دہشت گردی کے حالیہ واقعات - محمد عمار احمد

شومئی ِ قسمت کہ ارضِ پاک ہمہ وقت مختلف داخلی مسائل اور خارجی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ گزشتہ دنوں میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ ایک طرف علامہ خادم حسین رضوی صاحب فیض آباد میں دھرنا دیے ہوئے تھے، یہ تو’’ثالث‘‘ کا بھلا ہو کہ کسی بڑے سانحے سے ہم محفوظ رہے، تو دوسری طرف کوئٹہ، پشاور و پاراچنار میں کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دہشتگردانہ حملے سہے اور خارجی محاذ پر امریکہ بہادر کی طرف سے ’’ڈومور‘‘ کے ساتھ ساتھ حافظ سعید صاحب کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ہماری عدلیہ، عسکری و سیاسی قیادت ایک دوسرے کے درپَے ہیں جبکہ مخالف قوتیں ہماری سلامتی وخودمختاری کے سَر!

ملک کی داخلی وخارجی سلامتی کے متعلق معاملات کہنے کو تو وزیرِ اعظم یا کابینہ کے ہاتھ میں ہیں مگر ان معاملات میں اثرانداز فوج ہی رہی ہے۔ جب وزیرِ اعظم نے فوج کو دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کاحکم دیا تو وزیرِ اعظم ہی کے زیرِ اثر کام کرنے والے ادارے نے ’’چونکہ، چنانچہ‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے حکم کی بجا آوری سے ’’معذرت‘‘ کرلی۔ ادھر وزارتِ داخلہ و اطلاعات کے سماجی وبرقی ذرائع ابلاغ کی بندش کے احکامات پر ’’تشویش‘‘ کا اظہار کیا تو انہیں اپنے احکامات واپس لینے پڑے۔ عدلیہ نے حکم دیا تھا ’’دھرنا ہٹایا جائے‘‘ اورجب شرکاء اٹھ گئے توسوال داغ دیاکہ ’’ہم نے شرکاء کوہٹانے کا کہا تھا، معاہدہ کیوں کیا؟‘‘ سیدھا سا سوال آپ جناب سے بھی ہے کہ آپ نے شرکاء ہٹانے کا حکم دیا تھا اور انتظامیہ نے بجاآوری کی، اب اس سے کیا مطلب کہ کیسے اٹھایا اور کیوں اٹھایا؟ ان حالات میں انتظامیہ’’رضیہ‘‘ کی سی کیفیت میں تھی جسے دوسرے ادارے ڈانٹ ڈپٹ رہے تھے یا ’’گلے شکوے ‘‘ کررہے تھے۔

اسی گہماگہمی میں ہم نے کوئٹہ و پشاور میں آئی جی و ڈی آئی جی پولیس و زرعی ادارے کے ہاسٹل، پارا چنار اور پھر کوئٹہ چرچ میں درجنوں زندگیاں دہشتگردی کی سفاکانہ کارروائیوں سے لقمہِ اجل بنتے دیکھیں۔ یکے بعددیگرے دہشتگردانہ حملے ہمارے ’شریر‘ دماغوں میں یہ احساس پیداکررہے ہیں کہ ہم آئے روز پولیس مقابلوں، بری و فضائی سپاہ کے حملوں اور انسداد دہشتگردی و رینجرز کی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے مرنے کی خبریں بھی پڑھتے، سنتے ہیں۔ کئی بار سپہ سالار، سربراہِ مملکت یاوزیر اعظم کی شفاف زبانوں سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک و کمر ٹوٹنے کے بیانات بھی ہمارے سامنے آئے ہیں اور باقاعدہ شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان کی پریس کانفرنس بھی ہماری سماعتوں سے گزری جس میں وہ اپنی قابلیت کے گن گاتے سنے گئے۔ مگر اس سب کے باوجود یہ حملے کیوں کر ہورہے ہیں اور پشاور و کوئٹہ جیسے شہروں میں ’’بزدلانہ ‘‘ کارروائیاں کس طرح ہورہی ہیں؟

فوجی ترجمان افغانستان سے حملوں کی نگرانی کی بات کرتے ہیں اور آرمی پبلک اسکول و باچاخان یونیورسٹی پر حملے کے بعد بھی یہی کہا گیا تھاکہ حملہ آور افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔ عسکری و سیاسی قیادت نے افغانستان و امریکہ کے اعلیٰ حکام سے بھی بات چیت کی مگر ان کی طرف سے بھی کچھ مطالبات ہوتے ہیں جو ہماری دسترس میں تو شاید ہوتے ہیں مگر ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت ہم ان مطالبات کو پوراکرنے سے قاصر ہیں۔ اس مسئلہ کا حل آخرکار کیوں ہم نہیں نکال پارہے؟ اور وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہم دہشتگردی کے عفریت کوکچلنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے؟

عسکری ادارے کوسلامتی امور سے متعلقہ تمام تراختیارات تفویض کیے گئے ہیں، یقیناً استعداد کار بھی بہتر ہے اورمزید بہتری کے لیے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ عسکری ادارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کی بجائے سیاسی معاملات میں مسلسل دخل اندازی کا مرتکب کیوں ہوتا آرہا ہے؟ سول قیادت کو سیاسی معاملات درست کرنے کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے کام کیوں نہیں کرنے دیاجاتا؟ نیشنل ایکشن پلان، ردالفساد، بوری بند لاشیں، چھاپہ مار کارروائیاں اور آئے روز دہشتگردی کی کمر توڑنے کے اعلانات کے باوجود ہم مسلسل جانیں کیوں گنواتے جارہے ہیں؟ سپہ سالار نے ملکی معیشت پر اپنی آراء پیش کی تھیں جبکہ ان کی زبان سے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ فوج ملکی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور وہ احتساب کے عمل کو جاری رکھنے کے بھی خواہش مند ہے۔ پھرفوج سیاسی میدان میں اپنے من پسندافراد اتارنے کے لیے بھی تگ ودو میں مصروف رہتی ہے اورسیاسی جماعتوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کوبھی درِ پردہ شہہ دیتی ہے۔ ان حالات میں احتساب کارُخ فوج کی طرف بھی موڑناچاہیے کہ وہ غیرمشروط طور پر سلامتی امور پر آزادی سے کام کرنے کی طاقت پارلیمنٹ سے حاصل کرنے کے بعد بھی دہشت گردی سے نمٹنے میں کیوں کر کامیاب نہیں ہورہی؟ دہشتگردوں کے شہ دماغ اگر افغانستا ن میں ہیں تو عالمی طاقتوں کو مکمل ثبوت کے ساتھ اس بات پر مجبور کیوں نہیں کیا جاتا کہ وہ امریکہ و افغانستان کو پاکستانی حدود میں کارروائیاں کرنے والے عناصر کی بیخ کنی پر مجبور کریں یا پاکستان کو اجازت دلائیں؟ وہ جگہیں جہاں پر مکمل فوجی اثرورسوخ ہے وہاں کس طرح سے دہشت گرد حملے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان علاقوں سے بذریعہ زمینی راستوں کے جہاں سے عام ٹریفک گزرتی ہے حملہ آور مختلف ناکہ بندیوں سے کیسے گزر کر شہری علاقوں تک آن پہنچتے ہیں۔

ہر حملے کے بعد سیاسی، عسکری قیادت اور پھر پوری قوم شاداں و فرحاں اپنی کارکردگی و قربانی پر ’’فخر‘‘ محسوس کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع کو درجہِ شہادت دے کر چارحرف دہشت گردوں پر بھیج کر خاموش ہوجاتی ہے۔ سب لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جن گھروں میں جلے کٹے ہوئے جسمانی اعضاء پہنچتے ہیں ان پر کیا بِیت رہی ہوتی ہے؟ سیاسی وعسکری قیادت اپنے فوجی جوانوں کی قربانیوں پرخراجِ تحسین پیش کرتی، تصاویر بنواتی، ’دیگر‘ معاملات میں مصروف ہوجاتی ہے۔ ایک فوجی جوان کاوطن کے لیے قربانی دینا عظمت ورفعت کی سند ہے اس لیے کہ قربانی تب ہی ہوتی ہے جب لڑنے اور مرنے کے لیے میدان ِ کارزار میں قدم رکھا جائے۔ مگر تعلیمی اداروں میں حصولِ تعلیم اورعبادت گاہ میں عبادت کے لیے جانے والے اگر ظلم و سفاکیت کا نشانہ بن جائیں تو کاہے کی قربانی؟ وہ تواپنے والدین واقرباء کی امیدوں و امنگوں کا سہارا ہوتے ہیں وہی مارے جائیں تو پورا خاندان کئی سال تک اس اذیت سے گزرتا رہتا ہے جس کا احساس صرف وہی کرسکتا ہے جو اس کرب والم سے گزرا ہو (اللہ سب کومحفوظ رکھے۔)

عسکری قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ ’’مجرمانہ‘‘ سوال پوچھا جائے کہ وہ اپنی کارکردگی و مختلف آپریشنز اور کارروائیوں سے متعلق جو تفصیلات عوام یا میڈیاکے سامنے پیش کرتے ہیں وہ کس حد تک حقیقت ہوتی ہیں یا افسانوی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں؟ حفاظتی امور میں غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف کس حد تک کارروائی ہوتی ہے یا اس بابت کوئی تحقیقات کی جاتی ہیں یانہیں؟ عوام کاسیاست دانوں سے سوال پوچھنا اس لیے جائز بلکہ ’حب الوطنی ‘ کا تقاضہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ عوام کے دیے ہوئے پیسوں میں خردبرد کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتتے ہیں۔ ہماری افواج بھی عوامی پیسوں سے ہی اپنی ضروریات پوری کرتی و فرائض انجام دیتی ہیں تو عوام کواختیار ہوناچاہیے کہ وہ ان سے بھی سوال کرسکیں کہ یہ حفاظتی امور میں غفلت کے مرتکب کیوں ہوتے ہیں اور ان امور سے ہٹ کراپنی توجہ سیاسی معاملات پرکیوں رکھتے ہیں؟