دیت اللہ کا قانون ہے، سوچ سمجھ کر بات کیجیے - عادل سہیل ظفر

ہمارے مُسلم معاشرے میں اللہ تعالیٰ، اُس کے دِین اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُشمنوں کی دسیسہ کاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہماری صفوں میں، ہماری ہی نسلوں میں سے، ہمارے ہی رنگ و روپ میں، ہماری ہی ز ُبانوں میں بات کرنے والے اور ہماری ہی طرح مُسلمانوں جیسے نام لیے ہوئے ایسے لوگوں بنا لیے گئے ہیں جو اپنی اِسلامی شناخت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اِسلام کے خِلاف کام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

طرح طرح کے پر فریب الفاظ کی آڑ میں، اُمت اسلام کے ہاں ہمیشہ سے متفق علیھا مسائل کا اِنکار، اُن مسائل کو فی زمانہ ناقابل نفاذ کہنا اور سمجھانے کی کوشش کرنا، اِسلام کی بات کرنے والوں کا مذاق اُڑانا، اُنہیں کم تر اور حقیر دِکھانے کی کوشش کرنا اِن نام نہاد مُسلمانوں کے پسندیدہ ترین مشغلوں میں سر فہرست ہے،

اِن میں کئی تو ایسے ہیں جو اپنے کاموں کی حقیقت جانتے ہیں اور اسلام کے دُشمنوں کے باقاعدہ تنخواہ خور کارندے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو حقیقت نہیں جانتے بس غیر اِسلامی افکار سے اس قدر متاثر ہیں کہ جو کچھ وہاں سے ملے گا اُس پر کوئی غور و فِکر کیے بغیر اُسے اپنائیں گے اور اُسی کا رونا روتے ہی رہیں گے،

اور یہ سب ہی یہ سمجھتے ہی کہ وہ بہت ہی انقلابی، اصلاحی اور انسانیت کی خیر والے کام کر رہے ہیں جبکہ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ ؤْمَ الْقِيَامَةِ جِن لوگوں نے اِنکار کیا اُن کے لیے دُنیا کی زندگی پر آرائش بنا دی گئی (یہ وہ لوگ ہیں ) جو اِیمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں، اور قیامت والے دِن تقویٰ والے لوگ اِن (اِنکار کرنے والوں) سے بلند (مُقام ) ہوں گے (سُورت البقرہ (2)/آیت 212)

اپنے اختیار کردہ، یا مسلط شدہ آقاؤں کی پیروی کرنے کے لیے انہیں نہ تو اُمت کے أئمہ کرام اور علماء کرام کی عزت کا احساس رہتا ہے، نہ ہی اُن کے عِلم کا، خیر عِلم کا اندازہ تو اُسے ہی ہو سکتا ہے جو عِلم کے بارے میں کچھ جانتا ہو، اور جو نفس کی وحی پر چلنے والا ہو اُسے عِلم کی کیا خبر؟

أئمہ اور علماء تو رہے ایک طرف، اِن جدت پسند، خود ساختہ مفکر ان و مدبران کے لیے تو صحابہ رضی اللہ عنہم، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور پھر اللہ تبارک وتعالیٰ تک کے فرامین پر اعتراض کرنا اور اُن کا اِنکار کرنا معمولی سی بات ہے۔

ایسے کئی مسائل اور موضوعات ہیں جو اِن لوگوں کی دھندلی عقلوں کی اندھیر نگریوں میں سے اٹھنے والے متعفن افکار کی بدبو دے کر ہمارے معاشرے میں پھیلائے جا رہے ہیں، لیکن عقل، تدبر، فہم و فراست، وقت کی ضرورت، مصلحت، وغیرہ جیسے الفاظ کے عِطر لگا کر۔

انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ دیت کا قانون ہے، جِس کے خِلاف کافی ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے اور اِس ہرزہ سرائی کا سبب شاہزیب خان کے والدین کی طرف سے دیت لے کر اپنے بیٹے کے قاتل سے قصاص لینے سے دستبرداری کا واقعہ بنایا گیا ہے۔

یہاں میں کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کروں گا، اور نہ ہی قران و حدیث میں سے دیت کے حق میں دلائل پیش کروں گا، کیونکہ میرا حسن ظن ہے کہ دِین کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے والا مسلمان بھی یہ جانتا اور مانتا ہی ہے کہ دیت کا قانون اللہ پاک کا مقرر کردہ ہے اور بلا شک و شبہ بے عیب اور حق ہے۔

میں اللہ تعالیٰ کے دِین کے معاملات کے خِلاف زہر اگلنے والوں اور اُس زہر کا شِکار ہونے والوں کے سامنے صِرف کچھ سوالات پیش کرنا چاہتا ہوں، اور مجھے اُن صاحبان سے اِن سوالات کے جوابات درکار نہیں۔

وہ اپنے جوابات پر خود ہی غور کریں، اور جو جواب میں پیش کروں گا اُس پر بھی غور کر ہی لیں۔

ثابت شدہ قاتل یا مجرم کو سزا دینے میں غیر ضروری تاخیر کرنے کا، کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟

اچھی طرح سے سمجھ آنے والی زبردستی سے منوائی گئی دیت کا، کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟

کیا اِس سے پہلے مختلف مُسلم معاشروں میں ایسے واقعات نہیں ہوتے رہے؟

کوئی زور آور قاتل، کِسی کمزور وارث سے قصاص معاف کروا لے، دیت لینے پر راضی کر لے، یا دیت لینے پر مجبور کر دے تو کیا دیت کا قانون غلط ہوا؟

اگر اصحاب اختیار قاتل پر حد جاری نہیں کر پاتے، تو کیا قصاص کا قانون غلط ہے؟

جی نہیں، اور ہر گز نہیں! اللہ جلّ شانہ کا، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہر قول حق ہے، ہر حکم، ہر قانون حق ہے، جو کوئی اِن احکام و قوانین کو نا مناسب انداز میں استعمال کرے اور جو کوئی صاحب اختیار و قدرت انہیں نافذ نہ کر پائے وہ غلط ہے اور سراسر غلط ہے۔

دیت کا قانون اللہ العزیز الحکیم کا بنایا ہوا قانون ہے، اِس کے غلط، یا، نا مُناسب، یا، فی زمانہ رائج نہ ہو سکنے والا ہونے کا سوچنا بھی کفر ہے، اللہ عزّ و جلّ پر الزام ہے۔

ایسی باتیں کہنے والوں، اور اِن باتوں کی حقیقت جانے سمجھنے بغیر ہی انہیں مان کر اُن کا پرچار کرنے والوں نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا کہ غلط وہ قوانین نہیں جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مقرر فرما دیے، بلکہ غلط وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قوانین کی بجائے عام اِنسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنا کر، ایسے لوگوں کو اختیارات سونپتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی لگاؤ نہیں، اور نہ ہی اللہ کے دِین سے، اُن کا ھدف صرف دُنیاوی زندگی کی لذتیں پانا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یوم آخرت، حساب، سزا و جزاء پر ایمان نامی چیز اُن کے ہاں مفقود ہے پس اُن کے عمل اُن کے لیے اس قدر پر آرائش کر دیے گئے ہیں کہ وہ اُن کی چکا چوند میں حق کو دیکھ سکنے کی بصیرت کھو چکے ہیں۔

ٹیگز

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.