ادب پہلا قرینہ ہے - عظمیٰ ظفر

شادی کے ابتدائی مہینوں میں دعوتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ہنستی مہکتی نئی زندگی شفق کو بہت اچھی لگ ہی تھی۔

"مامی جان چائے!" شفق نے شام کی چائے ٹیرس پر موجود اپنی ساس کو دی اور خود بھی نزدیک کرسی پر بیٹھ گئی۔

"شکریہ خوش رہو،" انہوں نے کپ تھام لیا "تم کب تک مجھے مامی جان کہو گی؟ اب میں تمہاری ساس بن گئی ہوں بہو رانی! روایتی ساس بنوں گی تم دیکھنا۔" انہوں نے شفق کو ڈرایا۔

"مگر میں تو مامی جان ہی کہوں گی جیسے بچپن سے کہتی آرہی ہوں۔ آپ جو بھی سلوک کریں" شفق نے ہنستے ہوئےکہا۔

:بھئی خوب!" مامی جان بھی ہنس پڑیں۔

"السلام علیکم ینگ لیڈیز! کیا بات ہے بڑی خوش گپیاں چل رہی ہیں" سعد ٹیرس میں داخل ہو ا۔

"وعلیکم السلام، آج بہت جلدی آگئے؟" سعد نے حسبِ عادت امی کی گردن میں اپنے بازوؤں کا گھیرا بنایا تو وہ بولیں۔

"جلدی جلدی کہاں امی؟ اپنے ٹائم پر ہی آیا ہوں۔ آپ تو باتوں میں لگی ہیں بہو کے ساتھ۔ اب بیٹے کی فکر کہاں آپ کو؟ بہت دل لگ گیا ہے آپ کا۔ بیٹا کب آتا ہے؟ کب جاتا ہے؟ کیا کھاتا ہے؟ بھوکا تو آفس نہیں جاتا؟ کپڑے استری ہوتے ہیں یا نہیں؟ کچھ خبر ہی نہیں۔ نو ٹینشن!" سعد نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
م
امی اس کی باتیں سن کر ہنس پڑیں۔ "اچھا؟ تو اور کیا شکایات ہیں آپ کو مجھ سے؟ یعنی میں آپ کا خیال نہیں رکھتی؟ سن رہی ہیں آپ ان کی باتیں مامی جان؟" شفق نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

"سعد! تم مت ستاؤ اِسے۔ مجھے پتہ ہے کتنا خیال رکھتی ہے شفق تمہارا اور بہت پیاری اور خیال رکھنے والی ہے شفق!"

"ارے یاد آیا! آج ابراہیم نے کھانے پر دعوت دی ہے اور سارے دوستوں کی فیملی کو بھی بلایا ہے، جلدی تیار ہو جانا۔ امی آپ کو لازمی جانا ہے، آپ کی بھی دعوت ہے کوئی انکار نہیں چلے گا۔" سعد نے گویا حتمی بات کہ دی۔

شفق یوں تو بہت خوش مزاج اور خوش اخلاق تھی مگر دوستوں کی دعوت کا سن کر اُسے کچھ خاص خوشی نہیں ہوئی۔ اُسے ایسی محفلوں میں ہونے والی گفتگو کا اندازہ ہو گیا تھا ایک دوسرے کی غیبت کرنا، اپنی بڑائی بیان کرنا، معنی خیز جملے کہنا۔ یہی موضوعِ گفتگو ہوتا۔ اُس نے نیم دلی سے جانے کی تیاری کی۔

"کیا بات ہے؟ آج لوگ بڑے اداس لگ رہے ہیں؟ اتنے ہلکے رنگ کا سوٹ کیوں پہن لیا؟ جانے کا موڈ نہیں ہے تو منع کردوں؟" سعد نے بستر پر سیدھے لیٹتے ہوئے پیر کے اوپر پیر رکھا اور ہلانے لگا۔

"نہیں! منع کیوں کریں گے؟ دعوت دی ہے تو جانا بھی ضروری ہے۔" شفق کو سعد کی یہ حرکت اچھی نہیں لگ رہی تھی مگر اسے سعد کو اس بات سے روکنا بھی ضروری تھا۔

"سنیے! جب آپ سیدھے لیٹا کریں تو پیروں کو ایک دوسرے کے اوپر مت رکھا کریں پلیز!"

"کیوں بھئی؟ یہ تو میری بچپن کی عادت ہے" سعد بدستور مصروفِ عمل تھا۔

"وہ اس لیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے پاؤں پر پاؤں رکھنے سے منع فرمایا جبکہ چِت لیٹا ہو اور دوسرا یہ کہ اس طرح کرنے سے مجھے الجھن ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ آپ کی خوبصورت شکل مجھے آئینے میں دکھ نہیں رہی۔" ڈریسنگ ٹیبل کے پاس بیٹھے بالوں میں برش کرتے ہوئے شفق نے شرارت سے مسکراتے ہوئے اتنی اپنائیت اور محبت سے کہا کہ سعد نے اس کی بات مان لی اور کروٹ بھی بدل لی۔ یوں طریقے سے کی گئی بات سعد کی برُی بھی نہیں لگی اور اصلاح بھی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

شفق نے نسبتاً ہلکے کام والا سوٹ نکال کر لباس تبدیل کرلیا جو سعد کا پسندیدہ تھا۔ بہرحال شفق کو اپنے شوہر کی پسند کو اپنی پسند بنانا تھا اس کی پسند کو اولین ترجیح دینی تھی۔

سعد کے دوستوں میں آج ساتویں دفعہ سب کی بیگمات سے ملاقات ہونی تھی۔ شفق کچھ دیر سوچتی رہی پھر جلدی سے دراز سے کچھ چیزیں نکالیں۔ چھوٹے چھوٹے کارڈز پر کچھ لکھا پھر اسے اپنے پرس میں ڈالا۔ اب وہ مکمل تیار تھی۔ سعد نے اس کی تیاری کو پسندیدگی کی نگاہ سے سراہا۔

"ایک بات بتاؤ، تم نے امی کو یہ تو نہیں بتایا کہ گھر سے باہر میں کبھی کبھی سگریٹ پیتا ہوں؟" سعد نے پوچھا۔

"ابھی تک تو نہیں بتایا کیونکہ وہ کبھی کبھی کا شوق ہے لیکن آپ اس برے شوق کو جلد ترک کردیں ورنہ…؟" شفق شرارت سے یہ کہہ کر چپ ہو گئی۔

"ورنہ کیا؟ امی کو شکایت لگاؤ گی؟" سعد نے گھورا۔

"ہر گز نہیں میں شکایت نہیں کروں گی کیوں کہ آپ کی عزت میری بھی عزت ہے آپ کی غلطیوں کو میں درست کروں گی اور میری غلطیوں کی آپ اصلاح کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے قرآن میں؟ تو میں معمولی معمولی باتوں کی شکایت کسی سے بھی نہیں کروں گی۔ آپ بھی میری غلطیوں کو سب کے سامنے نہیں کہیں گے، الگ سے سمجھا دیجیے گا۔ سمجھے؟ ورنہ! مامی کو سب پتہ چل جائے گا۔"

"دھمکی کی ضرورت نہیں مادام! میں سمجھ گیا۔ اب چلیں؟"

ان کے گھر سب ہی دوست اور ان کی بیگمات جمع تھیں۔ کچھ دیر تو شفق مامی جان اور ابراہیم کی والدہ کے ساتھ ہی بیٹھی رہی۔ پھر مسز ابراہیم نے اس کا تعارف اپنی اور بہن بھانجی سے کروایا جو لاہور سے آئی تھیں۔ ان کی بھانجی ابھی چھوٹی تھی آٹھویں جماعت کی طلبہ تھی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگی ہنسی مذاق کا سلسلہ جاری تھا۔ مسز خالد جو پھلجھڑیاں چھوڑنے میں زیادہ ماہر تھیں اچانک شفق سے پوچھنے لگیں اور دلہن صاحبہ کیسےگزر رہے ہیں گولڈن ڈیز؟ سعد کتنا رومینٹک ہے؟ ہمارے شوہر صاحب تو بہت اَن رومینٹک ہیں، کیوں فائزہ؟ انہوں نے فائزہ کے ہاتھ پر تالی ماری اور خوب قہقہ لگا کرکچھ مزید ذو معنی باتیں کیں جو شرم و حیا کے پردے میں بھی کسی دوسرے کے سامنے کرنا سخت منع ہے۔

شفق پہلو بدل کر رہ گئی اس جگہ بزرگ بھی تھے اور تجسس کی سوچ لیے جوان ہوتی بچی بھی۔ شفق کوئی جواب دے ہی نہیں پائی۔ الحمد للہ کہہ کر چپ ہوگئی۔ پتہ نہیں شادی کے بعد لڑکیاں یہ شرم و حیا کی چادر کیوں اتار دیتی ہیں؟ شادی ہو جانے کا مقصد یہ تو نہیں کہ ہر بات کہنے کی آزادی مل گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

"بھئی ہمارے سرتاج تو بہت بورنگ ہیں، خشک مزاج بلکہ میرا تو پورا سسرال ہی ایسا ہے ہنسنے کے چور۔ کسی کا بھی 'سینس آف ہیومر' اچھا نہیں۔ میری تو کوئی بات پسند ہی نہیں آتی، نہ میرا کام اچھا لگتا ہے۔" مسز خالد نے حسبِ عادت اپنے ہاتھ کو ہوا میں لہرا لہرا کر دل کی بھڑاس نکالی۔

"ارے واہ! کتنے خوبصورت کڑے ہیں۔ کب لیے؟" مسز ابراہیم نے ان کی کلائی تھام لی۔

"ہاں! گولڈ کے ہیں، آپ کو تو پتہ ہے نا میں نے اپنی پڑھائی شادی کے بعد مکمل کی تو خالد نے ماسٹرز کرنے پر مجھے یہ گفٹ دیا ہے۔"

"تو آپ کو وقت مل گیا پڑھنے کا? آپ کے تو بچے بھی چھوٹے ہیں۔" شفق نے گفتگو میں حصہ لیا۔

"ہاں بھئی میری ساس نندوں نے بہت ساتھ دیا، بچے بھی ان کے ہی پاس رہتے تھے زیادہ تر۔" شفق ان کے رویّے پر حیران رہ گئی۔ ابھی تو وہ ان سب کی برائی کر رہی تھیں۔ "اگر آپ لوگ بُرا نہ منائیں تو کچھ باتیں بتاؤں آپ کو؟ "

"ہاں ہاں ضرور بتاؤ"

شفق نے بہت نرمی اور سمجھانے کے انداز سے غیبت کے حوالے سے کچھ احادیث بتائیں۔ اس مکروہ عمل کے نقصانات بتائے اور وہ آرٹیکل جو مریم جمیلہ علوی نے زوج کی غیبت کے حوالے سے لکھا تھا وہ بھی سب کو موبائل سے پڑھ کر سنایا۔ کچھ دیر کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اس خاموشی کو مسز خالد نے ہی توڑا۔ "تم نے بہت بڑی برائی کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے تمہارا بہت شکریہ شفق۔" وہ بھرائی آواز سے بولیں ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

"میں آ پ لوگوں کے لیے ایک تحفہ لائی ہوں امید ہے پسند آئے گا۔" شفق نے سب کو بہت خوبصورت فوٹو فریم دیے جس پر اس نے بہت اچھی لکھائی میں چھوٹی سی دعا لکھ کر فریم میں لگائی تھی "آئینہ دیکھتے وقت کی دعا، آپ سب اس فریم کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھیے گا" شفق نے انہیں وہ گفٹ دیا۔ باتوں کا رخ اب بے کار اور لغو باتوں سے ہٹ چکا تھا شفق نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔

دعوت سے گھر واپس آکر شفق بہت مسرور تھی۔ "کون سا سونگ گنگنایا جا رہا ہے؟ ہم بھی سنیں ذرا" سعد نے کہا۔

"سونگ؟" شفق نے اپنی پیاری آواز میں پڑھنا شروع کیا۔ الحمد لّلہ الذی بنعمتی تتم الصالحات۔ جب میں خوش ہوتی ہوں تو خوشی کی دعا پڑھتی ہوں جناب! سونگ نہیں۔"

"مان گئے بھی امی کی بہو بہت اچھی ہے۔ آج جو باتیں ابراہیم کے گھر تم نے کیں، امی بتا رہی تھیں مجھے۔ سب کا دل جیت لیا ہماری بیگم نے۔ بھئی زبردست" سعد نے خوشی سے کہا۔

شفق سوچ رہی تھی واقعی

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ٹیگز

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.