دہشت گردی کی نئی لہر - قادر خان یوسف زئی

زیادہ تر پاکستانی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا نظام کب درست ہوگا؟ رشوت، اقربا پروری، میرٹ کا نہ ہونا، تشدد، خوف و ہراس، بے روزگاری، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ۔ میرے پاس کا تمام سوالوں کا حوصلہ افزا جواب نہیں ہوتا کیونکہ میں جب اپنے قرب و جوار میں دیکھتا ہوں تو مجھے ایسی کوئی قیادت نظر نہیں آتی تو جس پر تمام پاکستانی قوم متفق ہوں۔ کسی سیاسی جماعت کی دوسری جماعت سے ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ ہمارے سیاسی جلسے مخالفین کی تنقید کرنے تک محدود ہوگئے ہیں۔ جس میں وہ صرف مخالفین پر الزامات کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ مذاہب کی مختلف گروہ بندیاں اور مسالک ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے۔ یہ نہیں کہتا کہ تمام کے تما م خراب ہیں لیکن یہ ضرورمانتا ہوں کہ سب اچھے بھی نہیں ہیں۔ عوام کے پاس کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس تیسرے راستے کے لیے کوئی آپشن ہی نہیں رکھا گیا۔ انہیں پل کے راستے دریا پار کرنا ہے یا تیر کر پَار کرنا ہے لیکن ہر صورت دریا کو پاَر ہی کرنا ہے۔

روس نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں دس ہزار داعشی جمع ہوچکے ہیں۔ جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے۔ اگر یوں دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں جہاں افغانستان داعش کا عالمی گڑھ بن رہا ہے وہیں پاکستان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کئی ممالک پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر آج تک بڑے گھاؤ کھائے ہیں۔ ان کی وجوہات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان کے مسئلے کو لیکر پاکستان مستقبل میں اپنی بقا کے لیے ایک نئی پراکسی وار کے دور میں داخل ہوتا نظر آرہا ہے اور ظاہر ہے کہ ابتدائی طور پر قربانی کے بکرے فاٹا اور صوبہ پختونخوا کے علاقے ہی بنیں گے کیونکہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے بلند بالا و سنگلاخ پہاڑوں کے علاوہ جنگلات ایک آئیڈیل محفوظ جنگی ٹھکانے ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اب بھی وقتاً فوقتاً دہشت گردوں کا کم و بیش روز انہ نشانہ بن رہے ہیں۔

عالمی منصوبہ سازوں نے اس بار داعش کے نام پر افغانستان کے نام پر پاکستان کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عوامی مخالفت کے باوجود امریکا اور اُن کے اتحادیوں کو پاکستان کی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس کے نتائج ہم 1978ء سے 2017ء کے اختتام تک بھگت رہے ہیں اور کوئی ڈیڈ لائن بھی نہیں ہے۔ ہم چاہنے کے باوجود اس جنگ سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ جنھوں نے جنگ شروع کی ہے وہی جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بالعموم پاکستان، بالخصوص بلوچستان و خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کاروائیوں کو داعش کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے جو اس وقت افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہیں۔

یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ داعش کی مدد امریکا، اسرائیل اور بھارت کررہے ہیں۔ امریکا داعش کو جن مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اس سے بھی کوئی ناواقف نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں داعش کی موجودگی کے جواز کے لیے سرحدپار سے داعش کے نام سے دہشت گردی کے جتنے بھی وطن ِ عزیز میں واقعات رونماہورہے ہیں۔ ان کا نقصان صرف جانی و مالی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ مستقبل میں بیرونی مداخلت کی منصوبوں کی پیش بندیا بھی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے جس کے سبب ملک کے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ بیروزگاری کا عفریت تو شکنجے کس چکا ہے لیکن مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی تقسیم کے ایجنڈے کو تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی ہر قسم کی وابستگیوں کو تقسیم کرلیا ہے۔ یہ وابستگی، مذہب کے نام پر ہو یا فرقے مسلک کے نام پر۔۔ کسی بھی وقت اس آگ کو بھڑکا دیا جاتا ہے اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس پر جلتی کا کام کرجاتا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں ہمارے موضوعات عوام میں یک جہتی پیدا کرنے کے بجائے انتشار و تفرقے کا سبب بن جاتے ہیں۔

دولت اسلامیہ سے جو کام عراق و شام میں لینا تھا وہ اُن کے سرپرست لے چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال یوں بھی ہے کہ اگر کسی مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی گروہ مقدس مقامات کو نقصان پہنچاتا تو امت مسلمہ اپنے اختلافات بھلا دیتی اور پوری دنیا میں احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اسی طرح اہم تاریخی مقامات کی بربادی پر بامیان کے بُت گرانے جانے کے بعد جس طرح مغرب صف آرا ہوگئی تھی اگر یہی حرکت کوئی مسلم گروہ کرتا تو اُس کا حشر بھی افغانستان سے مختلف نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں مسلم امہ کو دھوکا دینے کے لیے سیاہ جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھ کر سب وہ کام کرالیے گئے جو یہود و نصاریٰ کرانا چاہتے تھے۔ افغانستان اس وقت تمام عالمی طاقتوں کے لیے معدنی خزانوں سمیت منشیات کا عالمی گڑھ ہے۔ کھربوں ڈالرز کی اس منڈی سے امریکہ، اسرائیل فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس نے بھارت کو اپنا سہولت کار بنا رکھا ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانستان کی سوویت یونین ، امریکہ، نیٹو کی جنگ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ ثمرات کی اس تقسیم میں اب امریکا پاکستان کو دوھ میں پڑی مکھی کی طرح اٹھا کر پھینکنا چاہتا ہے لیکن پاکستان میں اب بھی اتنا دم خم ہے کہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود تینوں اطراف سے ملک دشمن عناصر کے خلاف لڑرہا ہے۔ ملک میں سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوجی مداخلت کا راستہ بند کیا ہوا ہے۔ آج کھلے عام فوج کے کردار پر بھی بحث کی جاتی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے تاریخ رقم کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے پارلیمان کو مسلسل تین گھنٹے ہر قسم کے سوال و جواب دیے ہوں۔ کیا ہم اس بات کو نہیں سمجھ رہے کہ فوج کا مطمع نظر کیا ہے کہ پاکستان کی زمینی سرحدوں کی حفاظت اورآپ ملک کے نظریاتی اساس کی حفاظت کی ذمے داریاں سنبھال لیں۔

پاکستان اس وقت عالمی سازشوں کے اکھاڑے میں کئی پہلوانوں سے مقابلہ کررہا ہے۔ اگر پاکستان کے ساتھ اکھاڑے میں اُتر کر لڑنے میں کوئی امَر مانع ہے تو کم ازکم ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اُن کا ساتھ تو دیجئے۔ صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی نظام، یا پھر کوئی بھی نظام اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ایماندار قیادت نہ ہو۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک مرتبہ ضرور سوچیں کہ کیا ہمارے ملک میں کوئی بھی ایسی قیادت ہے جو جو پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرانے کے لیے سنجیدہ اور اہل ہو۔ مورثی سیاست، وڈیرانہ، جاگیردارنہ، سرمایہ دار، خوانین اور ملَکوں سمیت برادریوں کے ہم سب ذہنی غلام بنے ہوئے ہیں۔ آنکھوں پر پٹی باندھ کر ساری دنیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کبوتر کی طرح آنکھ بن کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ شکار نہیں ہوگا، شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لیتے ہیں کہ اس طرح خطرہ ٹل جائے گا۔

ایسا نہیں چلے گا۔ ہمیں آتش نمرود کو بجھانے کے لیے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انقلاب کے نام پر خون کی ندیاں بہا دو۔ لیکن کس کے خلاف، ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے یہ فیصلہ ضرور کریں۔ داعش کی فوج ظفر شمالی مغربی سرحدوں کے قریبی علاقوں میں موجود ہے اور پاکستان میں احساس محرومی کے شکار نوجوان ان کا ہدف ہیں۔ پاکستانی ادارے چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں۔ ان کا ساتھ دینے کا مطلب دراصل اپنے بچوں کو بچانا ہے۔ جب کسی سرز مین پر ظلم بڑھ جاتا ہے تو اُن پر ظالم مسلط کردیے جاتے ہیں۔ احساس سے عاری بننے سے قبل ضروری ہے کہ آنے والے فتنے کے سدباب کے لیے اللہ تعالی کی جانب ہم ابھی سے رجوع کرلیں۔ ب بھی رحمت خداوندی کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ بس اپنے قبلے کی جانب متحد ہوکر رب کائنات کے آگے سجدہ ریز ہوجائیں۔ اپنے گھر کو جلنے سے بچائیں۔ اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو اللہ تعالی کی جانب سے دی گئی عبرت کی مثالوں پر ایک مرتبہ ضرور غور کرلیں کہ قوم عاد، قوم ثمود، قوم صالح، قو، لوط کیوں تباہ ہوئی تھی۔ ورنہ شام، عراق، یمن، افغانستان، صومالیہ کی بربادی سے ہی سبق حاصل کرلیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */