تم روٹھے ہم چھوٹے…- خرم علی راؤ

ارے امریکہ ناراض ہوگیا ہے! اب کیا ہوگا بھائی؟

امداد روک لی جائے گی، کٹوتی تو پکی پکی ہو گی۔

اب تو پاکستان کے خلاف نت نئے پلان بن رہے ہوں گے۔

دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آ سکتی ہے۔

ارے کچھ سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا تھا۔ اگر ووٹ سے بچنا تھا تو غائب ہی ہو جاتے۔

حق نمک بھی ادا نہیں کرتے ٹھیک طرح سے ہم پاکستانی۔ اب دیکھو کیا ہونے والا ہے۔

بھارت اور افغانستان کی مدد سے گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔

خدا خیر کرے! اب تو نیوکلیئر اثاثے بھی خطرے میں ہیں۔

معاشی پابندیاں نہ لگ جائیں۔

یہ ہیں وہ سینکڑوں میں سے صرف چند بیانیے جو بڑی پرکاری و ہوشیاری سے پرنٹ و الیکٹرانک دونوں میڈیا کے ذریعے سے امریکا کے نمک خوار نام نہاد دانشور صحافی اور ادیب بھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس میں وہ صرف اس حد تک ہی کامیاب ہیں کہ ہماری مغرب زدہ اشرافیہ جن کی جائیدادیں، اثاثے اور مفادات مغرب خصوصاً امریکا سے کچھ زیادہ ہی وابستہ ہیں، کچھ پریشان سی دکھائی دیتی ہے۔ باقی عوام اور میرے جیسے عام لوگ اس پر کچھ توجہ اس لیے نہیں دے پا رہے کہ ان کی توجہ سب سے زیادہ نان و جویں کمانے اور جیون کا بوجھ اٹھانے پر ہے۔

یہ فن پروپیگنڈہ کہلاتا ہے۔ہٹلر کا وزیر گوئبلز اس فن کا امام تھا جو کہتا تھا ـ کہ جھوٹ بار بار اور اتنا زیادہ بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں ـ اور موجودہ دور میں اس فن کی امامت یہودیوں اور مغربی دنیا کے حاصل کی ہوئی ہے۔ہم بھی بہت جان مار رہے ہیں کہ اس "ففتھ کالمسٹ میتھڈ" میں کچھ نام پیدا کریں اور ہمارے کچھ سپوتوں(حسین حقانی وغیرہ ٹائپ لوگ)نے اس میں بڑا نام کمایا بھی ہے مگر صاحب مغرب مغرب ہی ہے اس کا ہم پاکستانی کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں؟

اب رہی بات بظاہرپاکستان کی ہمدردی میں امریکن پروپیگنڈے کی ترویج و اشاعت کرنے والے نام نہاد قلم و ذہن فروشوں کی، تو وہ بے چارے تو صرف اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں اور وظیفہ و تنخواہ حلال کر رہے ہیں، ان سے کیا گلہ کرنا؟ مشہور یہودی امریکی بیوروکریٹ اور سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے کافی دنوں کے بعد دنیا کو کچھ پتے کی سچی باتیں امریکا کے حوالے سے اپنے نوکر شاہی اور سفارت کاری کے طویل تجربے کی روشنی اور مختلف انٹرویوز اور مضامین میں جو اب انٹر نیٹ پر بھی دستیاب ہیں، بتائی تھیں، جو ہمارے موجودہ حالات کے اعتبار سے بہت حوصلہ افزاء ہیں ان میں سے چند باتیں یہ ہیں۔ایک، امریکا کی مخالفت اورامریکا سے دشمنی خطرناک ہو سکتی ہے مگر امریکا کی حمایت اور دوستی تو سو فیصد خود کشی کے مترادف ہے، دوسری، امریکن ایک ایسی قوم ہے جسکے نہ دوست مستقل ہیں نہ دشمن صرف مفادات مستقل ہیں، تیسری، امریکا کے مخالفین نے اکثر امریکا سے بہ نسبت اس کے محبین کے زیادہ فائدہ حاصل کیا ہے،

چنانچہ پاکستان کے نام نہاد ہمدرد مطمئن رہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا دفاع بہت مضبوط اور ہرسطح پر ناقابل تسخیر ہے اور کیونکہ اب ہم امریکن کیمپ سے باہر آ ہی گئے ہیں تو یقینا بابا ہنری کسنجر کے تجربے کی روشنی میں ایک خوشگوار مستقبل کا حامل اور مزید ترقی یافتہ پاکستان تشکیل پاتا نظر آ رہا ہے۔