مولانا طارق جمیل کی تصویر پر تنقید، درست رویہ کیا ہے؟ ابویحییٰ

آج کل مولانا طارق جمیل صاحب کی ایک تصویر کے حوالے سے ان پر زبردست نقد کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف بہت سے لوگ ان کی حمایت میں بھی میدان میں آگئے ہیں۔ ایسے میں کچھ اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں جو اس طرح کی تنقیدوں کو پرکھنے کے لیے انھیں درست زاویہ نظر فراہم کریں گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے، (مسلم ،رقم 2564)۔ اس مفہوم کی متعدد روایات کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ اس طرح کی روایات کی روشنی میں کسی فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی جان و مال کی طرح اس کی عزت کو کوئی نقصان پہنچائے۔

جو لوگ معاشرے میں اصلاح کے لیے کھڑے ہوتے اور تفقہہ فی الدین رکھتے ہیں وہ اس بنیادی دینی حکم کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے دو چیزوں کا فرق اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان میں سے پہلی چیزکسی فرد کو بدنام کرنے کا عمل ہے اور دوسری چیز غلط رویے کی نشان دہی ہے۔

پہلی چیز یعنی کسی فرد کو بدنام کرنے کا عمل دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے ایک غلط راستہ ہے۔ یہ عمل دین، اخلاق اور علم کے تمام مسلمہ اصولوں کو پامال کرکے کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی متعین شخص یا خاص گروہ کا نام لے کر اس کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس شخص یا گروہ میں وہ ساری برائیاں ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو موجود نہیں ہوتیں۔ اس کی ہر بات اور عمل کی بالکل غلط توجیہ کی جاتی ہے۔ قدم قدم پر جھوٹ، بدگمانی، بہتان وغیرہ سے کام لیا جاتاہے۔ ہر صالح مزاج شخص یہ جان سکتا ہے کہ یہ کسی غلط رویے یا غلط نقطہ نظر پر تنقید نہیں بلکہ کسی کو بدنام کرنے کی مہم ہے۔ ایسی مہم بازی کا حق کسی شخص کو حاصل نہیں اور ایسا کرنے والا فعل حرام کا مرتکب ہوتا ہے۔ قیامت کے دن ایسے شخص کو سخت جوابدہی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   حج میں پہلا انعام پانے والی تصویر کی کہانی

اس سے برعکس دوسری چیز غلط رویوں پر تنقید ہے۔ یہ کسی فرد کی تنقیص کا نہیں بلکہ غلط ریویوں کی خرابی کی نشان دہی کا عمل ہوتا ہے۔ اس میں مسلمہ برائیوں کی نشان دہی کی جاتی ہے، مگر افراد کو ہدف نہیں بنایا جاتا۔ کسی فرد کا نام لے کر اس کو بدنام نہیں جاتا۔ اس طرح کی تنقید میں سخت الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ تشبیہات، استعارے اور کنائے جیسے مؤثر ادبی اسالیب سے چوٹ بھی کی جاتی ہے اور طنز و تعریض بھی ہوتا ہے۔ مگریہ سب چیزیں اس لیے جائز ہوتی ہیں کہ اس میں کسی متعین فرد کا نام لیا جاتا ہے نہ کسی خاص شخص کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جارہی ہوتی ہے۔ اصل نشانہ ایک برارویہ ہوتا ہے جس کی شناعت پر لوگوں کو متنبہ کیا جارہا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی گروہی تعصب یا دشمنی، شہرت حاصل کرنے کا کوئی داعیہ اور دوسروں کو نیچے دکھانے کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا۔ پہلی چیز اگر سراسر شر ہے تو یہ دوسری چیز وہ خیر ہے جس سے معاشرے زندہ رہتے ہیں۔ اس کے کرنے والے اللہ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہوتے ہیں۔

ان دو چیزوں کے علاوہ ایک اور چیز علمی تنقید ہوتی ہے۔ علمی تنقید کسی کے نقطہ نظر کی غلطی کو علمی دلائل سے واضح کرنے کا عمل ہوتی ہے۔ اس میں تنقید کرتے ہوئے کبھی کسی فرد یا گروہ کا نام لینا پڑتا ہے۔ مگر اس میں بھی تمام مسلمہ اخلاقی اور علمی اصولوں کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا امکان ہمیشہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ آخر کار تنقید کرنے والے کی بات ہی غلط ثابت ہوجائے اور جس پر تنقید کی جارہی ہے، اس کا نقطہ نظر بالکل درست ہو۔

اس کے برعکس جب ان علمی مسلمات کی خلاف ورزی کی جا تی ہے تو پھر یہ کوئی علمی تنقید نہیں ہوتی بلکہ دوسروں کو بدنام کرنے کا وہی عمل بن جاتا ہے جس کا شروع میں ذکر ہوا۔ ایسی تنقید میں دوسرے کی بات غلط نقل کی جاتی ہے۔ بات کو سیاق و سباق سے کاٹ کربیان کیا جاتا ہے۔ دوسرے کی طرف وہ بات منسوب کی جاتی جو اس نے نہیں کہی ہوتی۔ دورازکار توجیہات کی جاتی ہیں۔ ظن و گمان سے کام لیا جاتا ہے۔ نیت پر حملے کیے جاتے ہیں۔ کفر وایمان کے فیصلے دیے جاتے ہیں۔ یہ چیزیں مل کر اس تنقید کر ایک گناہ کبیرہ بنادیتی ہیں۔ ایسی تنقید کرنے والا روزِ قیامت خدا کے ہاں دوسروں کی عزت کو پامل کرنے کا مجرم قرار پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   حج میں پہلا انعام پانے والی تصویر کی کہانی

مسلمانوں کی تاریخ میں جو مصلحین اٹھتے ہیں وہ ان تمام چیزوں کا فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔ وہ جب علمی تنقید کرتے ہیں تو صرف نقطہ نظر کی غلطی کو دلائل سے واضح کرنے تک خود کو محدود رکھتے ہیں۔ وہ کسی کی نیت کا فیصلہ کرتے ہیں نہ آخرت کا۔ ہمیشہ یہ امکان تسلیم کرتے ہیں کہ ان ہی کی بات غلط ثابت ہوجائے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس حد سے آگے بڑھیں گے تو بات علمی تنقید کی حد سے نکل کر کسی فرد کو بدنام کرنے اور اس کی عزت کو داغدار کرنے کی حدود میں داخل ہوجائے گی جو کہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

ایسے مصلحین برے رویوں کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کا لب و لہجہ بہت سخت ہوجاتا ہے۔ اس کی مثالیں انبیائے بنی اسرائیل کی تقاریر میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور مسلمان مصلحین کے ہاں بھی اس کے متعدد نمونے ملتے ہیں۔ مگر ان کی یہ تنقید کسی دینی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی تنقید افراد کے خلاف نہیں بلکہ غلط رویوں پر ہوتی ہے۔ افراد پر تنقید اور رویوں پر تنقید دو بالکل جدا چیزیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔​

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.