دشمن کا بچہ - جہانزیب راضی

میرے ایک دوست کراچی کی معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ ہر سال ایم – فل میں آنے والے طلبہ و طالبات سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ وہ کیوں پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں؟ اس سال انٹرنیشنل ریلیشنز کے مضمون میں 34 طلبہ و طالبات اِن –رول ہوئے۔ انہوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی یہی سوال سب سے پوچھا۔ بقول ان کے 34 میں سے 20 کا جواب تھا کہ ہم اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگانا چاہتے ہیں، 13 کا جواب تھا کہ ہمیں پروموشن چاہیے جبکہ صرف ایک طالبعلم تھا جو اس مضمون میں تحقیق کے لیے مزید پڑھنا چاہتا تھا۔ اس واقعے کو سن کر میرا دل چاہا کہ میں اپنے پڑھے لکھے طبقے کی حالت زار پر بھی ذرا ماتم کرلوں۔ جہاں میرے ملک کے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کا واحد مقصد پروموشن اور تفاخر ہو اس ملک کی تعلیم کا بھلا کیا ہوگا؟

21کروڑ 49 لاکھ کی آبادی رکھنے والے ملک میں جو آبادی کے اعتبار سے بھی دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، صرف پانچ ہزار کے قریب اخبارات، رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں اور میری خوش گمانی ہے کہ نوّے فیصد سے زیادہ لوگ تو اخبار کا پڑھنا بھی وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ بچوں کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک میں صرف دو یا تین قابل ذکر جرائد نکلتے ہیں اور ان کا مدیر بھی محض 17 ہزار اشاعت پر بغلیں بجاتا نظر آتا ہے۔ ہماری علم دوستی کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ ہم تین، چار اور دس دس کروڑ تک کے بنگلے بناتے ہیں لیکن بد قسمتی سے کتابوں کے لیے ہمارے گھر میں لائبریری نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ لوگوں کے لیے پچاس ہزار کا موبائل، تین ہزار کی پینٹ، دس ہزار کا سوٹ اور کئی کئی ہزار کا کھانا سستا ہے لیکن تین سو اور پانچ سو روپے کی کتاب مہنگی ہے۔ آپ چاہیں تو لوگوں سے دریافت کرلیں یا خود سے ہی پوچھ لیں کہ آپ نے آخری کتاب کب لی تھی؟ آپ مہینے میں اور سال میں کتنی کتابیں خریدتے ہیں اور آپ کے سال کا کتنا بجٹ کتابوں پر لگتا ہے؟

کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کے زوال یا ترقی کا اندازہ کرنا ہو تو اس کے کتب خانے اور ہوٹلز دیکھ لیں۔ اگر کتب خانے بھرے ہیں تو وہ قوم ترقی یافتہ ہے لیکن اگر ریسٹورینٹس اور ہوٹلز بھرے ہیں تو اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ میرے ملک میں کوئی ایک ایسا کتب خانہ موجود نہیں ہے جو گھروں پر کتابیں پہنچاتا ہو۔ آپ کو ہزاروں روپے کی کتابیں سڑکوں پر رُلتی نظر آئیں گی لیکن جوتے شیلف میں چمکتے نظر آئیں گے۔ جو قوم کتابوں کے ساتھ یہ سلوک کرے تو اس قوم کو واقعی جوتوں کی ضرورت ہے اور وہی مل بھی رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   برائیوں سے بھرے معاشرے میں پہلی وحی "اقرا" کیوں؟ عاصم رسول

آپ کسی یونیورسٹی میں چلے جائیں اور کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کے کسی بھی طالبعلم سے پوچھ لیں کہ اس نے آخری کتاب کونسی پڑھی ہے؟ مجھے خوش گمانی ہے کہ وہ سوائے کورس کی کتاب کے کسی اور کتاب کے بارے میں جواب نہیں دے سکتا۔ آپ جرنلزم اور ماس کمیونیکشن کے ہی کسی طالبعلم سے دنیا کے کوئی پانچ اخباروں اور پانچ کالم نگاروں کے نام معلوم کرلیں وہ دیواروں کو تکنا شروع کر دے گا۔

اس وقت امریکا کی کل آبادی بتیس کروڑ ہے اور وہاں سینکڑوں ایسی کتابیں ہیں جو چالیس کروڑ کی تعداد میں چھپی ہیں۔ امریکا میں کوئی کتاب ایک لاکھ سے کم نہیں چھپتی ہے اور یہاں کوئی کتاب ایک ہزار سے زیادہ نہیں چھپتی ہے، اس میں سے بھی آدھی کتابیں اعزازی طور پر دے دی جاتی ہیں، جو رہ جاتی ہیں وہ لائبریریوں میں سڑ تی رہتی ہیں۔

2017ء کی حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا کی72 فیصد آبادی مطالعہ کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس انٹرنیٹ کی اسپیڈ بھی ہم سے زیادہ ہوگی اور موبائل فون بھی ہم سے اچھے ہوں گے۔ جاپان کے کےکئی بس اسٹاپس پر لکھا ہوتا ہے کہ " یہاں بس رکے گی آپ کا وقت نہیں، اس لیے اپنے وقت کو ضائع نہ کریں "۔ ترکی کے کئی بس اسٹاپس ایسے ہیں جہاں انہوں نے باقاعدہ لائبریریاں بنا رکھی ہیں۔

ویرن بفٹ، جو اس وقت دنیا کے دوسرے امیر ترین آدمی ہیں انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں روزانہ چودہ گھنٹے مطالعہ کرتا ہوں اور چھ سو سے آٹھ سو صفحے روز پڑھتا ہوں۔ بل گیٹس کہتے ہیں کہ مہینے میں چار کتابیں پڑھنا میرا معمول ہے جبکہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ دو ہفتوں میں ایک کتاب ضرور پڑھ لیتے ہیں اور ہمارے لیے فیس بک ہی کافی ہے۔

میں نے اسکول کے زمانے میں فرئیر ہال لائبریری کی ممبر شپ لی تھی جب میں وہاں جاتا تھا تو کتابوں پر دھول کی تہہ، چھت پر کبوتر کے گھونسلے جبکہ ٹیبل اور فرش پر ان کی بیٹوں کے کوئی خاطر خواہ چیز نظر نہیں آئی، وہاں کی لائبریرین بھی مجھے دیکھ کر خوش ہوئیں کہ چلو کوئی تو آیا۔ جو کتاب پڑھتا نہیں ہے اور جو کتاب پڑھ نہیں سکتا، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ کامیاب لوگوں کی فہرست اٹھالیں آپ کو ان کی کامیابی کے پیچھے مطالعہ ملے گا۔ یورپ میں ماں، باپ چھٹی کے دن اپنے بچوں کو ساتھ لائبریری لے کر جاتے ہیں اور سب سے پہلے کتاب ایشو کروانا سکھاتے ہیں اور گھنٹوں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو سب سے پہلے بچے کو موبائل اور ٹیب خرید کر دے دیتےہیں بلکہ میرا تو خیال ہے کہ موبائل اور ٹیب شاید بچے کو ہی ہم سے خرید لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم فقط نمبروں کی دوڑ - اسماء طارق

اگر آپ اپنے علم اور شعور میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو سوائے پڑھنے کے اور کوئی دوسرا راستہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ ہماری ذہنی پستی اور علمی پسماندگی کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی بچہ غیر نصابی کتابیں پڑھنے لگے تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ اپنا ٹائم ضائع کر رہا ہے۔ ہم بول بول کر اس سے کتابیں چھڑواتے ہیں۔ کتاب کا مطالعہ آپ کی شعوری عمر میں اضافہ کرتا ہے اگر آپ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کے تجربے کو پہنچنا چاہتے ہیں تو اسکا واحد ذریعہ کتاب ہے کیونکہ جو شخص کتاب لکھتا ہے وہ اپنے زندگی بھر کا تجربہ، تجزیہ اور علم اس میں سمو دیتا ہے۔ ورلڈ کلچر اسکور انڈیکس کی 2017 کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق بھارت ہفتہ وار فی گھنٹہ، فی فرد کے اوسط مطالعہ کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، تھائی لینڈ دوسرے جبکہ چین تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا اس فہرست میں دور دور تک کہیں پتہ نہیں ہے۔ بھارت کا فی فرد، فی گھنٹہ مطالعہ کا اوسط 10 گھنٹے سے زیادہ ہے۔ آپ اندازہ کریں ہمارا دشمن تو خود ہی اتنا پڑھ رہا ہے ہم بھلا اس کو کیا پڑھائیں گے؟ برائے مہربانی یا تو اپنے ہی بچوں کو دشمن کا بچہ سمجھ لیں یا دشمن سے مقابلے کے لیے ہی سہی لیکن مطالعے کی عادت ضرور بنالیں۔