"جانو، ڈارلنگ اور لو یو!" - رعایت اللہ فاروقی

دیکھیے دو طبقے ہیں، ایک لبرل طبقہ اور دوسرا ہم "نارمل طبقہ" ہم بات بے بات بیوی کو "آئی لو یو" نہیں کہتے، اس کے لیے گاڑی کا دروازہ نہیں کھولتے اور بازار میں کاکے کے ساتھ ساتھ اس کا بیگ بھی اٹھائے نہیں پھرتے۔ وہ تیسری دکان سے بھی کچھ خریدے بغیر نکل آئے تو ہم کہتے ہیں "تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں، کچھ خریدنا نہیں ہے تو گھر چلو"

وہ آگے سے خون خوار نظروں سے گھور کر گاڑی کا رخ کر لیتی ہے اور گھر آکر وہ طوفان سر پر اٹھاتی ہے کہ الامان و الحفیظ! ہم دفتر میں ہوں تو اس کی جرات نہیں ہوتی کہ بے سبب کال کرکے اپنے حاضر ناظر ہونے کا احساس دلائے اور ہم گھر لوٹ آئیں تو نہ وہ چھپ چھپ کر ہماری قمیض پر زنانہ بال تلاش کرتی ہے اور نہ ہی اسے سونگھ کر زنانہ خوشبو کی باقیات ڈھونڈتی ہے۔ اور تو اور گھر آمد پر اگر وہ چخ چخ سے ہمارا استقبال کرے تو جواباًٌ کھری کھری سنا بھی دیتے ہیں، جس کا انتقام وہ کبھی چائے میں چینی کم کرکے لیتی ہے تو کبھی سالن میں نمک تیز کرکے۔ اس جملہ ہنگامہ خیزی میں ہی ہم دونوں بہت سے بچوں کے ماں باپ بھی بن جاتے اور پھر چالیس پچاس سال بعد ہم میں سے کوئی ایک لڑھک جاتا ہے۔ جو پیچھے رہ جاتا وہ اپنی باقی جملہ حیات پوتے پوتیوں کو لڑھکنے والے سے وابستہ اپنی حسین یادیں سنانے کے لیے وقف کردیتا ہے۔

اس کے برخلاف لبرلز کو "سچا پیار" بانٹنے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ نکاح سے قبل ہی "غوتا غوت" والی سرحدیں عبور کر جاتے ہیں، یوں شادی کا کارڈ جانو کی الٹراساؤنڈ رپورٹ کے بعد ہی آتا ہے۔ بات بے بات آئی لو یو کی تکرار کیے جاتے ہیں۔ آفس تو آفس ڈارلنگ گھر کے واش روم میں بھی زیادہ وقت لگا دے تو جانو وہاں بھی کال کر کے پوچھتی ہے

"ڈارلنگ کیا کر رہے ہو؟ "

جب وہ بتا دیتا ہے کہ کیا کر رہا ہوں تو یہ پوچھتی ہے

"ساتھ کون ہے؟ "

گاڑی کا دروازہ کھولنا ڈارلنگ کی ایسی پرمننٹ ڈیوٹی کہ اگر ڈارلنگ ابھی گھر سے نہ نکلا ہو تو جانو گاڑی کے دروازے کے سامنے کھڑی انتظار کرتی ہے کہ ڈارلنگ آکر دروازہ کھولے تو وہ بیٹھے۔ بازار میں ڈارلنگ بیچارا بیگ اٹھائے اس دکان سے اس دکان گھنٹوں دم چھلا بنا چل رہا ہوتا ہے جس سے اس کی ٹانگیں تو جواب دیدیتی ہیں لیکن جانو کا مال چیک کرنے کا شوق ختم نہیں ہوتا۔ گھر لوٹ کر ٹانگوں کی چمپی کی شدید طلب اسے ہوتی ہے لیکن اداس شکل لیے ٹانگیں دبانی بھی اسے ہی پڑ جاتی ہیں اور ٹانگیں دبواتی جانو اس کی بارہ بجاتی شکل دیکھ کر کہتی ہے

"ڈارلنگ! آئی لو یو"

جی ہی جی میں پی وہ زہر کا گھونٹ جاتا ہے لیکن جواب اس کا ہوتا ہے

"جانو! آئی لو یو ٹو"

بات بے بات لو یو کی اس تکرار کے ہوتے چائے میں چینی کم ہوتی ہے اور نہ ہی کھانے میں نمک تیز لیکن اس کے باوجود ان کی شادی 3 سال سے زیادہ نہیں چلتی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ "خلع" کی ماری یہ مخلوق اس کرہ ارض کی سب سے جینئن منافق مخلوق ہے۔ ان کے "جانو، ڈارلنگ اور لو یو" پر نہ جائیں، اندر سے سڑاند ان کے وجود کو کھوکھلا کرچکی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فطری رشتے کو بھی یہ تین سے پانچ سال ہی نبھا پاتے ہیں۔ جو گھر نہیں چلا سکتے ان گدھوں کا اصرار ہے کہ ریاست ان سے بہتر کوئی نہیں چلا سکتا!

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.