محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت - آمنہ اسلم

بیسویں صدی میں بہت بڑی بڑی شخصیات کے نام گزرے ہیں مگر اس صدی میں جو منفرد مقام محمد علی جناح کا ہے وہ کسی اور کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کام محمّد علی جناح سے لیا وہ اعزاز کسی اور کو نہیں مل سکا۔ سٹانلے والپرٹ اپنی معرکۃ الآرا کتاب "جناح آف پاکستان" میں لکھتے ہیں:

"بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو بخوبی تبدیل کیا۔ اس سے بھی کم لوگ ہیں جو دنیا کے نقشے کو بدل سکے۔ شاید ہی مائی کا کوئی لال ایسا ہو جسے کوئی قومی ریاست بنانے کا اعزاز ملا ہو۔ محمد علی جناح یہ تینوں کام کر کے دکھائے۔"

واقعی یہ منفرد اعزاز محمّد علی جناح کے حصّے میں آیا دنیا کا کوئی دوسرا شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی بدترین حالت دیکھتے ہوئے اللہ ایک عظیم روح اس دارِ فانی کی طرف بھیجتا ہے جو شہر کراچی میں وارد ہوئی محمد علی جناح کی صورت میں جس نے 25 دسمبر 1876ء کو شہر کراچی میں پونجا جناح کے گھر جنم لیا۔ تعلیم اپنے گھر سے شروع ہوئی جس کی بنیاد دین اسلام تھی۔

محمّد علی جناح نے سندھ مدرستہ الاسلام سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا اور جدید کے ساتھ ساتھ دینی علم سے بھی روشناس ہوئے۔ پونجا جناح کا کاروبار بہتر تھا، انہوں نے اپنے ہونہار بیٹے کو بہتر تعلیم کے لیے انگلستاں بھیج دیا۔ نوجوان جناح نے ایک دن لنکنز اِن کے دروازے پر بڑے بڑے قانون عطا کرنے والوں میں سرور عالم صل اللہ علیہ وسلم صلم کا نام مبارک دیکھا تو فورًا فیصلہ کیا کہ اسی دبستان سے قانون کی ڈگری لے کر بیرسٹر بنیں گے۔ 1896ء میں بیرسٹر بن کر واپس بمبی آ گئے اور وکالت شروع کر دی اور پھر وکالت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی۔

سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا انہوں نے کانگریس میں تیزی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ متحدہ ہندوستان اور ہندو-مسلم اتحاد کے لیے ان کی خدمات نے انہیں کانگریس کا قابل تعریف لیڈر بنا دیا۔ لیکن مسلمانوں پر ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے مظالم اور کانگریس کے معتصبانہ رویے نے انہیں بہت بددل کر دیا تو ہندوستان واپس آ کر مسلم لیگ کو مسلمانوں کی عظیم عوامی اور سیاسی جماعت میں تبدیل کر دیا۔

بڑی حیرت انگیز حقیقت ہے کے قائد اعظم کی زیر قیادت بہت کم عرصے میں نہ صرف مسلمانوں میں جوش و خروش پیدا ہوا بلکہ ہندو اور انگریز مسلمانوں کو جداگانہ سیاسی قوت ماننے پر مجبور ہو گئے اور یہاں سے بانی پاکستان کی مسحور کن شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ یہ قائد اعظم کی قیادت تھی جس نے مسلمانوں کو آزادی اور جداگانہ وطن کے تصور کو تحریک کی شکل دی اور اس طرح اس مہذـ و شائستہ شخصیت نے صاف ستھری سیاست کر کے انگریزں اور کانگریسوں جیسے سخت اور طاقت ور مخالفین کے عزائم ناکام بنا کر 14 اگست 1947ء کو آزاد مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ ان کی شخصیت اور کردار نے پاکستانی عوام کو یکجا کیا، قوم ان کی وجہ سے متحد و مرتکز رہی اور اس میں آگے بڑھنے اور پاکستان کو کامیاب بنانے کا جذبہ پیدا ہوا۔

منفرد شخصیت کے حامل باکردار، ہمہ صفات قائد اعظم محمّد علی جناح کا انتقال 11 ستمبر 1948ء میں 71 برس کی عمر میں ہوا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */