کیا اشتہارات ضروری ہیں؟ - سید بریر علی شاہ

اشتہارات ایک ایسا پیغام ہوتا ہے جو کسی فروخت کرنے والے کی جانب سے صارفین کے لیے دیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد مختلف حربوں اور طریقوں سے صارفین کو اشیاء خریدنے پر اکسانا یا راغب کرنا ہے۔ کوئی بھی فروخت کنندہ اپنی اشیاء کے فروخت کے لیے بذریعہ اشتہار اپنے صارفین تک پہنچتا ہے۔ انہیں اپنے مال یا اشیاء کے بارے میں مختلف خوبیاں بیان کرکے انہیں اس جانب راغب کرتا ہے کہ اس کی اشیاء صارف کی عین ضرورتوں کے مطابق ہیں لہٰذا وہ ان اشیاء کو خریدیں۔ دراصل اشتہار ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے کسی بھی قسم کا سامان با آسانی فروخت کیا جاسکتا ہے، اشیاء کی فروخت کو بڑھایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لیے مختلف حربوں اور ٹیکنک کو اختیار کیا جاتا ہے۔ انسانی نفسیات کے بالکل قریب تر ہو کر صارف کو ذہنی طور پر اتنا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ اشیاء خریدنے پر آمادہ ہو جائے۔

مثلاً اشتہار میں خوبصورت اور حسین جملوں کا استعمال کہ جو ہم آواز ہم قافیہ ہوں۔مسحور کن آواز، دلکش و دلفریب تصاویر اور ہیجان خیز مناظر شامل ہوتے ہیں۔

پرانے زمانے میں کہ جو تشہیر کا ابتدائی دور تھا ایک شخص اشیاء تیار کرکے خود پھیری لگا کر قریہ قریہ گاؤں گاؤں جاکر لوگوں سے مل کر آواز لگا کر اپنی تیار کردہ شے کو فروخت کرتا تھا۔ یعنی یہ فن بھی انسانی تہذیب کی طرح پرانا ہے۔ قدیم یونانی دور کہ جسے آقاؤں اور غلاموں کا دور کہا جاتا ہے اس میں مویشیوں اور انسانوں کی خریدوفروخت ہوتی تھی اور ڈھول بجا کر پر کشش جملوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ یونان کے بعد مشرقی ممالک اور یورپ تک پھیل گیا تھا۔رفتہ رفتہ ایجادات ہوتی رہیں اشیاء کی تیاری بھی بڑھتی رہی یہاں تک کہ صنعتی انقلاب کے بعد یہ ممکن نہ رہا کہ کوئی شخص اتنی زیادہ مقدار میں اشیاء تیار کرکے محض ڈھول بجا کر یا آواز لگا کر انہیں فروخت کرسکے۔ چنانچہ تشہیر کے طریقوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ پہلے ایک کپڑا بنانے والا اپنے گھر کی کھڈی پر کپڑا بن کر گھر گھر جاکر اس کی خوبیاں بیان کرکے فروخت کرتا تھا۔ لیکن اب خود کار مشینوں پر لاکھوں گز کپڑا ایک روز میں کارخانے میں تیار ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ ناممکن ہے کہ گھر گھر جا کر کپڑا فروخت کیا جائے تو اخبارات، رسائل اور بعد ازاں ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے اس کی تشہیر کو عام کیا گیا۔

جدید اشتہارات کی بنیاد اسی صنعتی دور میں پڑی۔ چنانچہ وہ اشیاء جن کی فروخت ایک محدود علاقے تک چھوٹے پیمانے پر ہوتی تھی۔ اب ان کی منڈی وسعت اختیار کرگئی اور اس صورت حال میں ایک ہی نوع و اقسام کی اشیاء مختلف فروخت کنندگان کی جانب سے بازار میں آنے لگیں تو مقابلے نے اشتہار بازی کی اہمیت کو مزید بڑھادیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ فروخت کنندگان اشیاء کے معیار کے برابر ہی اشتہار بازی کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ٹریڈ مارک یا تجارتی نشان اسی مقابلے بازی کا نتیجہ ہے تاکہ صارفین فروخت کنندہ کے درمیان فرق محسوس کرسکیں۔

یہ بات تو سب پر روشن ہے کہ تشہیر کی ضرورت ابتدائی زمانہ میں بھی تھی اور موجودہ دور میں بھی اس کی مسلمہ ضرورت اور اہمیت ہے البتہ ابتدا میں اس کی صورت اس دور کی ضرورت کے مطابق تھی، جیسے جیسے ضروت کا دائرہ بڑھتا گیا اس کی شکل و صورت بھی تبدیل ہوتی چلی گئی۔ پندرھویں صدی سے پہلے روم کے تاجروں کے الگ الگ بازار ہوتے تھے جہاں پر اشتہار لکھنے والے پیشہ ور لوگ موجود ہوتے تھے۔ یہ لوگ دیواروں پر اشتہار لکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ لکھنے کہ اس عمل میں خرچہ بھی ہوتا تھا۔ چنانچہ اعتراض ہوا کہ اشتہارات کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ صارف ہی کو اس کی مد میں ہونے والا خرچہ برداشت کرنا پڑھتا ہے۔ اسی طرح مغربی ممالک میں بھی اس کے خلاف تحریک چلائی کہ اگر اشیاء معیاری ہیں تو پھر اس کی اشتہار بازی کی کیا ضرورت ہے؟ دوسرے لفظوں میں اشتہار بازی دھوکا بازی کے مترادف ہے۔

یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ جو کچھ اشتہار میں دکھایا یا بتایا جاتا ہے حقیقت میں ویسا نہیں ہے۔

اشتہارات کا بنیادی مقصد خریداروں میں صنعت کار کی تیار کردہ اشیاء کی طلب پیدا کرنا ہوتا ہے، یہ لوگوں میں اشیاء کی ضرورت کا احساس پیدا کرتے ہیں اور خریداری پر مجبور کرتے ہیں۔ یوں بذریعہ اشتہار اشیاء کی مانگ میں اضافہ سے منافع زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں اشیاء ایک دو فرد کے لیے نہیں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں افراد کے لیے کی جاتی ہے۔ لہٰذا اتنی بڑی تعداد میں اشیاء کی ضرورت اور اہمیت جتانے کے لیے صرف اور صرف اشتہار ہی ایسا ذریعہ ہے جو یہ کام انجام دے سکتا ہے۔ موجودہ دور کے اشتہار معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی تفریح بھی مہیا کرتے ہیں تاکہ لوگ شوق میں اس طرف متوجہ ہوں۔ مثال کے طور پر نورس شربت کا ایک اشتہار جسے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر جناب محمود غزنوی صاحب نے لکھا تھا۔ بچوں کو زبانی یاد ہوگیا تھا اور وہ صبح و شام اسے گایا کرتے تھے۔ ’’بھول نہ جانا پھر پاپا نورس لے کے گھرآنا!‘‘۔ ایک ایسا اشتہار جو تمام اخلاقی اقدار کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے اور قابل ترین لوگ اس کو بنائیں تو اس کو مقبولیت بھی ویسی ہی ملی۔ اس کے برعکس غیر اخلاقی الفاظ، بازاری زبان، نیم عریاں لباس، جھوٹ اور سچ کی آمیزش، انسانی جذبوں سے کھلواڑ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور وہ اپنی اقدار کھو دیتا ہے۔

ہمارے ملک پاکستان میں اشتہارات کے ذرائع اخبارات و جرائد، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما، ڈاک، ٹرانسپورٹ، نمائش اور میلے، وال چاکنگ یا دیواری اشتہارات، ماڈل یا ٹیبلو اور ٹیلی فون وغیرہ ہیں اوراب تو فیس بک نے بھی قدم جما لیے ہیں اور یہاں ایسے ایسے واہیات اشتہارات ہیں کہ الامان اور الحفیظ!

بہرحال، اشتہارات کے فائدے زیادہ ہیں یا نقصانات؟ اس بارے میں میری ذاتی رائے یہی ہے کہ نقصانات زیادہ ہیں۔ کیونکہ صنعت کار اشتہارات کی مد میں ہونے والے اخراجات کو بھی پیداواری اخراجات میں شامل کردیتا ہے، جس کی وجہ سے اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔پھر اشتہارات میں بڑے بڑے بنگلے، گاڑیاں اور اعلیٰ سوسائٹی کو دکھایا جاتا ہے جسے معاشرے پر انتہائی غلط اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ لوگوں میں ان اشتہارات کو دیکھ کر احساس کمتری پیدا ہوتی ہے، ہوس کی نئی نئی امنگیں جنم لے رہی ہوتی ہیں۔ ان اشتہارات میں سادگی نام کی چیز کا وجود تک نہیں ہوتا چنانچہ ایسے اشتہارات لوگوں کو ناجائز ذرائع سے دولت کمانے پر مجبور کررہے ہیں۔ معیار زندگی کو بلند کرنے والی اشیاء کے اشہارات دیکھ کر اہل خانہ بھی ان اشیاء کو اپنی بنیادی ضرورت سمجھنے لگتے ہیں جبکہ گھر کو واحد کفیل ان اشیاء کو خریدنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ گھروں میں لڑائی جھگڑے ہونے کی ایک وجہ یہ اشتہارات بھی ہیں۔

پھر ان میں ایسی ناشائستہ زبان گویا فحش زبان استعمال ہوتی ہے کہ یہ اشتہار مسلم معاشرے کا نہیں رہتا، بلکہ وہی گھٹیا تہذیب کا لب و لہجہ وہی انداز، وہی ثقافت! پھر مغرب کی نقالی کرتے ہوئے اب ہر اشتہارمیں خواتین کو پیش کیا جانے لگا ہے وہ بھی اس انداز میں کہ ان کے جسموں کی نمائش ہو۔ یہاں تک کہ ایسی مصنوعات کے اشتہارات میں بھی عورت کو شامل کیا جاتا ہے جن کا عورت سے دور دور تک واسطہ نہیں ہوتا، جیسا کہ شیونگ ریزر، موٹر سائیکل اور سگریٹ کے اشتہارات میں۔ کل تک تو صرف ملبوسات کے اشتہارات میں صنف نازک کا استحصال دکھائی دیتا تھا، آج تو پوری گنگا ہی اس طرف بہہ رہی ہے۔

ایک اور المیہ یہ ہے کہ اشتہار بناتے وقت تحقیق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ عورتوں کی خوبصورتی کا راز ایک صابن کے اشتہار میں بتایا جاتا ہے اور اسے وہی فلمی ہیروئن استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے جو پہلے سے ہی حسین ہے۔ بہرحال، اس سے قطع نظر یہ جاننا ضروری ہے کہ اشتہارات معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ سری لنکا میں قیمتی کھلونے کے اشتہارات پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی محض اس لیے کہ غریب کے بچے جب یہ اشتہار دیکھیں تو ان میں احساس کمتری جنم لے گا لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی ایسے اشتہارات کی بھر مار ہے کیا کسی کو اس کا احساس نہیں۔

ایک امریکی تحقیق کے مطابق امریکا میں ایک بچہ 2سال کی عمر سے 8 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے 10 ہزار اشتہار دیکھ لیتا ہے جو اس کی شخصیت سازی میں اہم ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ حال ہے ک بچے ٹی وی کے آگے سے اٹھتے ہی نہیں۔ کیا کارٹون؟ کیا ڈرامہ؟ ان میں ہونے والی بے ہنگم حرکات، بے ڈھنگے موضوعات، ناچ گانے، اچھل کود، اخلاق سے عاری زبان اور اسلوب یہ سب معصوم بچوں کے اذہان پر اپنے اثرات چھوڑتی چلی جاتی ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ اشتہارات نے ثانوی نوعیت کی چیزوں کو کو بنیادی بنا دیا۔ کہنے کو تو دنیا کی تمام اشیاء پر انسان کے لیے ضروری ہیں لیکن ضرورتیں بنیادی ہوتی ہیں کہ جن کے بغیر زندگی گزارنا محال ہے۔ ان بنیادی ضرورتوں میں پانی، غذا، تن ڈھاپنے کے کپڑے رہنے کے مکان وغیرہ شامل ہیں۔انسان صدیوں سے کنووؤں، نہروں اور چشموں کو استعمال کرتے ہوئے پانی جیسی نعمت سے مفت فیض یاب ہو رہا تھا۔ اب اشتہاری ادارے اپنی نام نہاد تحقیقات کے ساتھ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں تاکہ لوگ منرل واٹر خریدیں بلکہ اسے اپنی بنیادی ضرورت سمجھیں۔

دوسری طرف فیشن نےمت مار دی ہے۔ ہر شخص نت نئے کپڑے خریدے اور ایک ایسی دوڑ میں اسے لگا دیا جائے کہ وہ بس انہی چیزوں کا ہوکر رہ جائے۔ ضرورت تن ڈھانکنا ہے لیکن عیش اس پر بے جا اور فضول اخراجات ہیں جن کو کروانے میں اشتہارات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

گھر بھی انسان کی بنیادی ضرورت ہے جہاں وہ سکون سے رہنا چاہتا ہے لیکن اب اس حوالے سے بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہیجان برپا کردیا گیا ہے۔ ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن کے اشتہارات دکھا دکھا کر آدھی قوم کو تو پاگل کردیا گیا ہے۔ کتنے فیصد لوگ ہیں جو اپنی حلال کمائی کے ذریعے ان علاقوں میں مکانات لے سکتے ہیں؟ ایسے ہی اشتہارات نے لوگوں میں ناجائز طریقے سے کمانے کی ہوس پیدا کی ہے۔ وہ ویسا نظر آنا چاہتے ہیں جیسا کہ ٹیلی وژن پر دکھایا جاتا ہے۔ اشتہارات کی دنیا نے عیش کو انسان کی ضرورت بنانے کی جو کوشش کی ہے اس نے روایت پسند معاشروں کی بنیادی ہلا دی ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جو دوڑ شروع کروائی ہے، وہ ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے کی طرف اکسا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں دہشت گردی، قتل و غارت گری، چوری چکاری اور لوٹ مار عام ہوتی جا رہی ہیں، اس کی بنیادی وجہ ہے یہی ہے کہ بنیادی ضروریا کو چھوڑ کر مصنوعی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور اس میں بنیادی کردار اشتہارات کا ہے۔ اگر اس ضمن میں کچھ کام کیا جائے تو یقین جانیں معاشرے میں کافی سدھار آ جائے گا۔