گریٹ وار گیم - خرم علی راؤ

80ء کے عشرے میں ایک انگلش ناول کا اردو تر جمہ پڑھا تھا جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ دنیا کی دو بڑی طاقتیں یہ طے کرتی ہیں کہ کیونکہ جنگوں میں بہت نقصان ہوتا ہے اور سپر پاورزکا اسٹیٹس کھو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لیے آرٹیفیشل یعنی مصنوعی جنگ کا انتظام کیا جائے جس کی صورت کچھ یوں ہو گی کہ دنیا میں ایک علاقہ منتخب کر لیا جائے جو جنگی اعتبار سے موزوں ہو یعنی وہاں صحرا، پہاڑ، جنگل وغیرہ ہوں اور دونوں سپر طاقتیں اپنا ایک ایک بہترین بہترین فوجی دستہ وہاں بھیجیں اور پھر مخصوص مدت کے تعین جیسے دو ہفتے یا ایک ماہ ایک پھرپور جنگ لڑی جائے جسے ساری دنیا ٹی وی اور میڈیا پر ایک لائیو شو کی طرح دیکھے اور پھر جیتنے والی سپر طاقت کو اگلے پانچ برس کے لیے نمبر ون تسلیم کرلیا جائے، پھر پانچ برس کے بعد یہ وار گیم دوبارہ ہو۔ اس پلان کے بہت سے فائدے اس ناول میں بیان کئے گئے تھے، جیسے سپر طاقتوں کے جدید ترین ہتھیاروں کی ٓزمائش، باقی دنیا پر ان ہتھیاروں اور اپنی ٹیکنالوجی کی دہشت قائم کرنا، عالمی جنگ سے محفوظ رہنا، جذبہ ء جنگ کی تسکین کرنا وغیرہ… اس ناول پر انہی دنوں شاید ہالی وڈ نے فلم بھی بنائی تھی۔

لگتا ہے کہ یہ ناول ہمار ے ذہین و فطین سپر طاقتوں کے منصوبہ سازوں کو بھا گیا اور تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ اس منصوبے کو حقیقی دنیا میں اپنا لیا گیا۔ پہلے روس کی افغانستان میں آمد اور ایک طویل جنگ کے بعد عبرتناک طریقے سے امریکن ڈپلومیسی کے ہاتھوں شکست کھا جانا اور پھر نائن الیون کے بعد دوسرا راؤنڈ یعنی پھر امریکا کی بمع نیٹو افواج آمد اور 16 سالہ جدوجہد برائے فتح جو 'ہنوز دلی دور است' کے مصداق ہے اور امریکا بہادر کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن کے رہ گئی ہے۔

سرزمین افغانستان کو شاید اس گریٹ وار گیم کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ مگر اس سارے معاملے میں ہمارے مغربی اور رشین منصوبہ سازوں نے ایک پہلو پر جانے انجانے میں دھیان نہیں دیا، دی ایکس فیکٹر، یعنی خدا… وہ اپنی ساری پلاننگ میں جس میں ان کے حساب سے زیادہ سے زیادہ نقصان غریب، پسماندہ، جدید ٹیکنالوجی سے نابلد مسلمانوں کا ہی ہونا تھا، یہ فراموش کر گئے ایک خالق مالک، ایک رب ذوالجلال بھی موجود ہے جو کسی بھی طرح کے مکر کو مکار پر ہی پلٹ دیتا ہے اور انہیں ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے۔ کیا کیا نہیں ہوا اس گریٹ وارگیم میں؟ کس کس طرح سے اسلام اور مسلمانوں پر کثیرالجہتی انداز سے حملے کیے گئے؟ کس کس طرح سے شعارانِ اسلام کا، اسلامی تہذیب و تمدن کا، قرآنِ پاک کا مذاق اڑیا گیا، بے حرمتی کی گئی؟ مگر نتیجہ کیا نکلا؟ پہلی سپر پاور ٹوٹ گئی اور دوسری ٹوٹنے کے قریب ہے۔ معاشی اعتبار سے امریکا بہادر اپنا سپر پاور والا اسٹیٹس کھو چکا ہے بس اس کی بے پناہ فوجی طاقت اسے مکمل تباہی سے بچائے ہوئے ہے … مگر کب تک؟

تو حاصل تحریر کچھ یوں بنتا ہے کہ اس گریٹ وار گیم نے جو تقریبا چار دہائیوں سے کسی نہ کسی طرح جاری ہے دونوں سپر طاقتوں کا باجا پوری طرح سے بجا دیا ہے، عجیب نتائج برآمد ہوئے ہیں، ایک اسلامی نیوکلئیر پاور وجود میں آگئی، ایک نئی ایشین سپر طاقت یعنی چین کا ظہور ہوگیا اور طاقت کا توازن بڑے عرصے کے بعد مغرب سے مشرق کی جانب پلٹ رہا ہے۔ پھر بھارت میں مودی جی اور امریکا میں ٹرمپ جیسے دیوانوں اور متعصب لوگوں کا بر سر اقتدار آجانا اور امریکا بہادر کا اپنا عالمی اثر و رسوخ کھو دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا انجام بس اب قریب ہی ہے۔ یہ ہے مرے رب ذوالجلال کی شان! جو جو بے گناہ اور مظلوم مسلمان مارے اس گریٹ وار گیم میں مارے گئے اسلامی عقیدے کے مطابق وہ جنّتی ہیں، چنانچہ وہ بھی نقصان میں نہیں رہے، نقصان کس کا ہوا اور مزید ہوتا نظر آرہا ہے؟ اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔