہے لیکن مسلم لیگ ن میں شائد صورتحال الگ ہے کیونکہ اس پارٹی کا نام ہی نوازشریف کے نام پر قائم ہے۔ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت دل میں پارٹی قیادت کی حسرت تو رکھتی ہے لیکن سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نوازشریف قیادت کے معاملے میں شہباز شریف پر بھی بھروسہ نہیں کرتے تو وہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ مسلم لیگ ن کو موروثی سیاست برقرار رکھنے کی ایک توجیح اس وقت بھی مل گئی جب عمران خان نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد این اے ایک سو چون کی ٹکٹ علی ترین کو سونپنے کا فیصلہ کرکے اپنے اصولوں کی خود دھجیاں اڑا دیں۔ اب وہ نہ مسلم لیگ ن کو موروثی سیاست کا طعنہ دے سکتے ہیں اور نہ اپنے اصولوں کا غلغلہ بجا سکتے ہیں۔ عمران خان کے اس فیصلے کے بعد شائد ہی مسلم لیگ ن میں سے کوئی نوازشریف کی جگہ شہباز شریف کو آگے لانے پر اعتراض کرسکے۔

شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار پیش کرکے نوازشریف دو فائدے حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ اول وہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن اب بھی ان کے لیے قابل قبول ہے جبکہ دوسرا وہ پارٹی میں موجود بڑھتی ہوئی خلیج بھی کم کرنا چاہ رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں نوازشریف کو فائدہ یہی نظر آرہا تھا کہ وہ اپنے خلاف کیسز پر توجہ دیں۔ وزارت عظمیٰ شہباز شریف جبکہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ حمزہ یا مریم کو سونپنے کی شرط رکھ کو خود کو صدارت کا امیدوار ظاہر کریں۔ اس تاثر کی وجہ سے نہ صرف ان کو شہباز کی مکمل مدد حاصل ہوگی بلکہ الیکشن میں بھی واضح کامیابی ملے گی۔ نوازشریف یہ سوچ چکے ہیں کہ الیکشن کے بعد شہباز شریف کے ساتھ وہی کریں گے جو کچھ ماہ پہلے کیا اور کسی کو عارضی وزیراعظم بنوا کر آئینی ترمیم کی مدد سے پھر وزارت عظمیٰ حاصل کرلیں گے۔ نوازشریف کو شائد اس لیے بھی کامیابی مل جائے کیونکہ طاہر القادری اور سانحہ ماڈل ٹائون شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کی راہ میں اتنی بڑی رکاوٹ ہیں جس کو عبور کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔ دوسری جانب آئندہ سال طاہر القادری اینڈ کمپنی کا دھرنا بھی شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کا بوریا بستر گول کرسکتا ہے۔ اس دھرنے کو روکنے کا راستہ پس پردہ قوتوں کے ساتھ ڈیل ہے اور شائد اسی ڈیل کی خاطر مسلم لیگ ن کو ایک بار پھر سعودی عرب جانا پڑا ہے۔ اگر ڈیل کامیاب رہی تو پھر شہباز شریف کے لیے ستے خیراں ہیں لیکن اگر ڈیل نہ ہوئی تو پھر ان کو شائد وزارت اعلیٰ سے بھی ہاتھ دھونا پڑجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

اب تک کے حالات یہی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر وقت پر الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ ن پنجاب میں اہم کامیابی لے سکتی ہے۔ الیکشن کے بعد اقتدار کا ہما شہباز شریف کے سر بیٹھتا ہے یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا لیکن لگ یہی رہا ہے کہ بڑے بھائی نے ماضی کی طرح چھوٹے کو ایک اور لالی پاپ تھما دیا ہے۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.