ہمسایہ کون؟ اسوہ نبی کی روشنی میں - نوید احمد

ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ رات کا پچھلا پہر ہے، آپ کو سینے میں شدید درد محسوس ہو رہا ہے، آپ کا واحد بیٹا جو آپ کا سہارا ہے وہ کسی کام سے شہر سے باہر گیا ہوا ہے، گھر میں صرف آپ اور آپ کی ضعیف والدہ ہیں، قریب میں کوئی رشتہ دار بھی نہیں جسے آپ فون کریں اور وہ دوڑا چلا آئے۔ بے بسی کی اس کیفیت میں آپ کی والدہ ہمسائے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں پہلے تو کوئی اٹھنے پر اور دروازہ کھولنے پر تیار نہیں لیکن جب آپ کی والدہ نے مستقل گھنٹی پر ہاتھ رکھ لیا اور دروازہ بھی بجایا تو اندر سے ہی آواز آتی ہے۔ آپ کی والدہ نے بتایا کہ ہمسائے سے آئی ہوں، میرا بیٹا شدید تکلیف میں ہے آپ گاڑی نکالیں تاکہ اسے جلد ہسپتال پہنچایا جا سکے۔ آپ کی والدہ کی اس دہائی پر اندر ہی سے جواب آئے کہ ہم تو آپ کو نہیں جانتے، جائیے کسی اور کو پکارئیے، ہمیں سونے دیں۔ کیا آپ اپنے ہمسائے کے اس جواب پر سوچیں گے نہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیوں اس نے ہمسائے کا لفظ سننے کے بعد بھی آپ کی مدد کے لیے ہاتھ نہیں بڑھائے؟

یقین مانیں اگرچہ حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے۔ آپ کی درد مندانہ اپیل پر کوئی کان دھر ہی لیتا ہے لیکن سچ پوچھیں تو ایسا ہونا کوئی زیادہ دور نہیں۔ مادّیت پرستی اور نفس پرستی نے وہ جال بچھا دیے ہیں کہ ہر فرد اپنی زندگی میں گم ہوتا جا رہا ہے۔ ماں باپ کا کمرہ الگ ہے، بچوں کا الگ، دادا دادی کا الگ، بہو بیٹے کا الگ، ہر کمرے کی اپنی دنیا، اپنا چینل، اپنی پسند و ناپسند۔ ایسے میں ہمسایہ تو دور کی بات ساتھ گھر میں رہنے والوں کا بھی مل بیٹھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے!

حل کیا ہے؟ کیا سب کچھ چھوڑ دیا جائے؟ نہیں بھائی! ایسا ہر گز نہیں۔ حل تو ہم اپنی مشکلات کا بھی نکال ہی لیتے ہیں تو ہمسائے کا کیوں نہیں؟ ایک کام کریں کہ زندگی کی دیگر ترجیحات میں اسے بھی ایک ترجیح بنا لیں۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ یہ ہماری بقا اور سلامتی کا ضامن ہے۔ ہفتے میں کچھ وقت ہمسائے میں موجود گھر والوں کا حال چال راہ چلتے معلوم کرنے کے لیے نکال لیں، کوئی بیمار ہے اس کی عیادت کر لیں، کسی کی فوتگی ہوئی ہے اس کے ہاں دعا کے لیے چلے جائیں، کسی کو کوئی خوشی ملی ہے اسے مبارکباد دے آئیں۔ یہ میری تجویز کم اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی درحقیقت تعلیم ہے۔ آئیے چند احادیث سے علم کے موتی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جبرائیل علیہ السلام ہمیشہ مجھے ہمسائے کے متعلق حکم پہنچاتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وارث بنا دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الأدب)

حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں، خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں عرض کیا گیا: یا رسول اللہ کون؟ فرمایا کہ جس کا ہمسایہ اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الادب)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لیے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لیے یا پڑوسی کے لیے پسند کرے(صحیح مسلم)

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کر لے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کر لے(صحیح مسلم)

دیکھا آپ نے کتنی تاکید ہے ہمسائے کے حقوق کی؟ ہمسایہ صرف وہی نہیں ہوتا جس کی دیوار آپ کی دیوار سے جڑی ہو۔ ہمسایہ آپ کے قریب کا دکاندار، آپ کی قریب والی مسجد کے ساتھی، آپ کے ساتھ گاڑی میں چند لمحوں کے لیے سفر کرنے والے مسافر، آپ کی گلی میں ریڑھی پر سبزی بیچنے والا، آپ کے گھر دودھ دینے والا۔ غرض کہ وہ تمام لوگ جن کے ساتھ آپ کا قریب کا تعلق ہے وہ ہمسائے میں شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں کا خیال رکھنا، ان کو اپنی خوشی غمی میں شریک کرنا اور ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا، ان کے ساتھ تحفے تحائف کا تبادلہ کرنا، مشکل میں ان کے کام آنا، ان کے آرام و سکون کا خیال رکھنا وغیرہ یہ تمام کام ہمسائیگی میں شامل ہیں۔ ان تمام کاموں کے کرنے سے آپ محلے میں اجنبی نہیں رہیں گے۔ آپ کا معاشرے میں ایک مقام بنے گا۔ اگر آپ محلے سے چلے بھی گئے تو لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں گے۔ تو پھر دیر کس بات کی۔ آج ہی سے تہیہ کر لیں کہ ہمسائے کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔ ان شاء اللہ