روشنی - دعا عظیمی

"فرض بلائے تو جانا لازم ہوتاہے تمہیں معلوم ہے نا؟"

"ہاں! مجھے معلوم ہے،" وہ کمزور نہیں پڑی "تم آؤ گے میں تمہاراانتظار کروں گی، وقت کی مکڑی کو جالا نہیں بُننے دوں گی۔"

"انتظارکے دیپ میں اشکوں کا تیل نہ ڈالنا۔" اُس نے جاتے سمے الوداعی بوسہ دیا۔

"کوشش کروں گی"

کبھی کبھی لمحے جان لیوا ہوتےہیں، فرض پکارے تو گھربہت پیچھے رہ جاتے ہیں، گھر گھر والے سب۔ مٹی کی دیس سے وفاکی سوگند کھانے والے روشنی کے بندے روشنی بن جاتے ہیں اور دعااور انتظار کرنے والی آنکھوں میں روشنی مدھم ہوتی جاتی ہے۔ شہروز کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس کی پوسٹنگ دور دراز علاقے میں ہو چلی تھی۔ وطن عزیز کو اس کی خدمات چاہیے تھیں اور وہ اور اس جیسے بہت سے جانباز جان ہتھیلی پہ رکھے نذرانۂ حیات پیش کرنے کو ہر دم تیار تھے۔ سرحدوں کی حفاظت سے بڑا اور مقدس فریضہ کون سا ہو سکتا تھا؟

کیپٹن شہروز کے خون میں جذبے کی حدت ٹھاٹھیں مارتی تھی۔ روشنی کے لیے یہ ایام ویسے بھی صبر آزما تھے، اس پہ شوہر کی اچانک پو سٹنگ بے چینی کو بڑھا رہی تھی۔ جانے نام کا اثر تھا یا کوئی اور بات؟ روشنی کو روشنی بہت لبھاتی تھی، بچپن سے جگنوؤں کے پیچھے بھاگتی ۔ اپنی چھوٹی سی دم میں ٹمٹماتی ننھی لالٹین لیے اڑتے جگنو اسے بے حد اچھے لگتے۔ رات کے سیاہ آنچل میں چاند کے جلو میں جگ مگ کرتے تارے اسے انہونی فضاؤں کی سیر کراتے، کوہ قاف کی خیالی پریاں اور رتھ پہ بیٹھے شہزادے کی کہانیاں اس کے بستر کی سلوٹوں میں آرام کرتیں۔

ہوم اکنامکس کالج سے بیچلر کے ساتھ ہی اس کی شادی کاچکر چلا۔ گھر اور خواب روشنی کے قمقموں سے ایسے سجے کہ تارے اور جگنو محبت کی نرم بانہوں میں اتر آئے۔ اسے لگا کہکشاؤں نے راستے کھول دیے اور وہ نئی زندگی سے محظوظ ہونے لگی۔ کیپٹن شہروز کے ساتھ دن اڑتے جا رہے تھے ۔ اسے حیرت تھی کہ کوئی اتنا مہربان بھی ہو سکتا ہے؟ نئی زندگی کی اٹھان اتنی دل آویز تھی کہ اسے میکے کی یاد بھی کم ہی ستاتی تھی۔ خاص طور پہ جب سے معلوم ہوا تھا کہ وہ بیٹے کے والدین بننے والے ہیں، خوشی کی انوکھی لذت سے سرشار رہنے لگے تھے۔ نام بھی تجویز ہو چکا تھا، اسکول بھی حتیٰ کہ پیشے تک کا فیصلہ کر بیٹھے۔

روشنی کو ماں بننے میں تین ماہ باقی تھے کہ کیپٹن شہروز کی تعیناتی ایسے علاقے میں ہوئی جہاں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے آپریشن جاری تھا۔ اس دوران روشنی کے لیے مناسب تھا کہ وہ یہ عرصہ اپنےوالدین کے گھر گزارے۔ ایک نامعلوم سی اُداسی کا سایہ تھا جو اچانک سر اٹھاتا اور وہ بے طرح گھبرا جاتی۔ بہن بھائی سب ہی اس کو بہلائے رکھتے ۔ ، پھر وہ سورج طلوع ہوا جو اس کی روشنی کو گہناگیا۔ کیپٹن شہروز ارض مقدس پہ قربان ہو گئے۔ خبر تھی یا قیامت ؟ سب کچھ دہل گیا، وہ ماں بننے سے پہلے شہید کی بیوہ بن گئی۔ بہادر باپ کابہادر بیٹا حفاظت کرتے کرتے جان کی بازی ہار گیا۔ شہروز کی بیوہ ماں کا جگر لوہے کا تھا، جس نے اپنی زندگی میں دوسری شہادت دیکھی۔ روشنی اس اچانک خبر پر حواس کھو بیٹھی۔ وہ شہید کی روح سے باتیں کرتی ہنستی مسکراتی وہ کہتی مجھے وہ نظر آتا ہے۔

ماہر نفسیات ہار گئے، روشنی زندگی کے باقی فرایض سب کچھ ٹھیک طرح سےانجام دیتی لیکن اس کا ذہن 'سٹیٹ آف ڈینائل' سے باہر نہیں نکل سکا۔ وہ اس کی وردی کو دیکھتی اور کہتی سوری شیرو! میں تمہیں اولاد کا سکھ نہیں دے سکی ورنہ ہمارا بیٹا بھی یونیفارم پہنتا تو آپ کی طرح خوبصورت دکھتا۔ آپ کی آنکھوں کی روشنی سے سارا جہان روشن ہے ۔ روشنی کبھی ایسے بھی جذب کرتی ہے کہ وجود موم ہو جائے۔ شہروز! شہروز! آپ سب کو نظر کیوں نہیں آتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں پاگل ہوں۔ بولو میں پاگل ہوں؟

روشنی کو کون بتائے کہ روشنی تمہارا شہروز ایک پروانہ ہے جس نے وطن عزیز کی شمع محبت پر جان وار دی، وہ زندہ ہے، تم پاگل نہیں ہو، تمہارا وجدان ہے جس سے تم دیکھنےلگی ہو۔ دنیا چاہے تمہیں دیوانہ کہے۔ تم اور تمہارا دکھ عظیم ہے۔

ٹیگز

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.