عورت کا حق مہر، شرعی قدر و قیمت اور بُنیادی احکام (3) - عادل سہیل ظفر

پچھلی قسط

(4) کم سے کم اتنی مقدار جو کسی چیز کی قیمت یا کرایہ تصور کیا جا سکے، یہ بات مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین کے اقوال کی روشنی میں یہ کہی گئی۔

(5) مرد کا سارا مال، یا اس کا آدھا، یا کوئی بھی مقدار، ایک دانہ یا تنکا اناج، یا کوئی حلال کام بھی مہر کے طور پر مُقرر کیا جا سکتا ہے۔

چوتھے اور پانچویں قول کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :

(1) أٔمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ " جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے عرض کیا "یا رسولَ اللہ أِبتنی اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے "، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےاِرشاد فرمایا عِندَکَ شیء تُعطِیہا؟ تمہارے پاس اسے (مہر میں )دینے کے لیے کچھ ہے ؟ ﴾،

میں نے عرض کیا"لا جی نہیں"،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےاِرشاد فرمایا أین دِرعکَ الحطمیۃ تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟
م
یں نے عرض کیا "عندی میری پاس ہے "،

تو فرمایا أَعطِہَا دِرعَکَفاطمہ کو اپنی درع (بطور مہر )دے دو۔"

(2) سھل بن سعد رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ" ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور کہا"اے اللہ کے رسول میں اپنا آپ اللہ اور اُس کے رسول کو ھبہ کرتی ہوں (یعنی ان کی ملکیت میں دیتی ہوں کہ جیسے چاہیں مجھے استعمال کریں ) "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک نظر مُبارک اس کی طرف فرمائی اور پھر سر مُبارک جھکا لیا اوراِرشادفرمایا [arabic]مَا لِی فِی النِّساءِ مِن حَاجۃٍ مجھے عورتوں کی ضرورت نہیں۔

تو حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا "اے اللہ کے رسول اس عورت سے میری شادی کروا دیجیے "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشادفرمایا أَعِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تمہارے پاس (مہر میں دینے کے لیے )کچھ ہے ؟،

اُس صحابی رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا "جی نہیں "

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا إِذھَب إلَی أَھلِکَ فَانظُر ھَل تَجِدُ شیاءً جاؤ اپنے گھر والوں میں جا کے دیکھو کہ شاید کچھ مل جائے۔

اُس صحابی رضی اللہ عنہ ُ نےواپس آکر عرض کیا"مجھے (مہر میں دینے کے قابل )کچھ نہیں ملا۔"

تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا أُنظُر وَلَو خَاتَمًا مِن حَدِید (جاؤ پھر دیکھو)خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے ۔

وہ صحابی رضی اللہ عنہ ُ پھر گئے اور واپس آ کر عرض کیا "اے اللہ کے رسول لوہے کی انگوٹھی تک بھی نہیں ہے، صرف میرا یہ اِزار (نچلے بدن کو ڈھاپنے والا کپڑا)ہے۔"

سھل بن سعد رضی اللہ عنہ ُ نے(بات کی وضاحت کے طور پر)عرض کیا "اس کی جو چادر ہے اس کا آدھا عورت کا ہو جائے گا"

یہ بھی پڑھیں:   "مجرم والدین" اور بے لگام آزادیاں - محمد عاصم حفیظ

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےاِرشاد فرمایا ما تَصنَعُ بِإِزَارِکَ إن لَبِستَہُ لم یَکُن علیہا منہ شَیء ٌ وَإِن لَبِسَتہُ لم یَکُن عَلَیکَ شَیء ٌوہ عورت تمہاری چادر کا کیا کرے گی کہ اگر تُم چادر لو گے تو وہ اس کے اوپر کچھ نہ ہوگا اور اگو وہ چادر لے گی تو تمہارے اوپر کچھ نہ رہے گا۔

یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ ُ خاموش ہو رہے، اور کافی دیر بیٹھنے کےبعد اُٹھ کر واپس چل پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنہیں(اِس طرح غمزدہ اورپریشان ہو کر )جاتے ہوئے دیکھا تو اُنہیں واپس بلوایا اوراِرشاد فرمایا مَاذَا مَعَکَ مِن القُرآنِ تمہارےپاس قُرآن میں سے کیا ہے ؟(یعنی قُرآن میں سے کیا آتا ہے ؟)۔

اُس صحابی رضی اللہ عنہ ُ نے (سورتوں کے نام )گِن گِن کر عرض کیا "میرے پاس فُلاں فُلاں سورت ہے ۔"

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا أَتَقرَؤُھُنَّ عَن ظَہرِ قَلبِکَ کیا تُم یہ سورتیں ز ُبانی پڑھتے ہو ؟،

صحابی رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا "جی ہاں!"

تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا اِذھَب فَقَد مَلَّکتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِن القُرآنِ جاؤ میں نے وہ عورت اُس قرآن کے عوض جو تمہارے پاس ہے تمہاری ملکیت میں دی۔

اور ایک روایت کے الفاظ ہیں اِذھَب فَقَد زَوَّجتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِن القُرآنِ جاؤ میں نے وہ عورت قرآن کے اُس حصے کے عوض جو تمہارے پاس ہے تمہارے نکاح میں دی۔"

اپنے موضوع پر گفتگو کو آگے چلانے سے پہلے ایک اور اہم موضوع کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لیے یہ ایک سوال اور اُس کا جواب آپ کی خدمت میں پیش کرتا چلوں، اور وہ یہ کہ "ایک ہی حدیث مختلف ابواب میں ذکر کیوں کی گئی ؟ "

جواب کیونکہ ایک ہی حدیث میں سے اتنے احکام ملتے ہیں جتنے ابواب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بنائے، اور یہ امام بخاری کی عظیم اور باریک بیں فقہ کی دلیل ہے، افسوس ان لوگوں پر جو محدثین کا حدیثیں جمع کرنا اور کسی پنساری کا جڑی بوٹیاں جمع کرنا ایک ہی کام سمجھتے ہیں، اور فقہا کو حکیم سمجھتے ہیں جو جڑی بوٹیوں کو ان کے خواص کے مُطابق استعمال کرتے ہیں۔ اس فلسفے کے شکار یہ نہیں دیکھتے کہ محدثین نے جو ابواب باندھے ہیں وہ ہر ایک حدیث میں موجود احکام کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ پس محدثین کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو بیک وقت پنساری اور حاذق حکیم ہے کہ اس نے ہر جڑی بوٹی کو بیماری کے نام کے لیبل لگا لگا کر الگ الگ کر کے رکھ دیا۔ ایسا نہیں کیا کہ جڑی بوٹیاں اکٹھی کر کے بس ایک جگہ لا ڈھیر کِیں، اس موضوع پر بات پھر کبھی سہی اِن شاء اللہ!

اپنے مضمون کے موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے کہتا ہوں کہ ابھی ابھی ذِکر کردہ حدیث شریف کے ذریعے اور کئی احکام کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ کسی مادی قدر و قیمت والی چیز کے علاوہ قُران سیکھانا بھی عورت کا مہر مُقرر کیا جا سکتا ہے،

یہ بھی پڑھیں:   "مجرم والدین" اور بے لگام آزادیاں - محمد عاصم حفیظ

لیکن یہاں یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی ہے کہ یہ مُعاملہ معمول نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ یہ صِرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کوئی عورت نکاح کی خواہاں ہو اور اس کو نکاح میں لینے والا مرد کوئی بھی چیز دے سکنے کے قابل نہ ہو، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے منھج پر چلنے والا کوئی مُسلمان حاکم وقت اُس مرد کی مالی و مادی کمزوری کا بہت اچھی طرح اندازہ کرنے کے بعد، دونوں کی باہمی رضا مندی سے اس عورت کا مہر کوئی ایسی چیز مُقرر کر سکتا ہے جو مادی قدر و قیمت کی حامل نہ ہو۔

اِس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عورت دُنیا میں کسی بھی چیز کے حصول کے بغیر صرف آخرت کی کسی خیر کو اپنا مہر قُبول کرسکتی ہے۔

اِس مسئلے کی ایک اور دلیل

أنس ابن مالک رضی اللہ عنہُ اپنی والدہ اُم سلیم کے دوسرے نکاح کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ

"ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ُنے اُم سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کی پیشکش کی تو اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا "تُم جیسے کو انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن میرا اورتُمہارا نکاح ممکن نہیں کیونکہ میں مُسلمان عورت ہوں اور تُم کافر مَردہواور میرے لیے حلال نہیں کہ میں تُم سے نکاح کروں لیکن اگر تُم اِسلام قبول کر لو تو وہی میرا مہر ہو گا اور میں اُس کے علاوہ کچھ اور طلب نہیں کروں گی۔"

احادیث کی دیگر کتب میں اس واقعہ کی دیگر تفصیلات بھی ملتی ہیں، جن میں اور بہت سے سبق ہیں، لیکن یہاں میں اپنے موضوع سے براہ راست متعلق روایت پر اکتفاء کر رہا ہوں، اور اِس کے ساتھ ہی اپنی بات، پہلے سے کہی ہوئی بات دہراتے ہوئے ختم کرتا ہوں کہ " ان سب دلائل و مباحث کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مہر کی مقدار مُقرر کیے جانے کی کوئی نص یعنی لفظی یا عملی بات اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے میسر نہیں، لہذا ہم کسی مقدار کو نہ سنّت قرار دے سکتے ہیں اور نہ خِلاف سُنّت، جی ہاں مہر کو اتنا زیادہ کر دینا کہ نکاح کے بنیادی فوائد، شرمگاہ کی حفاظت، پاکیزہ مُعاشرہ، کثرت أولاد، کا حصول گر ناممکن نہیں تو مشکل ہو جائے، جائز نہیں ۔"

اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اُس کے احکام و فرامین کو اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قولی و عملی تفسیر و شرح کے مُطابق سمجھیں، اور اُس تفسیر و شرح کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کی روشنی میں سمجھیں اور کسی بھی قِسم کے تعصب یا ضد کا شکار نہ ہونے پائیں۔

ختم شد

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.