[نظم کہانی] سانتا انکل! پلیز - محمد عثمان جامعی

کیمپ میں، شب، پنہ گزینوں کے

پہنچا سانتا کلاز تو دیکھا

سوتا تھا ایک پیارا سا بچہ

بند مُٹھی میں تھا دبا رقعہ

کھول کر مٹھی جب پڑھی چٹھی

اُس کے سینے پہ چل گئی برچھی

یہ لکھا تھا کہ”سانتا انکل!

کوئی تحفہ دو نہ کھلونا دو

میں نہیں کہتا مُدتوں کے لیے

آج کی رات، کل کے آخر تک

بس کرسمس کی ساعتوں کے لیے

ڈھونڈ کر مجھ کو میری ماں لادو“