میرے خوابوں کا پاکستان - نگہت فرمان

خواب بھی کیا سرمایہ ہوتے ہیں ناں! انہیں دیکھنے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ تقریر پر، تحریر پر تو لگائی جاسکتی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جاسکتا ہے لیکن خوابوں پر کون روک لگائے؟۔ ہم سب کسی نہ کسی پابندی، اصول، حدود، روایت، رسم و رواج کے پابند ہوسکتے ہیں چاہے جبراً بنا دیے گئے ہوں، لیکن خواب کسی اصول، ضابطے، سرحد، رسم، رواج کے پابند نہیں ہوتے۔ مختصر یہ کہ خواب بس خواب ہوتے ہیں، کسی بھی ضابطے سے منزا۔ ہم یا کوئی بھی ریاکار ہوسکتا ہے لیکن خواب اس سے پاک ہوتے ہیں۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواب تو بس خواب ہے؟ اس کی کوئی سرحد نہیں؟ اس پر کوئی بھی کسی طرح کی بھی پابندی نہیں لگا سکتا؟ لگا ہی نہیں سکتا، مجبوری کہہ لیں، بے بسی بھی۔

کیا ہم خواب کو کسی باغی سے تشبیح دے سکتے ہیں تو اس کا جواب یقیناً ہاں میں ہوگا۔ جذباتی ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں، بس اپنا خون جلے گا اور خواب اپنا رستہ خود نکالے گا، چاہے کچھ کرلیں خواب باغی ہوتے ہیں، اور اب سے نہیں ازل سے باغی، منہ زور اور سرکش۔ خواب دیکھا اور سر میں سودا سمایا اور پھر چل سو چل۔ اپنے زمین اور اپنے اختیار کا خواب دیکھا اور دیکھا بھی ایک حکیم نے جسے امت کا مسیحا کہا جاتا ہے، جی جی اپنے اقبال جو واقعی اقبال تھے، پھر کیا تھا اپنے خواب کی تعبیر کے لیے جُٹ گئے، حالاں کہ حالات کیسے تھے، کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے؟ کتب خانے بھرے ہوئے ہیں کہ ناممکن تھا، کوئی آثار نہیں، کوئی امید نہیں، بے سرو سامانی، بے کسی اور بے بسی۔ اقبال کے خواب کو ہم اگر کہیں کہ وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنا جگنو لے کر نکلے، کیا ایسا نہیں ہوا؟

خواب دیکھا اقبال نے اور اسے تعبیر دینے کے لیے قدرت نے محمد علی جناح کو منتخب کیا جو قائدِ اعظم کہلائے۔ ایسا قائد جو اردو میں اپنا مطمع نظر بیان نہیں کرسکتا تھا اسے قدرت نے منتخب کیا۔ ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ قائد اعظم تقریر کر رہے تھے اور ایک ضعیف سر دھن رہے تھے، کسی نے پوچھا آپ کو انگریزی آتی ہے کیا تو نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ قائد جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں کھرا سچ کہہ رہے ہیں۔ خیر یہ تو ایک واقعہ ویسے ہی یاد آگیا۔

میرے خوابوں کا محور و مرکز پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن کیسا پاکستان؟

وہ پاکستان جو میرا ہے، ہم سب کا ہے، دھرتی کو ماں کا رتبہ دیا گیا ہے اور ایسا ہے بھی۔ اسلام نے بھی حب الوطنی کی توصیف فرمائی ہے تو بس پاکستان! جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، وادیاں ہیں، گلیشیرز ہیں اور ان کی سرد ہوائیں، برف پوش۔ پاکستان جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں بھر کر پی سکتے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمان نوازی اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، جہاں پنجابی دہقان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا اور پورے ملک کو گیہوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کے سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ کن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لے کر یورینیم، سونا، تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتے ہیں، جہاں مہاجر اپنے ملک کی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے۔ یہ وطن جو جغرافیائی لحاظ سے 1947 میں منصہ شہود پر آیا اپنے قیام سے پہلے اپنے وقت کے عظیم لوگوں کا خواب تھا۔ وہ عظیم لوگ جنہوں نے تاریخ عالم پر ایسے ان مٹ نقوش ثبت کیے ہیں کہ اصول پسندی و استقامت کو اس کے اصل معانی سے روشناس کروا گئے۔ یہ پاک وطن ان عظیم المرتبت ہستیوں کا عظیم خواب تھا جو ان کی محنت شاقہ کی بدولت اپنی تعبیر پاگیا لیکن آج اگر میں اپنی انفرادی حیثیت میں اس مادر وطن کے لیے دیکھ جانے والے خوابوں کا تقابل اْن عظیم خوابوں سے کروں تو جو اس کے بانیان نے اس کے لیے دیکھے تو ندامت کا احساس میرے قلم کی روانی میں حائل ہو جاتا ہے۔

خواب کیا ہیں؟ ماہرین کہتے ہیں کہ ہم اپنی حقیقی زندگی میں جن مشاہدات، تجربات اور واقعات سے دوچار ہوتے ہیں ہمارا دماغ ان کی روشنی میں اپنی سوچ کے دھاروں کا رخ متعین کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ ہمارے لاشعور میں جمع ہو جاتے ہیں اور انہی واقعات و تجربات کے زیر اثر ہمیں خواب دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ ہمارا لاشعور عالم نیند میں بھی کام کرتا رہتا ہے۔ یعنی خواب جہاں حقیقت کا متضاد سمجھے جاتے ہیں وہیں ان کا ماخذ بھی یہی حقیقتیں ہیں جن سے ہمارا روزمرہ کی زندگی میں واسطہ پڑتا ہے۔

خواب تو ہم نے ایسے ہی پاکستان کا دیکھا تھا اور ابتدا میں یہ خواب تعبیر ہوتا بھی دکھائی دیا لیکن رفتہ رفتہ ہم عجیب اندوہناک صورت کا سامنا کرنے لگے۔ کیوں؟

سوچیے کہ نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے آ گئی؟

وہ پاکستان کہ جس کی اقتصادی ترقی کی رفتار دنیا کے بہت سارے ممالک کے لیے قابل تقلید نمونہ ہوا کرتی تھی۔

وہ پاکستان کہ جس کے ماہرین معاشیات کوریا، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ترقیاتی منصوبہ جات تیار کیا کرتے تھے۔

وہ پاکستان کہ جس کی جامعات طب اور زراعت میں بڑی اعلیٰ تحقیقات کی حامل ہو کرتی تھیں۔

وہ پاکستان کہ جس کی ایئر لائن باکمال لوگ لاجواب سروس کے سلوگن کی حامل اور جدید دور کی منافع بخش کمپنیوں کی معمار تھی۔

وہ پاکستان کہ جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایشیا بھر میں کوئی ثانی نہ تھا۔

وہ پاکستان کہ دنیا بھر کے کھلاڑی سیالکوٹ کے تیار شدہ سامان کے ساتھ میدان میں اترا کرتے تھے۔

وہ پاکستان کہ وزیرآباد کے آلات جراحی مغرب کے جدید ترین شفا خانوں کی اہم ترین ضرورت ہوا کرتے تھے۔

وہ پاکستان کہ جس کی ڈرامے انتہائی کم وسائل کے باوجود اپنے پڑوسی ملک کی جدید ترین انڈسٹری پر حاوی ہوا کرتے تھے۔

وہ پاکستان کہ جو عالم اسلام میں اعتدال و رواداری کا نشان سمجھا جاتا تھا۔

وہ پاکستان کہ جس میں طبقاتی تقسیم کا وجود نہ تھا۔

وہ پاکستان کہ جس میں توازن، تناسب اور تعاون کا چلن تھا۔

وہ پاکستان کہ جس کے محنت کش خوش حال ہوا کرتے تھے۔

وہ پاکستان کہ جس کا گورنر جنرل ایک انکم ٹیکس آفیسر کو اس لیے ڈانٹتا ہے کہ اس نے اسے وقت پر انکم ٹیکس ادا نہ کرنے پر نوٹس جاری کیوں نہیں کیا تھا۔

وہ پاکستان کہ جہاں مؤاخاتِ مدینہ کے بعد بھائی چارے کی سب سے بڑی مثال دنیا نے دیکھی تھی۔

جی ہاں یہی ہے میرے خوابوں کا پاکستان جو ماضی میں ایک حقیقت ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مستقبل کے لیے میرے خوابوں کا پاکستان ہے۔

آزادی کی نعمت سے کون واقف نہیں لیکن آزادی کا بھی اپنا ضابطۂ اخلاق ہے۔ جیسے فرد کی آزادی لیکن تدبر کے ساتھ۔

رشتوں کی آزادی احساس کے ساتھ۔

رویوں کی آزادی اپنا آپ پہچانتے ہوئے۔

جذبوں کی آزادی دوسروں کے محسوسات کو سمجھتے ہوئے۔

تعلقات کی آزادی لیکن اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

اپنی بات کہنے کی آزادی لیکن اوروں کی بات برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوئے۔

اپنا راستہ آپ چْننے کی آزادی لیکن آگے جانے والوں کے نشان ِراہ پر چلتے ہوئے اور اپنے بڑوں کی شفقت کے سائے تلے۔

صبر و برداشت اور محنت سے کام کرنے کی آزادی پر اس اعتماد کے ساتھ کہ عزت ِنفس مجروح نہیں کی جائے گی۔

ادب و احترام سے ایک دوسرے کی تعظیم کی آزادی، بنا کسی کے رْتبے مقام کی جھجھک کے۔

خوف سے آزادی ماسوائے رب ِکائنات کے سامنے پیشی کے خوف سے۔

زندہ رہنے کی آزادی اس بھروسے پر کہ موت برحق ہے۔

خوابوں کی ایک طویل نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جیسے کھلی ہوا میں سانس لینے کی آزادی، ملآؤٹوں سے پاک اللہ کا عطا کردہ رزق صبر و شکر سے کھانے کی آزادی۔

ذرا سوچیے!!

آج یہ پاکستان اس قدر کسمپرسی کی حالت میں کیوں ہے؟

جس دور میں لُٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس دور کے سلطان سے کوئی بُھول ہوئی ہے

آج کے پاکستان میں فقیر کی کمائی ہی نہیں لٹی بلکہ عزت نفس لٹ گئی ہے۔

مائیں اپنے بچوں سمیت خودکشی پر مجبور ہیں تو دوسری طرف دندناتے دہشت گرد ماؤں کی گود اجاڑ رہے ہیں اور بیرونی مداخلت اور دھشت گردی ہماری خود مختاری کو آئے دن تاراج کرتے ہیں۔ خلقِ خدا کوڑے کے ڈھیروں پر رزق تلاش کرنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ سونا اگلنے والی زمینوں کے ہوتے بھی قوم غذائی کمی کا شکار ہوچکی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لا محدود ذرائع کے باوجود اندھیرے ہمارا مقدر بن چکے ہیں۔ جہالت کے اندھیرے اس پر مستزاد کہ اب ہمارا طالب علم ڈگری رکھنے کے باوجود اپنے وطن کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے کیوں کہ اسے وہ تعلیم دی جاتی ہے جس کا ہمارے مسائل کے حل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ملآؤٹ، ذخیرہ اندوزی اور ماپ تول میں کمی اب باعثِ شرم نہیں رہی۔ قانون پر عمل کرنا باعث شرم اور اس کی خلاف ورزی کو فخر سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی تو ہمارے حکمران کر رہے ہیں اور کرتے چلے آئے ہیں۔

علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اب ہم کیسے پاکستان کے خواب دیکھتے ہیں۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ صرف اشرافیہ ہی نہیں ہم سب افراد بھی اپنے خوابوں کے قاتل ہیں۔ ہم نے ترقی اور خوش حالی کے ان حقائق کو دوام دینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جن کی بنیاد پر ’’ میرے خوابوں کا پاکستان‘‘ دنیا کے لیے قابل تقلید بن سکتا۔ نتیجہ یہ کہ اب ہم مضمحل ہیں اور ہمارا پاکستان مفلوج۔

گم راہ اشرافیہ آسمان سے اترتی ہے نہ سیاسی جماعتیں۔ دہشت گرد زمین سے اگتے ہیں نہ غداران وطن۔ یہ سب طبقے ہم ہی میں سے ہیں لہٰذا میرے خوابوں کا پاکستان کسی کو موردالزام ٹھہرانے، کسی پر انگلی اٹھانے یا پھر کسی کو کوسنے سے ہرگز وجود میں نہ آئے گا۔ میرے خوابوں کا پاکستان تب وجود میں آئے گا جب ہم الزام تراشی کے اس رویے کو ترک کر کے دل و جان سے اس پاک وطن کے لیے خلوص اور چاہت سے کام کریں گے اور ہم سب کواپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر سوچنا ہوگا کہ میرے خوابوں کے پاکستان کے حصول کی منزل دور ہونے میں ہم انفرادی طور پر کس حد تک قصور وار ہیں۔ قوم کے افراد کا انفرادی کردار ہی مجموعی قومی شناخت بنتا ہے۔ اس وطن کی تقدیر ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری تقدیر اس کی سالمیت و ترقی سے وابستہ ہے۔ آئیے اپنی پوری قوت و صلاحیت اسے مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے پر صرف کیجیے تاکہ ہم قوموں کی صف میں باعزت مقام حاصل کرسکیں اور اگر ہم نے وطن کی ترقی کی طرف سے اغماض برتا تو تاریخ ہمیں حرفِ غلط کی طرح مٹا ڈالے گی۔

ہم صنعت کار ہوں یا زمین دار، آجر ہوں یا اجیر، معلم ہوں یا متعلم، دکان دار ہوں یا خریدار، سیاست دان ہوں یا عوام، سرکاری اہل کار ہوں یا عرضی گزار، ڈاکٹر ہوں یا بینک کار، وکیل ہوں یا مؤکل، ادیب ہوں یا قاری، شاعر ہوں یا سامع، سندھی ہوں یا پنجابی، پختون ہوں یا بلوچ، مہاجر ہوں یا انصار،کشمیری ہوں یا بلتستانی، شیعہ ہوں یا سنی، مسلم ہوں یا غیر مسلم اور اشرافیہ ہوں یا رعایا ہمیں اپنے ہر مقام، ہر روپ، ہر حیثیت، ہر رتبے، ہر پہچان، ہر عہدے اور ہر صلاحیت کو اپنے وطن کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے وقف کرنا ہوگا، تب جاکر وجود میں آئے گا۔

خواب دیکھنا بہت آسان ہے۔ اب آتے ہیں اس بات کی جانب کہ اپنے خوابوں کو مجسم دیکھنے کے لیے کون سی تبدیلی یا اقدامات کی ضرورت ہے۔ قائد کے زریں اصولوں کو اپنا کر ہم عوام نے ہی پہلا قدم اٹھانا ہے۔ برس ہا برس سے نام نہاد قائدین کو آزمائے چلے جارہے ہیں اور مسلسل دھوکے کھا رہے ہیں۔ کیا حال میں ہی عدالت عظمیٰ کے سامنے جو مقدمہ پیش ہوا اس سے آپ نے اندازہ نہیں لگایا کہ قائدین نے عوام کو کیسے لوٹا۔ اگر ہم نے عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو پھر متحد ہونا ہے ہر محاذ پر متحد ہونا ہوگا۔ مسلک، فرقے، عقیدے سے قطع نظر صرف ایک پاکستانی کا طرز ِفکر اختیار کرنا ہے۔ برداشت کو فوقیت دینی ہے۔ دیانت داری اور محنت یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جن پر تکیہ کیا جائے تو بڑے سے بڑا پہاڑ بھی سر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے خوابوں میں ایسا پاکستان ہے جہاں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے عزت کے ساتھ اْجرت ملے لیکن مزدور بھی دیانت داری سے کام کرے۔ خواب لامحدود ہیں لیکن ان کا مفہوم صرف آزادی ہے تو تعبیر بھی صرف ایک لفظ میں پنہاں ہے اور وہ ہے خود احتسابی۔ ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے خلوص ِنیت کے ساتھ۔ ہر انسان اپنا محاسبہ کرے۔ فرد کی سوچ جب قوم کی سوچ میں ڈھلے گی تو ان شاء اللہ یہ سوئی ہوئی قوم ایک نئے عزم اور ولولے سے انگڑائی لے کر بیدار ہوگی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */