مجلس عمل، جماعت اسلامی کا سیاسی پھندا؟ - اسامہ الطاف

گزشتہ ہفتہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست کے لیے تاریخی تھا۔منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان کو بریفنگ دی،یہ کسی بھی سپہ سالار کی دیگر عسکری قیادت کے ہمراہ ایوان بالا میں پہلی آمد تھی،پاکستان میں جمہوریت کے لیے یہ پیش رفت یقیناً انتہائی مثبت اور خوش گوار ہے۔سینیٹ کے مذکورہ اجلاس کی اہمیت کی وجہ حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کی منظوری بھی تھی،اس سے قبل ترمیمی بل سینیٹ میں کئی مرتبہ پیش ہوا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر منظور نہیں ہوسکاجس کے باعث عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالہ سے شکوک و شبہات جنم لیں رہے تھے،لیکن منگل کو اس بل کی منظوری کے بعد بروقت انتخابات کے انعقاد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں۔

اس حقیقت کا تدارک کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے، انتخابی جوڑتوڑ اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔آئندہ سال منعقد ہونے والے عام انتخابات میں گو اصل کہ مقابلہ حکمراں جماعت مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہوگا لیکن حالیہ واقعات کے پیش نظر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ایک طرف روایتی مذہبی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کیا تو دوسری طرف ملّی مسلم لیگ، لبیک یا رسول اللہ کی صورت میں نئی مذہبی جماعتیں بھی سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے قیام کا مقصد(قیادت کے مطابق) مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک کو یکجا کرنا ہے، لیکن سیاسی منظر نامے پر وجود میں آنے والی نئی سیاسی جماعتیں اس اتحاد میں شامل نہیں، علامتی اہمیت کی حامل مولانا سمیع الحق کی جمعیت علماء اسلام بھی اس اتحاد کا حصہ نہیں،عوامی نمائندگی کے معیار پر پرکھا جائے تومتحدہ مجلس عمل میں صرف جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کو کسی درجہ میں عوامی نمائندگی حاصل ہے،یوں متحدہ مجلس عمل حقیقت میں مذہبی جماعتوں کا متحدہ پلیٹ فارم نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے اتحاد کی تصویر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حسین فاروق مودودی کی کتاب اور اپنے حصے کی گواہی - محمد عامر خاکوانی

جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کی سیاست میں بنیادی اختلاف ہے، جماعت اسلامی کا مقصد پاکستان کی سیاست کو اشرافیہ کے قبضہ سے آزاد کرکے ایماندار قیادت فراہم کرنا ہے جو اسلامی پاکستان کے منشور پر عمل پیرا ہو،جبکہ جمعیت علماء اسلام اقتدار میں حصہ داری کے ذریعے حکومت کے ممکنہ غیر اسلامی اقدامات کی روک تھام کی قائل ہے،یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار سال میں دونوں جماعتوں کی پالیسیاں متضاد رہی ہے،بنیادی قومی امور پر دونوں جماعتوں کا موقف یکسر مختلف رہا ہے۔

اس پس منظر کو دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ متحدہ مجلس عمل میں شمولیت جماعت اسلامی کے بنیادی مقاصد کے حصول میں مددگار نہیں ہوگی،کیونکہ اس اتحاد میں وہ جماعت بھی شامل ہے جو اشرافیہ کی مددگار اور حصہ دار رہی ہے،اس اتحاد کی قیادت کا دامن کرپشن کے الزامات سے بھی پاک نہیں،یوں جماعت اسلامی ایک متنازع اتحاد میں شامل ہے، جس سے مستقبل میں جماعت اسلامی کی عوامی ساکھ اور مقبولیت پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

مذکورہ بالا تضادات سے صرف نظر کرکے گزشتہ انتخابات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کے باہمی اتحاد سے سیاسی منظر نامے پرکسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ گزشتہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کی قومی اسمبلی میں مجموعی نشستیں 17اور مجموعی ووٹ 25لاکھ تھے۔ یہ تعداد حکومت کی تشکیل تو درکنار اپوزیشن میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔خیبر پختونخوا میں ، جہاں ماضی میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت رہی ہے ، دونوں جماعتوں کی مجموعی نشستیں 23ہے، جبکہ کل نشستوں کی تعداد 99ہے۔متحدہ مجلس عمل کے قیام سے صوبائی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ضرور ہے لیکن حکومت کی تشکیل کے لیے مطلوبہ نشستیں ن لیگ سے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ن لیگ سے صوبائی سطح پر اتحاد ہوتا ہے تو جماعت اسلامی کی ایماندار کی قیادت کا دعویٰ ایک بار پھر مشکوک ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا سراج الحق کو کشمیر کمیٹی کا رکن بننا چاہیے؟ مسعود ابدالی

قابل غور اور دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے قیام سے جمعیت علماء اسلام اپنے مقصد کے تحت اقتدار میں حصہ داری اور سیاسی لین دین بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہوگی اور سیاسی نقصان سے بھی محفوظ ہوگی۔جماعت اسلامی کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ متحدہ مجلس عمل میں شمولیت کے بعدمستقبل میں ایسا نہ ہوکہ عوام ان کا شمار بھی مسترد شدہ روایتی سیاسی جماعتوں میں کریں اور متحدہ مجلس عمل جماعت اسلامی کا سیاسی پھندا ثابت ہو!

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.