ایسا جب جب بھی ہوا بہت جگ ہنسائی ہوئی - اختر عباس

بابا رحمت باقاعدہ مخمصہ میں ہے اور کوئی اس کی مدد کو نہیں آرہا۔ بیانات کی ورائٹی، اخباری سرخیاں اور حمایت میں آئے فون اور ایسی اندھی دلدل ہے کہ اس میں جو جو پھنستا ہے چاہے وہ سیاسی ہو یا محلّاتی، دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں عدالت بھی ڈی جی آئی ایس آئی کی بے نام مصروفیت کو دیکھ کر اپنے ہاں بھی ایک ایسے ہی ڈی جی کا تقرر کردیں، لوگ چاہے اس کا پھر جو مرضی نام لکھیں۔ سرخیاں تو روز لگنے لگ جائیں گی، اہل دانش سیاسی پارٹیوں کے بابے جان بوجھ کر خاموش رہتے ہیں اور انہیں کوئی مستقل پوزیشن لینے نہیں دیتے جو اصولی موقف پر ان کی عزت بڑھائے ایسے میں پرانے وکلا اور اس باوقار پیشے سے متعلق رہنے والوں پر ضرور لازم ہے کہ اس ادارے کے وقار کو بچائیں،آئے روز لگنے والے تماشے عدالتوں کے باہر اچھے لگتے ہیں اندر نہیں۔

ایک تو ہمارے بابا رحمت پاکستانی عدلیہ کے سب سے محترم جج جسٹس ایم آر کیانی کے ساتھ کام کرنے کے اعزاز سے محروم رہے۔ اچھا ہوتا کبھی انہیں پڑھ ہی لیا ہوتا یہ واحد جج ہیں جن کی باتیں ان کے عہدے پر ہوتے ہوئے، عہدے سے اترنے اور یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی پڑھی اور شائع کی جاتی ہیں۔ میں نے ان کی کتاب 'ایک جج ہنس بھی سکتا ہے' ۱۹۹۸ ء میں پڑھی تھی اور تب ان کی باتوں کو کیے ہوئے تیس برس گزر چکے تھے۔

جسٹس کیانی مغربی پاکستان کے چیف جسٹس تھے اور اس کتاب کا پیش لفظ ایک دوسرے قابل قدر جج ایس ایم مرشد نے لکھا جو تب مشرقی پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ ایوب کے مارشل لاء کے دوران بنیادی حقوق معطل تھے اور ملک خوف وہراس میں بری طرح مبتلا تھا۔ سیاسی لیڈر احتساب کے خوف سے خاموش ہو گئے تھے، اخباروں کو بندش کا خطرہ لاحق تھا، ایسے میں ایک دبلے پتلے مگر بہارد، ذہین اوردیانتدار جج نے تین ماہ بعد ہی سول سروس اکیڈیمی میں، جہاں جنرل ایوب مہمان خصوصی کی حیثیت سے آئے، وہ کچھ کہہ دیا جو آج بھی کوئی جج کسی ریٹائر فوجی جرنیل کو بھی کہنے سے ڈرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا ’’اس طرح کی حکومت بیرونی دنیا کے لیے ایک معذرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں حیثیت رکھتی اور ملک کی حد تک بھی مجبوری سمجھ کر قبول کیا جا سکتا ہے،جسے ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

جنرل کے لیے یہ تنقیدی جملے ناقابل برداشت تھے۔ اس نے نہایت درشت لہجے میں ان کا جواب دیااور سرکاری ملازموں کے خلاف اعلان جنگ کر تے ہوئے تین سو سے زیادہ کو برطرف کردیا۔ جسٹس کیانی کی عزت فوج کی طرف سے لڑنے یا اپنے حق حکمرانی کے لیے نہیں، قانون کی حکمرانی کے حق کے لیے پشاور سے کراچی کی بار سے خطاب کر نے کی جرات دکھانے پر بڑھی تھی۔ بابا رحمت کاش اس تاریخی حقیقت کو جانتے کہ کسی بھی معززجج کا ملک کی سیاست اور سیاسی لوگوں کی دوستی اور دشمنی میں کوئی رول بنتا ہے اور نہ ہی فوجی اداروں کی قربت اور ان سے مدد لینے کا۔ یہ جان بوجھ کر ہو یا کسی غلط حکمت عملی اور پرانے غصے کی وجہ سے، اعلیٰ عدلیہ کاوقار اور احترام دونوں داؤ پر لگ جاتے ہیں جیسا کہ سب نے ایساہوتا اپنی آنکھوں سے بار بار دیکھا ہے۔ بابا رحمت جنہیں اس وقت سوشل میڈیا پر طنز سے بھوٹان کی اعلیٰ عدلیہ لکھا جا رہا ہے، نے ہفتہ بھر سے جو بیانات دینے اور تیز طنزیہ تبصرے کرنے اور بے وجہ عدالتی کام چھوڑ کر صوبائی انتظامیہ کے کاموں میں گھسنے کی کوشش میں تیزی دکھائی ہے، اس نے شکوک وشبہات اور گہرے کر دیے ہیں۔ عدلیہ نہ تو تفتیشی افسر کا رول لے سکتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ اور مقننہ کا۔ ایسا جب جب بھی ہوا بہت جگ ہنسائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   عدالت سے پہلے عدالت کا سلسلہ کب تک؟ حبیب الرحمن

آپ کو یاد ہوگا ایک متحرک جج صاحب جو سارے عدالتی کام چھوڑ کر روزانہ کی اخبارات میں چھپنے والی خبروں کی بنیاد پر سوموٹو لیتے تھے۔ چینی کی قیمت متعین کرنے نکلے تھے اور اسے کم کرنے کی بجائے اونچائی کی آخری حدود پر لے جانے کا باعث بن گئے تھے۔ بیانات کی موجودہ تیزی کا آغاز بار کی ایک روایتی اور رسمی تقریب میں خالص سیاسی وضاحتوں اور اس فلمی نعرے سے ہوا تھا کہ ’’ ہم سے دباؤ سے فیصلے کروانے والا کوئی پیدا نہیں ہوا‘‘ حالانکہ اسے پیدا ہوتے، جوان ہوتے اور اور اب پھر متحرک ہوتے ایک زمانے نے دیکھا۔ اسی لیے اخباری کالم اور سوشل میڈیا کی پوسٹیں مذاق اور طنزیہ تبصروں اور جملوں سے بار بار چھلکنے لگتی ہیں۔ کہیں کوئی ایک بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑا تھا، حتیٰ کہ بار بھی نہیں۔ یہیں بابارحمت والی بات کہہ کر عدلیہ کا درجہ انہوں نے گھٹا کرگاؤں کے ب بے ضرر اور اصلاً بے وقعت بابے تک پہنچا دیا۔

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر بابے کو عزت نہیں ملتی، یہ ہمیشہ عمر بھر کمانی پڑتی ہے اور اس کمائی پر پہرہ دینا پڑتا ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری جیسی شہرت کا صرف خواب دیکھا جا سکتا تھا۔ حد یہ ہے کہ لوگوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے لیے صدر پاکستان کا منصب سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے اپنے صاحبزادے ارسلان اور ریاض ملک کے کیس میں قانون کا جو مذاق بنا، اس نے برسوں کی بنی بنائی عزت کو داغدار کیا اور بطور چیف جسٹس سروس کے آخری دن اپنے ہی ایک فیصلے کی ایکسیس صرف ایک چینل کو دینے کی غلطی نے عزت کی ساری کمائی، اسی دن شام تک خاک میں ملا دی تھی۔ بابا رحمت کی خاموشی نے ان کا وقار بچا رکھا تھا، ان کی شہرت کو کوئی چیلنج بھی درپیش نہیں تھا۔ برا ہو بے وجہ فعالیت کا، جس کے باعث وہ نہ صرف متنازع ہوئے بلکہ انہیں جگہ جگہ شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر انہوں نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لیے قسم کھائی جو ان کے مقام سے بہت ہی فروتر بات تھی۔ اس قسم نے انہیں خلیل جبران کے لفظوں میں ایک دم سے مشکوک کر دیا، جو کہتا ہے اس نے بات کی میں نے یقین کیا، اس نے اصرار کیا مجھے شک ہوا، اس نے قسم کھائی مجھے اس کے جھوٹ کا یقین ہوگیا۔ نہ کسی نے ایک دن کے دو فیصلوں پران سے جواب مانگا تھا اور نہ انہیں دینا چاہیے تھا۔ انہیں آگ کی لپٹیں دیتے ایک سیاسی فیصلے پر خاموش ہو جانا ہی زیبا تھا۔ جسٹس گلزار کے سات، آٹھ صفحے سے مذاق کا نشانہ بنے ہوئے تھے جس کا عدلیہ کے پاس نہ جواز تھا اور نہ ہی جواب۔

عدلیہ کا اپنے سامنے رکھے گئے کیسوں کے فیصلوں میں بولنا ہی بنتا ہے۔ اپنے پرانے غلط یا درست فیصلوں کے وضاحتی نوٹ کیونکر عوامی سطح پر پذیرائی پا سکتے ہیں یا ہضم ہو سکتے ہیں؟ بابارحمت کے بعض ساتھی ججز نے عدلیہ کو ایک بہت کمزور مقام پر لاکھڑا کیا جس کا وہ بھی حصہ بن گئے اورپھر بدقسمتی سے انہوں نے وہ کام کیا جس کا ذکرجسٹس کیانی نے ایک برطانوی افسر کا کمال قصہ لکھتے ہوئے کیاتھا۔ یہ ان کی اس کتاب جس کا نام A Judge May Laugh میں درج ہے۔ اس کتاب کے نام میں ان کی وفات کے بعد اضافہ بھی کردیا گیا تھا & Even Cry۔ یہ اس زمانے کا تھا جب عالمی جنگ عظیم دوم جاری تھی اور ایک اعلیٰ فوجی افسر جنگ کے دوران بھی باقاعدگی سے گالف کھیلنے کا شوقین تھا۔ جن دنوں رنگون سے انخلا ہونے کا فیصلہ اور پھر اس پر عمل ہونا شروع ہوا تھا، اس کے ساتھی افسروں نے اسے کسی دوسرے کے مکان کی کھڑکی سے اس انداز میں کودتے دیکھا کہ اس کے کندھے پر گالف کی چھڑیوں کا تھیلا لٹک رہا تھا۔ پرخطر زمانہ تھا اور کسی کے گھر میں گھسنا تو اور بھی جان لیوا اور خطرناک ہو سکتا تھا۔ جب اسے سمجھایا گیا اور اس کی مہلک غلطی کا بتایا گیاتو اس نے اپنی اس عجیب وغریب حرکت کا بڑے پرجوش انداز میں دفاع ہی نہیں کیا بلکہ ایک شاندار جواب بھی دیا، فرمایا ’’ بہت دنوں سے میری نظرگالف کی ان چھڑیوں پر تھی ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   حکومت آرمی چیف کے معاملے میں غلطیاں کیوں کر رہی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

میو ہسپتال کے ہنگامی دورے میں چیف سیکرٹری کو جس طرح بے وقعت کیا گیا یہ پوری بیوروکریسی اور ان کے بڑوں کو ایک واضح پیغام تھا جیسے بابا رحمت کی گالف کی اس چھڑی پر پرانی نظر تھی۔ پینے کا پانی سندھ کا بہت بڑا مسئلہ ہے، پنجاب کا نہیں۔ ،انہیں کسی نے بتایا نہیں یہاں لاہور کے ہر محلے اور بلاک میں پینے کے پانی کے پمپ اور سسٹم لگے اور کام کر رہے ہیں۔ عام ٹیوب ویل بھی کلورین ملے پانی کے ساتھ چلتے ہیں۔ حکومت کب کی ٹنکیوں میں پانی جمع کرنا چھوڑ کر مسلسل ٹیوب ویلوں سے تازہ اور صاف پانی دے رہی ہے۔ اسی لیے لوگ سولہ سو روپے ماہانہ تک کا بل شور مچائے بنا دے دیتے ہیں۔ اگلے روز اگلی چھڑیوں کی باری تھی، تازہ پانی پھر گورنر پنجاب کے بیٹے کی باری آئی اور پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ عام لوگ میڈیکل کالجز کی فیسوں سے زیادہ پیشگی نذرانوں سے دکھی ہیں جو بارہ لاکھ سے پچاس لاکھ تک جا چکا ہے، اس شکایت کی شنوائی ہونی چاہیے ناکہ میڈیکل کالجز کے مالکوں کو یہ کہا جائے کہ یہ شکل سے ہی قصائی لگتے ہیں۔ پانچ پانچ کروڑ دے کر وابستگیاں لی ہیں۔ شریف میڈیکل کالج کا سربراہ کون ہے؟ اچھا نواز شریف ہے پھر اسی کو بلا لیتے ہیں۔ حضور! کچھ زیادہ ہی گالف کی چھڑیوں پر ہاتھ ڈال بیٹھے ہیں۔جسٹس سجاد، جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس ڈوگر،جسٹس قیوم، جسٹس ارشاد حسن اور پھر جسٹس افتخار چوہدری، معاف کیجیے ان سب کے فیصلے، تقریریں اور کام تاریخ کی عدالت میں اس قدر کمزور ثابت ہوئے ہیں کہ ان کو کتابی صورت میں چھاپنا تو دور، رہا ان کی وضاحتیں بھی نہیں کی جا سکتیں۔ بات جسٹس ایم آر کیانی سے شرع ہوئی تھی انہی پر ختم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’وہ بہت خرا ب فیصلہ لکھتا ہے،مذاق کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اکثر خود ہی مضحکہ خیز بن کر رہ جاتا ہے، روایت بدلنی چاہیے اچھی روایت بنانی چاہیے ورنہ بندوں میں بھلا دیے جانے میں کون سا زیادہ وقت لگتا ہے؟‘‘

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.