بیت المقدس... امریکا کیا چاہتا ہے؟ - فاروق اعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ایک ایسے وقت میں تسلیم کیا، جب فلسطینی مسلمان سقوط کے سو سال پورے کر رہے تھے۔ 1917ء میں دسمبر ہی کی 11 تاریخ تھی، جب برطانوی جنرل ایلن بی عثمانی فوجوں کو شکست دے کر یروشلم میں داخل ہوا۔ اس موقع پر امریکی اخبار نیو یارک ہیرالڈ نے سرخی جمائی تھیJerusalem is rescued by British after 673 years of Moslem rule یعنی ”برطانیہ نے 673 برس کے مسلم اقتدار کے بعد یروشلم کو آزاد کرالیا ہے“۔

یروشلم، جسے مسلمان بیت المقدس کے نام سے جانتے ہیں، مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں کے لیے یکساں قابل احترام شہر ہے۔ مسلمان تحویل قبلہ سے قبل بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ مسلمانوں نے یہ مقدس مقام خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت 638ء میں بازنطینیوں کو شکست دے کر حاصل کیا تھا۔ مسیحی اس شکست کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ تھی 1095ء میں پوپ اربن دوم نے یورپ بھر میں مہم چلا کر مسیحیوں سے اپیل کی کہ وہ یروشلم کو مسلمانوں سے آزاد کروانے کے لیے فوجیں اکٹھی کریں۔ جس کے نتیجے میں پہلی صلیبی جنگ چھڑ گئی اور مسیحی 1099ء میں اپنی مشترکہ فوج کے ذریعے یروشلم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 90 برس تک بیت المقدس مسیحیوں کے پاس رہا۔ یہاں تک کہ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے واگزار کرایا۔ جس کے بعد چار مزید صلیبی جنگیں لڑی گئیں، لیکن مسیحیوں کو پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے ادوار میں بیت المقدس براہ راست مسلمانوں کی تحویل میں رہا، سوائے فریڈرک دوم کے 1229ء سے 1244ءتک پندرہ برسوں کے۔ سولہویں صدی سے بیسویں صدی تک بیت المقدس عثمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں عثمانیوں کو شکست ہوئی، اس طرح بیت المقدس اگلے تین عشروں تک برطانیہ کے زیر تسلط رہا۔ اس دوران برطانیہ نے بالفور اعلامیے کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں آبادکاری کی اجازت دی، جس کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں نے فلسطین کا رخ کیا اور اپنی کالونیاں قائم کیں۔

بالآخر 1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ جس کے اگلے ہی برس 1948ء میں اسرائیل نے آزادی کا اعلان کیا، جسے ہمسایہ عرب ملکوں نے مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑ دی، جس کے نتیجے میں اسرائیل یروشلم کے مغربی حصے پر قابض ہوگیا۔ دوسری جانب یروشلم کا مشرقی حصہ اردن کے زیر نگرانی رہا لیکن 1967ءکی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری آج تک اس قبضے کو غیرقانونی سمجھتی ہے۔ واضح رہے کہ تقسیمِ فلسطین کے فارمولے کے تحت یروشلم اسرائیل کا حصہ نہیں تھا۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد یروشلم کو بطور خصوصی عالمی شہر تسلیم کرنے اور اس کے انتظامی امور اقوام متحدہ کے تحت چلانے کا تقاضا کرتی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان نے 1950ء ہی سے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے، لیکن عالمی برادری نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے احترام میں یروشلم کی بجائے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کر رکھے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد امریکا پہلا ملک بن گیا، جس نے اقوام متحدہ کی مذکورہ قرارداد کو روند ڈالا۔

یقیناً اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بیت المقدس پر اسرائیل کا تصرف غیر قانونی اور غاصبانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف بھی 2003ء میں اسرائیل کو قابض طاقت قرار دے چکی ہے، تاہم اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان پر عالمی برادری بھی حیران ہے کہ امریکی صدر اپنی خارجہ پالیسی سے کس طرح انحراف کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے 1995ء میں ”یروشلم ایمبیسی ایکٹ“ منظور کیا تھا، جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی سفارش کی گئی تھی، تاہم اس قانون میں ایک شق کے تحت امریکی صدر کو یہ حق دیا گیا کہ وہ سیکورٹی وجوہات پر اس فیصلے کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کر سکتے ہیں۔ اسی شق کو استعمال کرتے ہوئے بل کلنٹن سے لے کر چھ ماہ قبل تک ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کو مؤخر کرتے چلے آئے ہیں، تاہم اس مرتبہ ٹرمپ نے اس فیصلے کی توثیق کردی۔ اس تناظر میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں اسرائیلی لابی کے سب سے طاقتور گروپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیں گے۔ ٹرمپ کے حالیہ اعلان سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ”امریکا اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی“ (اے آئی پی اے سی) جیسے گروپ دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا پر کتنا گہرا اثر رکھتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق امریکا میں اسرائیل نواز لابی کا ایک اہم ستون ”کرسچیئنز یونائیٹڈ فار اسرائیل“ ہے۔ جس کے بانی پادری جان ہگی ہیں، جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں کیں اور دونوں پر زور دیا کہ امریکا اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کر دے۔ اس مسیحی گروہ کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دوسری بار زمین پر نزول کے لیے یہودیوں کی واپسی ضروری ہے۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکا کے اس یک طرفہ اعلان سے نہ صرف اسلامی دنیا میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، بلکہ مغربی دنیا سمیت دیگر بڑی طاقتیں بھی اس اعلان کی مخالفت کرچکی ہیں۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مصر کی قرارداد، جس میں امریکا سے اپنا فیصلہ واپس لینے پر زور دیا گیا تھا، برطانیہ، فرانس، جاپان سمیت 14 رکن ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ امریکا نے تن تنہا رہ جانے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرارداد کو ویٹو کردیا۔ دوسری جانب جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی امریکا کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ 128 رکن ممالک نے امریکا کے خلاف قرارداد کی حمایت کی ہے، تاہم اس کے باجود بھی امریکا اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کے ذریعے اسرائیل نواز امریکی لابیوں کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ذریعے امریکی مفادات کا حصول بھی چاہتے ہیں۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں امریکا کے نزدیک جو اہمیت انڈیا کی ہے، وہی حیثیت مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ہے۔ امریکا، اسرائیل کے قیام کے وقت سے اس کا اہم حمایتی رہا ہے۔ گزشتہ برس اوباما انتظامیہ نے دس سال کے لیے اسرائیل کے ساتھ 38 بلین امریکی ڈالر کی فوجی امداد کا معاہدہ کیا، جسے امریکا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد معاہدہ کہا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے بعد مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں کو کارآمد سمجھنے والے بھی جان چکے ہیں کہ امریکا اپنے مفادات کے دفاع کے لیے مشرق وسطیٰ کا بحران حل کرنے کی بجائے اسے مزید پیچیدہ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ باالفاظ دیگر یروشلم کی مقدس سرزمین پر آتش فشاں بھڑکایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اگر مسلم ممالک متفقہ راستہ اختیار نہیں کریں گے اور عالمی برادری کو ساتھ ملاکر امریکا و اسرائیل پر دباﺅ نہیں ڈالیں گے تو یہ ان کے حق میں سخت نقصان کا باعث بنے گا۔ اگرچہ اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) اس مسئلے پر استنبول میں ہنگامی اجلاس منعقد کرچکی ہے، تاہم یہ وقت نشست و برخاست کا نہیں، عملی اقدام کا متقاضی ہے۔ فلسطینیوں کی قسمت پر ایسے لاحاصل اجلاس تو اقوام متحدہ بھی منعقد کرتی رہی ہے۔