عجیب لوگ ہیں - زبیر منصوری

عجیب لوگ ہیں!

بہت عجیب!

دیر و بونیر کی مٹی میں دین کے لیے محنت محبت اور مخلصانہ پن گندھا ہوا ہے۔

میں مرکزی تربیت گاہوں میں ان سے ملتا ہوں یا پھر تیمرگرہ اور بیلامبٹ میں ان سے گرم جوش معانقے کیے، یہ جہاں بھی ملے ایک ہی طرح مسکراتے محنت کرتے تیز ترک گامزن ملے!

اب اسی دن کو دیکھیے جب صبح کا سفر پارلیمنٹ لاجز سے سراج الحق صاحب کے ساتھ شروع ہوا اور میں نے جانا کہ بس چند ہی گھنٹے میں ہم تیمرگرہ ہوں گے۔ مگر یہ کیا؟ ابھی بٹ خیلہ پہ دریا کا پُل کراس کیا تو گاڑیاں ایک طرف کو مڑ گئی۔ معلوم ہوایہاں ایک اسکول میں امیر جماعت کو کچھ مقامی ساتھیوں کی لمبی گفتگو سننی تھی جو انہوں نے محبت شفقت اور توجہ سے ان کے سیرہو جانے تک سنی اور میں پشتو نہ سمجھتے ہوئے ہونقوں کی طرح سنتا رہا کہ

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

یہاں سے نکلے توگاڑی ایک بازار سے کتیاڑی کی طرف مڑی اور ٹوٹی پھوٹی سڑک پر گھنٹہ بھر چل کر ایک جگہ تعزیت کے لیے رکی۔ پھر تو گویا رکتی، بڑھتی، چلتی چلی گئی۔ بچوں نے دیکھا تو انہیں محبت سے سلام، ان کے نعروں کا جواب۔ واپسی پر راستے میں امیر محترم اور مقامی ساتھی کے درمیان کسی پشاوری چپل کا ذکر ہوا۔ میں آدھا پونا سمجھا اور پتہ تب چلا گاڑی کتیاڑی کی ایک دکان پر جا رُکی۔ اب امیر صاحب نے حکم دیا "زبیر بھائی! یہاں سے میں اپنے لیے جوتے خریدتا ہوں۔ اس بار میں بعد میں لے لوں، آپ میری طرف سیے ہدیہ قبول فرمائیں"

سرخ رنگ کے نرم ملائم بالکل لائٹ ویٹ جوتے لیے اور سوچا اب تو بیلامبٹ پہنچ کر ہی ڈیرے ڈالے جائیں گے۔ مگر ابھی تو تالاش میں بھوسے کے ڈھیر پر دو صحافیوں کے کیمروں سے بات کی، پھر ایک کارکن کے دو بیٹوں کی دعوت اڑائی اور سراج بھائی ثمر باغ اپنی امی جان کو سلام کرکے عشاء میں اجتماع میں پہنچے تو میرا آدھا پروگرام روک کر انہیں وقت دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

پتہ ہے کیوں؟

کیونکہ انہیں رات بھر سفر کر کے لکی مروت پہنچنا تھا!

عملی حالات و روایات سے ناواقف مجھ جیسے دانشور کچھ دیر کے لیے زبان کو دانتوں کے نیچے دبائے رکھیں ۔پلیز!

باقی لوگ جان لیں، دیر اگر آج بھی ہمارے لیے تازہ ہوا کے جھونکے بھیجتا ہے تو وہ اس لیے کہ وہاں ایک سراج الحق نہیں تقریباً ہر کارکن سراج الحق ہی ہے۔

اور کہاں کہاں کا کارکن سراج الحق ہے؟

ذرا ہاتھ کھڑے کیجیے گا ؟

شاباش!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.