"آئینہ" - محمد عنصر عثمانی

"تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے کہ مجھ سے دور کھڑے ہوا کرو۔ تم سے بہت گندی بدبو آتی ہے۔اور ہاں !تم تو ہر مہینے کی د س تاریخ کو پیسے لیتے ہو نا؟ تو ابھی کیوں چاہیے تمہیں پیسے؟ آج تو چار تاریخ ہے نا؟ جاؤ اب یہاں سے، دس تاریخ کو ہی آنا اب۔ آئی سمجھ؟"رُندھی ہوئی آواز، غم واندوہ کے ملے جلے تاثرات سے وہ بس ” جی“ کہ کر رہ گیا اور اس بڑے سے گھر کا مالک اپنی سخن کی مثال دے کر بے شرمی و بے ضمیری کی منظر کشی کر کے اندر چلا گیا۔

کہتے ہیں انسان جب بولتا ہے، تب ہی وہ اپنے اندر چھپی انسانیت، ہزار پردوں میں ڈھکی اپنی شخصیت کی کنڈی کھولتا ہے اور آج جب اس نے بولا تو بولتا ہی چلا گیا۔

پراگندگی، بے توقیری، دھتکار نے اور ناجانے کتنے گھاؤ ڈالے ہوں گے؟ وہ بھی خالق کی شاہ کار تخلیق ہے۔ہم نے اس کی شکوہ کناں آنکھیں اور ان آنکھوں سے رب ذولجلال سے ہزاروں دلیلیں پوچھتے دیکھا۔ آہیں گلے میں پھانس کی طرح اٹک گئی ہوں جیسے۔انسان کے آنے کا مقصد کچھ اور تھا،لیکن انسان بالعموم اس مقصد سے ناآشنا رہا۔

ہماری مہربان آواز سن کر وہ ہمارے پاس آیا۔ ہم نے کہا : "تم ہمارے گھروں کا کچرا اٹھاتے ہو، ہمارے گھروں کی ساری گندگی کوڑا کرکٹ اور غلیظ اشیاء، جنہیں ہم ہاتھ تک لگانا گوارا نہیں کرتے اور اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، تم اسے اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر، جسم کپڑوں کی پروا کیے بغیر بڑی فراخ دلی سے دور پھینک آتے ہو۔ وہ صاحب تمہاری بے عزتی کر کے چلے گئے اور تم خاموش کھڑے رہے؟ تم ہمارے گھروں، محلوں، علاقوں، گلیوں، سوسائٹیوں کو صاف کرتے ہو اور ہم لوگ معاشرے کا سب سے کم تر درجہ تمہیں دیتے ہیں۔ ہماری تہذیب و اخلاق کا دائرہ تم پر چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ہماری اظہار ہمدردی اور خندہ پیشانی کا راستہ تم پر آکر مڑ جاتا ہے۔آداب مہمانی کا دروازہ بھی تم پر بند ہو جاتا ہے،کہ تم سے کوئی ایک گلاس پانی تک کا نہیں پوچھتا؟ "

ہمارے احساسات، جذبات کو وہ سمجھ گیا تھا، تبھی اس نے کہا :" یہ قدرت کی تقسیم ہے۔ہم حالات کے ڈسے ہوئے ہیں۔ معاشرہ ہمارے کام سے تو فیض یاب ہوتاہے مگر ہماری محنت کا پھل دینے کو تیار نہیں ہوتا۔پیدائش تو ان صاحب کی بھی قدرت کے اسی طریقہ کار سے ہوئی جیسے میری ہوئی، مگر ایسے لوگ ہم جیسوں کو ذلیل کرنا، کم تر سمجھنا، اپنا جدّی پشتی حق سمجھتے ہیں۔ ان کی اس اونچائی ا ور میری اس مغلوبیت میں فرق صرف ”بخت“ کا ہے۔ان کا بخت اچھا نکلا تو وہ بلّیوں اچھلتے ہیں، میرا بخت ان کی نظر میں مضحکہ خیز نکلا تو معاشرے میں مجروح ٹھہرا۔مجھے آج والدہ کے علاج کے لیے پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ بھیک مانگنے سے موت بہتر سمجھتا ہوں، اس لیے سوچا کہ آج کچرا بھی اٹھا لوں گا اور اپنی ماہوار تنخواہ بھی مانگ لوں گا۔لیکن اس بڑے گھر سے نکلنے والے صاحب اتنے چھوٹے نکلیں گے، کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ ہمیں اپنی زندگی کی گاڑی کا پہیہ چلانے کے لیے مہینے میں سو دو سو روپے ہر گھر سے چاہیے ہوتے ہیں اور یہ صاحب سو دو سو روپے تو بچوں کی جیب خرچ پر لُٹا دیتے ہوں گے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک روٹی کافی ہوتی ہے،اس ایک روٹی کے حاصل کرنے کے طریقے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہم بچی ہوئی ایک روٹی کھا لیتے ہیں اور یہ ہزاروں روپے ایک روٹی کھانے کے لیے خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم ایک روٹی کو حاصل کرنے کے لیے دَر دَر جاتے ہیں اور یہ اپنی ایک روٹی کی خاطر کئی ایک کے منہ کا نوالہ چھینتے ہیں۔ہم ایک روٹی دینے والے گھر کا کچرا مفت میں اٹھا لیتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایک روٹی دے کر ہم پر احسان کیا ہے اور یہ ایک روٹی دینے والے کی نا شکری کرتے ہیں۔ یہ ڈگریوں والے پڑھے لکھے، صبر و شکر کے مفہوم کو نہ سمجھ سکیں تو پھر ہم میں اور ان میں فرق کیسا؟

"کاروان انسانیت چلتا رہے گا، سامانِ تفریح بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ شہنشاہ اگر پیدا ہوں گے تو ہم جیسے لوگ بھی پیدا ہوتے رہیں گے، کیونکہ یہی خدائی اصول اور ارضی حق ہے۔اگر ہم سے کوئی فرعونی آواز میں بات کرتا ہے، تو کسی بندۂ خدا میں ہم صفت موسیٰ بھی دیکھتے ہیں۔ہم اپنی گدھا گاڑی کو کُل سرمایا سمجھتے ہیں، اپنی جان سے بڑھ کراس کی حفاظت کرتے ہیں، یہ جانور کم اور ہمارے کنبے کا پیٹ پالنے والا مسیحا زیادہ ہے۔ اور جن گھروں میں جا کر کچرا اٹھاتے ہیں، وہاں تو انسانوں کے کم جانوروں کے اوصاف زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ہم کسی گھر سے کھانا مانگ لیں تو ہمیں دودھ والے گندے پلاسٹک کے شاپر میں دیا جاتا ہے۔پانی مانگ لیں تو کہا جاتا ہے اپنی بوتل دو، اس میں بھر کر دیں گے یاپلاسٹک کے پرانے سے گلا س میں دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ گلاس اپنے ساتھ لے جانا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور وہی گلاس ہمارے گھروں میں ہم سب استعمال کرتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے کچرے میں پڑے اخبار میں دیکھا ایک انگریز ہوٹل میں بیٹھا کتے کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔

"صاحب ! ہم کلمہ بھی پڑھتے ہیں۔ مسلمان بھی ہیں۔ اس نبی ﷺ کی امت بھی ہیں کہ جس نبی ﷺ نے مسلمانوں کو آپس میں بھائی کا درجہ دیا۔ اخوت کا درس دیا، محبت کے باغ لگائے،الفت کی کرنیں بکھیریں۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہر تفریق کو مٹا دیا تھا۔ حبشہ کے غلام اور فارس کے شہزادے کو ایک چٹائی پر حدیث و قرآن کا سبق پڑھایا، دین حق سکھایا، ایک تھال میں کھانا کھلایا، ایک پیالے سے دودھ پلایا۔ یکساں رویہ روا رکھا۔ اگر جانور شکایت کرتا تو جانور کی محبت میں بھی درد دل کے ساتھ ا س کے غم میں شامل ہو تے۔ایسی امت میں ہمارے مسلمان بھائی جب ہم سے ایسا سلوک کرتے ہیں تو مجھے وہ عالی شان ریسٹورنٹ میں بیٹھا کتے کے ساتھ کھانا کھاتا انگریز بہتر لگتا ہے۔"

ہماری گلی کا یہ کچرا جمع کرنے والا کچرے کے ساتھ میری ساری تعلیمی ڈگریوں کو آئینہ دیکھا گیا۔