حنفیت، اہل حدیثیت، غامدیت اور سیکولرازم: کرنے کا اصل کام - حافظ محمد زبیر

روزنامہ جنگ، 24 دسمبر 2017ء کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں خبر لگی ہے کہ جس میں امریکی پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ، ڈاکٹر قبلہ ایاز، خورشید ندیم اور عمار خان ناصر صاحب وغیرہ کے "مذہب اور ریاست" کے باہمی تعلق پر کچھ بیانات اس خبر کی زینت بنے ہیں۔

خورشید ندیم صاحب کے بقول سب سے بڑی غلطی جو پاکستان بننے کے بعد ہوئی وہ یہ سمجھنا تھا کہ "اسلام" ریاست پاکستان کا دین ہے۔ ان کے بقول "اسلام" معاشرے کا دین ہے اور ریاست کا کوئی دین نہیں ہوتا۔ مسلمانوں میں جتنی بھی احیائی تحریکیں ہیں، وہ بس طاقت کا حصول چاہتی ہیں اور دنیا میں مسلمانوں میں ہونے والے ظلم وستم کی اصل ذمہ دار یہی انقلابی تحریکیں ہیں۔

یہ وہی مذہبی بیانیہ ہے جو سارا غامدی مکتب فکر بیان کرنے میں لگا ہوا ہے اگرچہ اس میں ان کے بیان کے لیولز مختلف درجہ کے ہیں۔ کچھ تو دہشت گردی کی جڑیں مدارس میں تلاش کرنے میں ہی لگے رہتے ہیں اور دینی مدارس کو دہشت گردی کی اصل بنیاد سمجھتے ہوئے ریاستی اداروں کو موٹیویٹ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان مدارس پر لشکر کشی کریں۔ اور کچھ کو سارے فساد کی جڑ "پولیٹیکل اسلام" میں نظر آتی ہے۔

غامدی مکتب فکر کے فالوورز نہ صرف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اپنا فکر بہت محنت سے پھیلا رہے ہیں بلکہ ایک نوجوان نسل کو بھی اس فکر کا امین بنانے کے لیے پوری محنت اور تندہی سے تیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں روایت پسند حلقے کیا کر رہے ہیں تو اس کا جواب ہے کہ کچھ نہیں کر رہے۔ ان میں سے اکثر کو یہ سمجھانا ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ "فکری کام" بھی کوئی کرنے کا کام ہے اور یہ میدان علماء نے لبرلز، تجدد پسند اور سیکولر طبقے کے لیے خالی چھوڑ رکھا ہے۔

میری خواہش ہے کہ یہاں فیس بک پر تین اہل علم موجود ہیں؛ ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب جو کہ فاضل درس نظامی اور بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرا ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور تیسرا حامد کمال الدین صاحب جو اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو یہ تینوں حضرات فکری ذہن رکھنے والے روایت پسند دانشور ہیں۔

یہ تینوں مل کر اگر کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں ایک ایک دن کی "فکری ورکشاپس" درس نظامی کے فارغ التحصیل طلباء کے لیے منعقد کروائیں تو اس سے روایت پسند اہل علم میں نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کی جا سکتی ہے جو فکری چیلنجز کا جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہو۔ اور الحاد، دہریت، جدیدیت، ما بعد جدیدیت، مغربی افکار، استشراق، انکار حدیث اور تجدد پسندی جیسے جدید فتنوں کا نہ صرف گہرائی میں درک رکھتی ہو بلکہ اس کا جواب دینے کی مشق بھی کر چکی ہو۔ بعد ازاں ایڈوانس نوعیت کی ورکشاپس بھی منعقد کروائی جا سکتی ہیں۔

بھئی، غامدی مکتب فکر اسی لیے ہر جگہ نمایاں ہے کہ وہ کام کر رہے ہیں۔ جو کام کرے گا، لوگ اسی کو جانیں گے، اس لیے کام کریں۔ روایت پسندوں کے مخالفین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں لیکن وہ ہر جگہ نظر آتے ہیں اور آپ کے جو نمائندے بھی وہاں ان کی کسی تقریب میں پہنچ جاتے ہیں تو بجائے اپنی بات کرنے کے انہی کی ہاں میں ہاں ملا کر واپس آ جاتے ہیں۔

میں نے اہل حدیث طلباء کی فکری تربیت کے لیے ایک "بیانیہ" اسلامی نظریہ حیات کے نام سے تیار کیا تھا۔ اب خواہش اور کاوش بھی ہے کہ اشاعت کے بعد وہ وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب میں شامل ہو جائے۔ یہی کام حنفی علماء کے کرنے کا بھی ہے ورنہ تو حنفی مدارس میں عمار خان ناصر صاحب جیسے اسکالرز پیدا ہوتے رہیں گے اور اہل حدیث مدارس میں مبشر احمد لاہوری صاحب جیسے۔ یا تو ان کو دل سے قبول کر لیں، اگر نہیں کر سکتے تو ان کے لیول کے فکری مصلحین پیدا کریں۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.