میں ہوں پاکستان - خرم علی راؤ

میرے بنانے والوں نے مجھے بہت امیدوں آرزوؤں اور بہت سے سنہرے خوابوں کے ساتھ بڑی محبت اور بے شمار قربانیوں کے بعد تخلیق کیا تھا۔ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھاگیا تھاجو مظلوموں، مجبوروں، مہقوروں،بے کسوں کی پناگاہ ہوگی۔ ایک جدید مسلم فلاحی ریاست جہاں اسلام کے سنہری اور ابدی اصولوں کا عملی اطلاق کرکے دنیا کو دکھایا جائے گا کہ یہ ابدی و سرمدی اصول ہردورمیں نہ صرف قابلِ اطلاق ہیں بلکہ انسانی فوز و فلاح کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ آغازِ سفر بہت شاندار تھا، قائدین کا اخلاص مشعل راہ بنا اور مسافت تیزی سے طے ہونے لگی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ جلد ہی دنیا کے نقشے پر عرصے کے بعد ایک مسلم سپر پاور کا ظہور ہوگا۔

لیکن … پھر کچھ نادیدہ ہاتھ، کچھ اسلام دشمن غیبی طاقتیں بڑی خاموشی سے حرکت میں آئیں اور گویا منظر ہی بدلتا چلا گیا۔میں جو 50ء کی دہائی میں دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے ممالک کی فہرست میں نمایاں تھا، میں جس کی ہر شعبے کی پالیسیاں دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ملک اپنا رہے تھے، جس کے کھلاڑی نامساعد حالات کے باوصف کھیل کے کئی میدانوں میں میرا سبز ہلالی پرچم بلند کر رہے تھے، میرا ہر رہائشی میری محبت اور قومی تفاخر میں ڈوبا ہوا تھا، میرے اسکالر دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے تھے، میں جو دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم پر آواز اٹھانے والوں کی صف اوّل میں ہوتا تھا، میں جسے اسلام کا قلعہ قرار دیا جاتا تھا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز تھا۔ اپنی سمت ہی تبدیل کر بیٹھا، وجوہات، حالات،واقعات کچھ بھی ہوں کچھ قدرتی اور کچھ انجینئرڈ، کچھ غیروں اور کچھ اپنوں کی سازشیں، مگر اس تیزی سے زوال کا آنا شروع ہوا جیسے پانی نشیب کی طرف آتا ہے اور میں کمزور سے کمزور ہونا شروع ہوگیا۔ پھر تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ دن بھی آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ٹوٹ گئی، مجھے دولخت کردیا گیا، نفرتوں اور تعصب، ہوسِ اقتدار اور خود غرضی کی بھڑکتی آگ میں سب بھسم ہوگیا۔ مگر میں نے ہار نہ مانی!

یہ بھی پڑھیں:   اور ہماری شہ رگ کٹ گئی - محمد عاصم حفیظ

میں نے اپنے لخت لخت وجود کو سمیٹا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا، اور اس دوسرے راؤنڈ میں میں نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کردیا، تمام تر رکاوٹوں، نا مساعد حالات، پابندیوں کے باوجود میں نے نیوکلیئر طاقت بننے کا ارادہ کیا اور پھر ایک ایسی عظیم الشان اور زبردست جد و جہد کا آغاز ہوا جو کسی جاسوسی ناول سے بھی زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز ہے۔ میرے سپوتوں نے دیوانہ وارمستانہ وار ہر رکاوٹ کو اڑا کو رکھ دیا، دشمنوں کی ہر گہری چال ناکام کرکے ان پر ہی پلٹ دی گئی اور میں نے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالو جی سینیٹری فیوج سے جو اسوقت کی سپر پاورز کہلانے والی طاقتوں کے پاس بھی نہیں تھی یورینیئم کے جگر (نیوکلیئس) کو چیرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور یوں تاریخ کی پہلی مسلم نیوکلیئر طاقت وجود میں آگئی۔

اب میں نے ترقی کی شاہراہ پر تیز چلنا شروع کردیا ہے اور عالمی اداروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جلد ہی میرا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہونے لگے گا۔ میرے بانیان نے میرے حوالے سے اپنے فرمودات میں جو کچھ فرمایا تھا میں اس کی عملی تفسیر بننے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہوں، ٹرین پٹڑی پر آ گئی ہے اور اب اس کی رفتار بڑھتی ہی جانی ہے اور دنیا دیکھے گی کہ پاکستان نام کا یہ ملک کیسے ایک دن دنیا پر راج کرتا ہوا نظر آئے گا ان شاء اللہ ۔

یہی تقدیر ہے اور یہی ہونا ہے، اسے مجذوب کی بڑ نہ سمجھنا۔ فی زمانہ دشمنوں کی ہر چال، ہر کوشش کو ناکام ہوتا اور خود انہی پر پلٹتا دیکھ کر بھی اگر یقین نہیں آ رہا تو دیکھتے رہو، اب تو بہت کچھ ہوتا دیکھو گے میرے لحاظ سے اچھا ہی اچھا اور دشمنوں کے اعتبار سے بہت برا!