شرم سے آزادی - حماد اللہ

کچھ دن پہلے یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جو امریکہ میں بنائی گئی جس میں ایک شخص کے پاس ڈالروں سے بھرا بریف کیس ہے اور وہ ایک جوڑے یعنی میاں اور بیوی کے پاس جاتا ہے۔ ہائے ہیلو کے بعد حال اور احوال پوچھا جاتا ہے، پھر اس خاتون کے شوہر سے کہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو یہ ڈالرز دے سکتا ہوں، اگر آپ کی بیوی ایک رات کے لیے میرے ساتھ جائے۔ شوہر صاحب پہلے تو تھوڑا شرما جاتا ہے لیکن وہ شخص جب اس کو بتاتا ہے کہ ان پیسوں سے تم بنگلہ گاڑی وغیرہ لے سکتے ہو، تمہاری لائف مزے کی ہو سکتی ہے تو پھر وہ اپنی بیوی کی طرف دیکھتا ہے۔ بیوی تھوڑا غصہ ہونے کی اداکاری کرتی ہے لیکن میاں بیوی کے آپس کے مشورے کے بعد جوڑا اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ شرم، حیاء، غیرت، اخلاق جیسی چیزیں کچھ نہیں ہوتا اگر دنیا میں کچھ کام کا ہے تو وہ ہے ڈالر! لہٰذا عورت کا شوہر کہتا ہے کہ "اوکے!" وہ شخص عورت سے پوچھتا ہے، وہ بھی کہہ دیتی ہے کہ چلتے ہیں !۔ شوہر کو پیسے دے دیے جاتے ہیں وہ اپنی راہ لے لیتا ہے جبکہ بیوی اس شخص کے ساتھ بانہوں میں بانہیں ڈال کر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر چلی جاتی ہے۔

اس چیز کو لبرل طبقہ "آزادی" کہتا ہے اور سچی بات ہی یہی ہے اسی کو آزادی کہتے ہیں شرم سے اخلاق سے غیرت سے حیاء سے آزادی!

مشرقی معاشرے میں شرم اور حیا ابھی تھوڑی بہت باقی ہے لیکن اس شرم و حیاء کی مذمت میں جس قسم کی مذمتی تحریریں اور تقریریں ہوتی ہیں، اس سے یہ جو چند لوگ باقی ہیں جن کے نزدیک حیاء اور شرم نامی کچھ چیزیں اپنا وجود رکھتی ہیں وہ بھی بہت تیزی کے ساتھ مرعوب ہو رہے ہیں اور اخلاق باختہ تحریروں اور تقریروں کے لیے اگر مگر ڈھونڈ کر لاتے رہتے ہیں لیکن جس دن ان کے ہاتھ سے شرم غیرت اور حیاء نکل گئی اور یہ پورا معاشرہ بے لباس ہو کر کھڑا ہوگیا تب اس بات کا احساس ضرور ہوگا کہ اب ان میں اور بندروں میں کسی قسم کا کوئی فرق باقی نہیں رہ چکا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم قوم پرستی اور کشمیر۔اورنگزیب وٹو

ہمارا پاکستانی لبرل طبقہ گندگی کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے میں ماہر ہے اس مہارت کی داد ان کو دینی بنتی ہے۔یہ طبقہ بداخلاقیوں کو اس وقت کچھ اور نام دیتا ہے یہی کہ لوگوں میں جنس کے بارے شعور پیدا ہوجائے، لوگ مخالف جنس کو دیکھ کر جذباتی نہ ہوجائیں وغیرہ وغیرہ لیکن ان کا مقصد ایسا کچھ بھی نہیں ان کا مقصد اس معاشرے کو بے لباس کر کے کھڑا کرنا ہے اس کے پیچھے سرمایہ دارانہ سوچ موجود ہے۔ یہ لوگ یہاں 'پورن انڈسٹری' دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، یہ اس معاشرے سے شرم اور حیاء کے تصور کو نکال باہر پھینکنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے یہ اپنے اداروں کو، اپنے میڈیا گروپس کو، اپنے ویب سائٹس کو اور این جی اوز کو ہر وقت کام پر لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔

جدید تہذیب کے خالق اور اس کے خریدے ہوئے کارکنوں کو انسانی تکریم سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ اس سے انسان کو اپنا وہ مقام یاد آجائے گا جو خالق کائنات نے اسے دیا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام اپنے لیے ہر اس چیز کو خطرہ سمجھتا ہے جو مذہبی ہو اسی لیے سرمایہ دارانہ نظام لبرل ازم کی آڑ لے کر انسان سے اس کا وہ مقام چھین لیتا ہے جو اس کی اصل پہنچان ہے جو اسے اور مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ لبرل ازم انسان کو اس اخلاق حیا اور شرم سے آزاد کرنا چاہتا ہے جو اسے مذہب نے دیا ہے اور اس کے بدلے وہ انسان کو بداخلاقی اور بےحیائی دے کر اس کو گندگیوں میں لتھڑا ہوا دیکھ کر سکون اور خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔

ڈاکٹر الیکسس کاریل جنہوں نے فرانس کے شہر لیون سے ڈاکٹریٹ کیا اور 30 سال تک امریکہ میں علمی تحقیقات کا کام کیا اور اپنی قابلیت اور گرانقدر طبی خدمات کے صلہ میں نوبل پرائز بھی حاصل کیا، فرماتے ہیں کہ : عقل، قوت ارادی اور اخلاق آپس میں باہم مربوط ہیں البتہ اخلاق احساس عقل سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیوں کہ جب یہ احساس کسی قوم سے نکل جاتا ہے گو اس کا اجتماعی وجود آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی، قربانی اور کشمیر- ناصر محمود بیگ

مزید فرماتے ہیں کہ تہذیب جدید (مغربی لبرل تہذیب) عقلی عمل کے مناسب کوئی ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اکثر لوگوں کے عقلی و روحانی زوال کا سبب وہ نقائص ہیں جو ان کی نفسیاتی فضا میں موجود ہیں کیونکہ مادہ کی برتری اور صنعتی مذہب کے اصولوں نے ثقافت جمال اور اخلاق کو پامال کردیا ہے۔

اسی طرح سید مودودی فرماتے ہیں کہ "فرد کی آزادی (شرم و حیاء سے) کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام نے فرد کو ہر ممکن طریقے سے دولت کمانے کا غیر مشروط اور غیر محدود اجازت نامہ دے دیا ہے اور نئے فلسفہ اخلاق نے ہر اس طریقہ کو حلال اور طیب ٹھہرایا جس سے دولت کمائی جا سکتی ہو، اس نظام نے تمام انسانی کمزوریوں کو چن چن کر تاکا اور انہیں اپنی اغراض کے لیے Exploit کرنے کے نت نئے طریقے اختیار کرنے شروع کیے، ایک شخص اٹھتا ہے اور وہ اپنی جیب بھرنے کے لیے لوگوں کو شراب نوشی کی لعنت میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے کوئی نہیں جو سوسائٹی کو اس طاعون کے چوہے سے بچائے دوسرا اٹھتا ہے اور وہ سود خواری کا جال پھیلاتا ہے کوئی نہیں جو اس جونک سے لوگوں کی خون حیات کی حفاظت کرے"۔