مزاحمت زندگی ہے - زبیر منصوری

اپنا حق مانگنا اک جرم بغاوت ہے یہاں
اس جرم کی پاداش میں ہونٹوں کو سیا جاتا ہے۔

زبانیں بانٹنے والے بے زبانو
آوازیں اٹھانے والے بے آوازو
تمھارے لیے انصاف کا کوئی در نہیں کھلے گا۔
اس لیے کہ تمھارے حصہ کے اجارہ دار سب سے طاقت ور ہیں۔

میرے بے بس بھائیو!
تمھارے حق کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھے گی اس لیے کہ ڈنڈا برداروں کے کلب میں سب ایک دوسرے کے کھلے یا چھپے اتحادی ہیں۔
کوئی سیاستدان تمھاری مدد کو نہیں آئے گا اور فوٹو سیشن کے لیے کوئی آیا تو واپسی پر وضاحتیں دیتا پایا جائے گا۔
تمھارے اندر سے تمھیں بآسانی توڑ لیا جائے گا، دام ہمرنگ زمین بچھا کر صاف بچ نکلا جائے گا۔

تمھارے بچے کے فیڈر کا دودھ چھیننے والوں سے پوچھو
سی آئی اے کے فرنٹ کے طور پر اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے "ٹریننگز" کے بعد ملنے والی رقم کس عیاشی میں اڑا دی گئی؟
ایک ایک اسٹیشن سے کروڑوں کا بزنس کرکے بیسیوں نئے بزنس بنا لینے والے کب کنگال ہوئے؟

دیکھو!
تمھیں اللہ کے بعد اپنی عقل وقوت بازو پر بھروسہ، سوشل میڈیا کی قوت کا استعمال، ان کی آمدنی کے ذرائع پر ضرب اور باہمی اتحاد ہی باعزت مقام دلا سکتا ہے۔
دیکھو!
واللہ اگر تم پہلے مظلوم کو تنہا نہ چھوڑتے تو آج یہ مسلمان بنیے سوچ سمجھ کر تمھیں پریشان کرتے۔
اپنے میں سے دیانت دار، دیر تک اور دور تک سوچ کر خاکہ ترتیب دینے والے غیر جذباتی ساتھیوں کو اپنا بڑابناؤ اور پہلے پلان بی سوچ لو۔
ان سنگدلوں سے کسی خیر کی امید نہ رکھنا!

خبردار!
ان کے پاس تم جیسوں کو لالی پاپ دے کر، دایاں دکھا کر بایاں مارنے کا تین نسلوں کا تجربہ ہے۔
خبردار
عارضی وقتی فوری فائدہ دیکھ کر بھول نہ جانا کہ ان کی یادداشت بہت اچھی ہوتی ہے اور بدلہ لینے میں یہ لوگ عرب کے اونٹ سے زیادہ کینہ پرور ہوتے ہیں۔
انھوں نے ابلاغ کے مقدس عمل کو مشن سے معاش و انڈسٹری بنا دیا ہے، مگر تمھارا حق دینے کے معاملے میں ان کے پاس سینکڑوں عذر ہیں۔
دیکھو!
اپنے ساتھیوں کو تنہا نہ چھوڑنا، یہ اکیلا اکیلا کر کے سبق سکھانے کے بہت ماہر ہیں۔

ان کے بڑے کہہ گئے تھے، ہمارا اخبار تو ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے جہاں شراب بھی دستیاب ہے اور جائے نماز بھی، جو چاہیں لے لیں۔

وہ بڑا آدمی، جلال الدین خوارزم شاہ اپنے عمل سے بتا گیا تھا کہ
"مزاحمت زندگی ہے، اسے چھوڑا تو معتبر رہو گے نہ معزز۔۔۔۔"

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.