لڑکپن کی محبت - نمرہ شارق

ان کے والدین بھاگتے ہوئے سکول جا رہے تھے، سانس پھولی ہوئی تھی، چہرے پریشانی سے پیلے پڑ رہے تھے۔ مائیں آنسوؤں کے ساتھ خبر کے غلط ہونے کی دعائیں کر رہی تھیں۔ ابا بے چینی اور غصے کے عالم میں پیچ و تاب کھاتے سکول پہنچے۔ جہاں پرنسپل صاحب پولیس کے ساتھ کھڑے تھے۔ بچوں کے لاشوں کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ کہانی ہے دو سال پہلے دو بچوں کی خودکشی کی۔ 15 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکا جو اپنے لکھے گئے خط کے مطابق اپنی محبت کو امر کرنے کے لیے ایک ساتھ مرنے کی قسم کھا کراسے پورا کر گئے تھے۔ ماں باپ کے نام خط میں ان کا کہنا تھاکہ ہو سکتا ہے ان کے والدین ان کی شادی کے لیے رضا مند نہ ہوں جبکہ وہ ایک دوسرے کے بغیرزندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس لیے بہتر قدم ان کی خودکشی ہی ہے۔

آئے روز نیوز چینل پریہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ پسندکی شادی کرنے پربھائی نے بہن کو قتل کر دیا۔ ”کبھی سننے میں آتا ہے محبت کی شادی کا مقدمہ، عدالت کے باہر ہنگامہ آرائی“۔ اکثر اوقات یہ بھی خبر ملتی ہے کہ لڑکی فلاں لڑکے کی محبت میں گرفتار ہو کر گھر سے بھاگ گئی۔ کچھ گھنٹوں یہ معاملہ زیر بحث رہتا ہے اور پھر سب اسے بھول جاتے ہیں۔ کوئی شخص اس معاملے کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں کرتا۔

چلیے چھوڑیے انڈین فلموں اور ڈراموں کو ہم ذرا پاکستانی ڈراموں کا ایک مختضر جائزہ لیتے ہیں۔ شام کو ۷ بجے سے لے کر رات کو ۰۱ بجے تک نشر ہونے والے ڈرامے محبت کے نمایاں رنگ لیے ہوتے ہیں۔ ’محبت، پسند کی شادی، پیار میں والدین سے لڑ جانا، اور اس کے علاوہ پیار و محبت کے لیے کی گئی ہر طرح کی تخریب کاری‘ آج کل کے ڈراموں کا موضوع ہے۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا جبکہ دکھانے والے بضد ہیں کہ وہ رائے عامہ کا خیال رکھتے ہوئے وہی دکھاتے ہیں جو پسند کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کے درد انڈیلتا اک نامور لکھاری - ماریہ خٹک

یہاں سمجھ نہیں آتی کہ موردالزام کس کو ٹھہرایا جائے؟ ان والدین کو جو بچوں کے ڈرامے دیکھنے پر پابندی نہیں لگاتے، ان کے نشر کرنے والوں کو، یا پھر ان 15 سے 20 سالہ نوجوان نسل کو جن کے کچے ذہنوں پر یہ باتیں مہر ثبت کر جاتی ہیں۔

ان ڈراموں کو دیکھنے کے بعد ہر بچہ خود کو ہیرو اور ہر بچی ہیروئین سمجھنے لگتی ہے بس پھر یوں کہانی شروع ہوتی ہے جو پورے معاشرے کو اپنے جادوئی اثر میں لے لیتی ہے۔ یوں معاملہ ڈراموں سے بڑھ کر موبائیل اور انٹرنیٹ پر پڑی فلموں اور ویڈیوز تک پہنچتا ہے۔ جہاں پر بچے دوسری جنس کی توجہ کے منتظر ہو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے پیار کو امر کرنے (خواہشات کو پورا کرنے) کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے سے نہیں ڈرتے۔ یہ معصوم بچے والدین کی بے غرض محبت کو دھتکار کر اپنی وقتی محبت کو پورا کرنے کی دھن میں مگن ہو جاتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ یہ صرف خواہشات ٍنفسانی ہیں جو انسان کو اپنی لپیٹ میں لے کر پھر کہیں کا نہیں چھوڑتی۔

لیکن یہاں کچھ قصوران والدین کا بھی ہے جو بچوں کو لڑکپن کی عمر میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہو گئے۔ آخر وہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ انسانی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے۔ اس عمر میں بھٹکنے کے کئی امکانات ہوتے ہیں۔ یہاں والدین ہی ہیں جو بچوں کا ساتھ دے کر، انھیں سمجھا کر سیدھی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ بے شک بے جا پابندیوں سے بچے باغی ہو جاتے ہیں لیکن ایک خاص طریقے سے بہلا پھسلا کر بچوں کو غلط راستے پر جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔ بچوں سے دوستی کر کے ان کے دل کا حال جانا جا سکتا ہے۔ یقیناً پھر ہم اس طرح کے غیر متوقع حادثات کے رونما ہونے سے بچ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

اور ایک گزارش اپنے میڈیا چینلز سے بھی کہ ایسے موضوعات پر نشر ہونے والے ڈرامے جو ہماری مشرقی روایات کے منافی ہیں پر نظر ثانی کی جائے۔ کیونکہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا عوام میں شعور پیدا کرنے اور ان میں سیدھے راستے پر ڈالنے میں ہمارے ڈرامے، فلمیں اور سوشل میڈیا نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انتظار ہے تو بس اپنے فرائض کے جاننے اور سمجھنے کا۔