میری کرسمس – کفر یا ایمان؟ - ڈاکٹر محمد عقیل

میری کرسمس پر آج کل زوردار بحث چل رہی ہے۔ ایک گروہ اس اصطلاح کا مطلب خدا کا بیٹا لے کر اس کے کہنے والوں پر کفر کا اطلاق کررہا ہے تو دوسرا گروہ وارفتگی میں میری کرسمس بولنا مذہنی و اخلاقی فریضہ ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت ان دونوں کے بین بین ہے۔ جہاں تک میری کرسمس کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو یہ سادہ الفاظ میں "ہیپی کرسمس "یا "کرسمس مبارک ہو" بنتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم عید مبارک کہتے ہیں۔ بالفرض میری کرسمس کے لغوی معنی خدا کا بیٹا ہی کے ہیں تب بھی اس اصطلاح کے موجودہ معنی " کرسمس مبارک ہو " ہی لیے جائیں گے۔ اس کی وجہ زبان کا وہ عمومی قاعدہ ہے جس کی بنا پر لغوی معنوں پر اصطلاحی معنوں کو فوقیت دی جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات لغوی معنی ماضی کا قصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
اس کی کئی مثالیں ہر زبان میں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی کا ایک لفظ ہے " لفظ"۔ اس کے لغوی معنی پھینکنا ہے۔ لیکن آج لفظ سے مراد حروف کا مجموعہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح غزل کے لغوی معنی عورتوں کی بات چیت کرنا ہیں لیکن آج غزل ایک صنف ادب ہے۔ شوربا کا مطلب نمک کا پانی ہے لیکن آج اس سے مراد سالن لیا جاتا ہے۔ شعر کا مطلب کسی چیز سے جان پہچان کرنا ہے لیکن آج ہم شعر کا مطلب کچھ اور لیتے ہیں۔عورت کا مطلب چھپی ہوئی چیز ہے لیکن ہم اس سے مراد صنف نازک ہی لیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ لغوی معنی کو اہل زبان جن معنوں میں استعمال کریں، انہی معنوں کا اعتبار ہوتا ہے۔ چنانچہ میری کرسمس کو اہل زبان "کرسمس مبارک "ہی کے عمومی معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اسی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔ ہاں! اگر کسی کو ذاتی طور پر یہ استعمال ناپسند ہو تو وہ دلائل کے ذریعے بات واضح کرسکتا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرسکتا ہے لیکن کفر کے فتووں کا اظہار کسی طور مناسب نہیں۔

دوسرا گروپ ان لوگوں کا ہے جو کرسچن بھائیوں سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت میری کرسمس کہنے کو دین یا اخلاق کا کوئی بنیادی تقاضا قرار دینے پر تُلا ہے۔ عیسائیوں کو مبارک باد دیناایک ذاتی فعل ہے جس کا تعلق انسان کے ذوق، مزاج، طبیعت اور رحجان سے ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تو عید مبارک کی پوسٹیں بھی اپنے مزاج کی بنا پر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بداخلاق لوگ ہیں یا انہوں نے کسی غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کیا۔ میری کرسمس کہنا یا نہ کہنا ذاتی ذوق پر مبنی ہے اور اسے ذوق تک ہی محدود رکھنا چاہیے، اس میں مذہب کو شامل کرنا نامناسب ہے۔ میری کرسمس بولنے پر روکنا اور رکنے پر بلوانا دونوں نامناسب رویّے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آپ گذشتہ 21 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پچھلے 14 سال سے کالم نگاری اور تحقیقی مقالات بھی لکھ رہے ہیں۔ تزکیہ نفس آپ کی اسپشلائزیشن ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ کی ان بے معنی دلیلوں اور لایعنی لفاظی کی ہر بات کا شافی و کافی جواب ہے مرے پاس۔۔ مگر آپ کے لئے یہی بہتر ہے کہ آپ اپنی اسی جہالت میں پھنسے رہیں اور میری کرسمس کہہ کہہ کر خوش ہوتے رہیں۔۔