آخری چند دن دسمبر کے - سعدیہ نعمان

لکڑی کی چھڑی سے مٹی کی دیوار پہ اک تاریخ رقم کر دی گئی ہے۔

باہر سرد خنک دھند زدہ موسم نے انگڑائی سی لی ہے۔

آسمان سے کچھ بوندیں لپک کے زمیں پہ اتری ہیں۔ جذبوں کے کچے پکے رنگ کھلکھلانے سے لگے ہیں۔ پنجاب کے میدانی علاقے کے ایک روایتی گاؤں کے آنگن میں زرد ہوتے پتوں والے سبز پیڑوں پہ گہری سی اک رات اتر رہی ہے۔

صحن میں چراغ جل اٹھے ہیں، دالان کے بیچوں بیچ دہکتے کوئلوں کی انگیٹھیاں رکھ دی گئی ہیں۔

کچھ آدم زاد اپنے بھر پور قہقہوں میں سال بھر کے دُکھوں کو دفن کر رہے ہیں۔ ہنسی کے طوفان میں آنکھوں کے نم ہوتے گوشوں کو ہتھیلی کی پشت سے رگڑ کر غم کو مات دینے میں مگن ہیں۔ مونگ پھلی اور چائے کا دور چل رہا ہے۔

آنگن میں بنے مٹی کے چولہے پہ گھی سے بھری بڑی سی کڑاہی رکھی ہے اس میں بننے والے فنگر چپس کی اور راکھ میں دبے آلوؤں کی مہک چہار سو پھیلی ہنستی کھیلتی اور چہکتی زندگیوں کو اپنے گرد جمع کر رہی ہے۔

ایک جانب سے کسی دل جلے نے مصرع کھنچ مارا ہے

ہم تم ہوں گے بادل ہو گا۔

سر لگانے کی دیر تھی کہ بہت سی آوازوں نے تال سے تال ملا دی ہے۔

ٹھنڈے یخ بستہ فرش پہ براجمان کچھ سرپھرے دیوانوں کے بیچ گویا غزل گائیکی کا کوئی مقابلہ شروع ہو چلا ہے، عجب سماں بندھ گیا ہے

ہم تم ہوں گے بادل ہو گا

رقص میں سارا جنگل ہوگا

عشق کی راہ پہ چلنے والو

رستہ سارا دلدل ہو گا

وصل کی شب اور اتنی کالی

( آواز بلند ہوتی ہے)

وصل کی شب اور اتنی کالی

ان آنکھوں میں کاجل ہوگا

فنگر چپس کی دو کڑاہیاں بن کے ختم ہو چکی ہیں، امیدوار اب بھی باقی ہیں۔

جانے والوں کو یاد کیا جا رہا ہے، اب گنگناہٹ میں درد دل شامل ہے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں

اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا

اب باہر جاؤں کس کے لیے

آہ!

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

کسی نے کوئلے سے سوندھی مٹی پہ لکھا ہے اور نجانے کب یہ غزل گائیکی بیت بازی میں ڈھل چکی ہے۔

سب ی کا، الف کا شعر کنگھالنے میں مصروف ہیں۔ کیمرے کی آنکھ نے کچھ اچھوتے سے منظر محفوظ کر لیے ہیں۔

رات کب چپکے سے آدھی بیت گئی، کچھ پتہ نہیں چلا ۔ کچھ ہی دیر میں یہ محفل برخاست ہو جائے گی۔ پھر کہر آلود منجمد کر دینے والی صبح میں سورج نکلنے کا دلکش منظر دیکھنے کے لیے کئی آنکھیں دور کھیتوں کی جانب لگی ہوں گی، جہاں سے اک سنہری تھال ہولے ہولے کرنیں بکھرتا ابھرے گا۔ یکا یک زندگی جاگ جائے گی، تازہ مسواکیں توڑی جائیں گی، توے پہ بننے والے گرما گرم دیسی گھی کے پراٹھوں کی خوشبو چار سو پھیل جائے گی۔ آم کا اچار اور بھاپ اڑاتی چائے کے ساتھ ان پراٹھوں کا ناشتہ ایسا لازوال ذائقہ بخشے گا کہ کوئی کبھی بھلا نہ پائے گا۔

دسمبر کے ان آخری دنوں کی یہ کہانی، کوئی پچیس برس ہوئے اس کہانی کو بیتے ہوئے۔

پھر دسمبر لوٹ کے آئے گا تو کون جانے کس کا ساتھ ہو اور کون ہاتھ چھڑا لے؟ سنو

بہت کچھ ٹوٹ کے بکھر چکا ہے

بہت سے اپنے بچھڑ گئے ہیں

کوئی پچیس برس پرانی کہانی۔

یہ کہانی یونہی چلتی رہے گی بس کردار بدل جائیں گے۔ کل ہم جہاں تھے آج تم وہاں ہو اور ہم کہاں ہیں؟

آو مل کے تلاشیں!

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.