وقت کا قانون - عزیر امین

میں بس کی کھڑکی سے گاڑیوں کی آمد و رفت، درختوں پر سستاتے پرندوں کے غول، سڑک کے کنارے ٹہلتے بیوپاری اور چوک پر کھڑے مزدوروں اور کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا اور بیک وقت مسکرا بھی رہا تھا اور رو بھی رہا تھا۔ اپنی بے بسی پر۔ چاہ رہا تھا کہ جا کر ان سب سے ان کا حال پوچھوں مگر وقت نے مجھے اجازت نہیں دی اور آنکھ جھپکتے میں ان سب مناظر کو پیچھے چھوڑتا جا رہا تھا کیونکہ وقت تو سونے کی بھی قیمت لیتا ہے اور سوچنے پر بھی معاوضہ۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو اپنے نظام میں کیسا جکڑا ہوا ہے کہ اسے ہر صورت جینا ہے، کبھی لمحے اس کی کایا پلٹ دیتے اور کبھی وہ اچھے وقتوں کی فقط تمنا میں ہی عمرِ رواں کاٹ دیتا ہے۔ جب وقت اس کی توقعات پر پورا نہ اترے تو انسان کے پاس بے بسی کے سوا کوئی چارہ نہیں اور بہتر تو یہی ہے کہ انسان اس بے بسی میں مسکرا دے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے ساتھ سمجھوتا کر لینے میں ہی عافیت ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ وقت اک نعمت ہے۔ اسے محبوب بنا لیں تو بہتر ہے کہ جس طرح محبوب کے ظلم بلا چوں چراں برداشت کر لیے جاتے ہیں اسی طرح وقت کے ستم سہہ لینے میں کیا قباحت ہے۔ وقت خدائے بزرگ وبرتر کا قانون ہے کہ اس زد میں ہر کوئی آتا۔ یہ قانون کائنات کے اک اک ذرّے پر لاگو ہوتا۔

ٹیگز