میں خدا کو معاف کرسکتا ہوں - ادریس آزاد

(ایک حقیقی مکالمہ، جسے موضوع کی نزاکت کے پیش نظر فرضی مکالمے میں ڈھال دیا گیا)

شاعر: ’’ میں خدا کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ جو اس نے مجھے میری اجازت کے بغیر دنیا میں بُلا کر ذلیل کیا۔ اس بات کے لیے میں اُسے معاف کرتوسکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ بدلے میں وہ مجھے پہلے معاف کرے‘‘

صوفی: ’’سبحان اللہ! اور اگر آنکھ کھلنے پر ایک فرشتہ ہاتھ میں اشٹام پیپر لیے کھڑا ہوا اور تمہیں دکھا کر کہے، ’یہ دیکھیے حضور! آپ کے دستخط موجود ہیں، اس دستاویز پر۔ آپ اپنی مرضی سے ہی تشریف لے کر گئے تھے‘‘

عالم:’’جی ہاں! عالم ِ ارواح میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی روحوں کو ایک جگہ جمع کرکے وعدہ لیا تھا۔ اس واقعے کا قرآن میں بھی ذکرہے۔ الستُ بربکم اور قالو بلیٰ والی آیات اِسی واقعہ پر مشتمل ہیں‘‘

شاعر: ’’یہ کیا بات ہوئی؟ مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں۔ قرآن میں ہوگا۔ قرآن میرے سر آنکھوں پر لیکن مجھے بھی تو یاد ہونا چاہیے نا؟‘‘

قلندر: ’’ شاعربھائی! بات یہ ہے کہ اللہ کی رحمت بے پایاں ہے۔ وہ ہرحال میں ہمیں معاف کردیں گے۔ اللہ کی شانِ کبریائی کو زیبا ہی نہیں کہ وہ کسی کو سزا دے۔ مٰلک یوم الدین کی شناخت ہی یہ ہے کہ وہ فقط رحمان اور رحیم ہے۔ شاعر بھائی! آپ اتنی بڑی بات، ایسے گستاخانہ لہجے میں کہنے کی بجائے ایسے کام ہی نہ کیا کریں نا کہ آپ کو معافیاں مانگنی پڑیں۔ کیا خیال ہے؟‘‘

شاعر:’’نہیں یار! میری اجازت کے بغیر مجھے دنیا میں لایا گیا۔ یہ سراسرزیادتی ہے‘‘

قلندر:’’اچھا پھر یوں کرو! کہ اُس پہاڑی سے چھلانگ لگا کر قصہ ہی پاک کردو۔ تمہیں تمہاری اجازت کے بغیر بلایا گیا نا؟ تم بغیر بتائے واپس چلے جاؤ۔ اس میں اتنا غصہ کرنے کی کیا بات ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:   مذہب اور خدا کی واپسی -محمد عرفان ندیم

صوفی:’’آں ہاں! یہ کیا کرتے ہیں صاحب! خودکشی بزدلی ہے اور حرام ہے۔ میاں! اپنے دل میں درد پیدا کرو! زندگی بامقصد لگنے لگے گی۔ زندگی بامقصد لگنے لگی تو یہ شکوہ، شُکر میں بدل جائے گا۔ تم کہا کروگے۔ شکر ہے مالک! تیرا لاکھ لاکھ شکرہے کہ تُو نے مجھے اس دنیا میں آنے کا موقع دیا‘‘

عالم:’’آپ نے یہ جو کہا کہ آپ اِس شرط پر اللہ کو معاف کرسکتے ہیں کہ وہ پہلے آپ کو معاف کردے۔ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کس قسم کی معافی چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو مرنے کے بعد جنت اور جہنم میں سے جنت چاہیے؟ کیا اس قسم کی معافی مانگ رہے ہیں؟ جنت تو انعام ہے۔ وہ تو اچھے کاموں کا بدلہ ہے۔ آپ نے اگر اچھے کام ہی نہیں کیے تو آپ کو بدلہ کیونکر دیا جائے؟ قرآن پاک میں ہے کہ فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔ پھر اس دن کسی پرکچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اورتم اسی کا بدلہ پاؤ گے جو کیا کرتے تھے (۵۴) چنانچہ اگر تو آپ جہنم سے معافی مانگ رہے ہیں تو پھر آپ لامحالہ جنت چاہتے ہیں؟‘‘

صوفی: ’’مقام اعراف بھی تو ہوسکتاہے۔ وہ مقام جہاں نہ جہنم ہے نہ جنت۔ شاعر صاحب وہاں کی خواہش کررہے ہوں گے‘‘

شاعر:’’نہیں! کوئی بھی مقام نہیں۔ بس ختم۔ میں مرجاؤں اورپھر نہ اُٹھایا جاؤں۔ اگر ایسا معاہدہ کرلیا جائےتو میں خدا کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘

عالم: ’’استغفرللہ‘‘

صوفی: ’’اللہ آپ کو ہدایت دے‘‘

قلندر:’’اوئے! جا بیٹا! تجھے معاف کیا۔ بس اب خوش؟‘‘

شاعر:’’ تھینکس گاڈ صاحب! 🙂 آپ کی اس بات پر تو فیس بک کا سمائیلی ہی پیش کرسکتاہوں‘‘

Comments

ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسفہ کے استاد ہیں۔ کئی کُتب کے مصنف ہیں، جن میں چند معروف تاریخی ناول بھی شامل ہیں۔ فزکس، فلسفہ، اقبالیات، ارتقأ، جدید علم الکلام، لسانیات، اور اسلامی موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھے گئےمضامین قارئین کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.