بدزبانی اور بدلحاظی کو کیوں دوام نہیں - اختر عباس

یہ ایک نیا تحفہ ہے جو پوسٹ ہوا ہے۔ خدا خدا کر کے دھرنے کی باقیات میں سے رضوی صاحب کی بے نقط گالیوں کے عذاب سے جان چھٹی تھی مگر اس عالم میں کہ سوشل میڈیا پر ایک کے بعد ان کا رکارڈ لگایا اور بجایا گیا، ایک سے ایک گانا بن کر سامنے آرہا تھا، دسمبر کے پہلے ہفتے ریلیز ہونے والے میں تو حد ہی ہوئی گلوکار علی آفتاب سعید نے اس قدر ترنم اور لے کے ساتھ گایا

مت پوچھ اپنا حال تیری پین دی سری

جینا ہوا محال تیری پین دی سری

دھرنے میں بیٹھے عاشقوں کو صرف ایک ہزار

بچت کا یہ خیال تیری پین دی سری

یہ ملک نظریاتی ہے تیرے خیال میں

تو اور تیرا خیال، تیری پین دی سری

سچ کہوں تو بریلوی مکتبہ فکر کے اہل علم اور اہل دانش کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، اس ادارے کے اساتذہ اور بطور خاص خادم رضوی صاحب کے اساتذہ جو نہ ان کی زبان درازی روک سکے اور نہ ہی ان کی انتہائی قابل اعتراض جملوں، لفظوں اور گالیوں کو روکنے کا اہتمام کر سکے۔ انسانی سطح پر ایسی بدزبانی اور ایسی بری ڈکشن کسی کم پڑھے لکھے آدمی سے بھی نہیں توقع کر سکتے چہ جائیکہ وہ ایک عالم ہونے کا دعویدار ہو اور ظلم کی بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم جیسی کتاب کا حافظ ہونے کا دعویدار ہو اور اس کے چاہنے والے اسے شیخ الحدیث کہتے ہوئے بھی نہ جھجھکتے ہوں۔

زندگی میں ہر دعوے کو ثبوت کی حاجت ہوتی ہے اور ثبوت کے بنا وہ ایک بے وقعت دعوے کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی عملاً متقبلاً کی تعلیم دی تھی جو دنیا میں انسان کر کے آئے اسے اللہ کے ہاں قبول کرلیا جائے، لوٹا کر اور پلٹا کر لانے والے کے منہ پر نہ مار دیا جائے۔

بریلوی مکتبہ فکر کے علماء تو برصغیر میں آنحضور ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے اور اس میں مبالغہ کرنے کے لیے معروف رہے ہیں۔ بدزبانی کا الزام اور اعزاز تو پہلی بار یوں ایک برے اشتہار کی طرح سامنے آیا اور اب آتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تازہ واردات زرداری صاحب اور ان کے صاحبزادے کے نام پر ڈالی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ آس پاس بیٹھے لوگ سبحان اللہ اور واہ وا کرتے رہتے ہیں، کوئی ایک بھی نہیں ہوتا جو کہہ سکے علامہ صاحب یہ نامناسب ہے، یہ کسی عالم کے مقام سے ہی گری ہوئی حرکت ہے۔ پنڈی گھیپ میں پیدا ہونے اور عمر کا زیادہ حصہ اوقاف کی لاہور میں واقع پیر مکّی مسجد کی امامت کرنے والے رضوی صاحب 1966ء سے دنیا میں ہیں۔ افسوس اتنے برسوں میں کیا بری پہچان کمائی ہے! بے شک یہ شہرت جو ان کو ملی ہے، پانی کے کسی عار ضی بلبلے جیسی ہے کہ یہی روایت اور یہی موزوں جواب ہے جو انسانی معاشرے اور اس کے لوگ اجتماعی دانش کے ساتھ دیتے چلے آئے ہیں۔

مولانا عبدالستار خان نیازی ذاتی زندگی میں ذرا کھلے ڈھلے تھے اور پنجابی اور سرائیکی کا تڑکا لگا لیتے تھے، مگر ان کے پاس بیٹھنے والے یوں بے مزہ نہ ہوتے تھے۔ ان کے ذاتی اور سیاسی مزاج سے سب واقف تھے، اسی لیے مولانا نورانی کے ساتھ ان کی لمبی رفاقت ان کے لحاظ کے باعث رہی۔ ایسی زبان انہوں نے بھی کبھی استعمال نہیں کی تھی۔ دو روز قبل آنے والی ایک نئی وڈیو میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:
''زرداری کا پٹھا کہتا ہے مولویوں کا حلوہ کم ہوا ہے… اوئے ٹٹو! یہ ہمارے حلوے کو خطرہ نہیں، نہ یہ کم ہوا ہے، تجھے ہمارا حلوہ کیا تکلیف دیتا ہے، اصل میں تمھاری شرابوں کا مسئلہ ہے، تمھاری بدکاریوں کو خطرہ ہے، تم مُوت پیتے ہو، خطرہ! تمہاری شراب کو خطرہ ہے، لونڈیا کمینیا! تُو بتا ایسے بزرگوں سے بات کرتے ہیں؟ ہمیں تو بیٹھے بٹھائے حلوہ ملتا ہے، تجھے پیشاب کہاں کہاں سے ملتا ہے؟ ہمارا منہ نہ کھلوا، ظالم باپ مظلوم بیٹی کے بیٹے! ہم تو تمھیں منہ بھی نہیں لگانا چاہتے۔ مُوت اورشراب ایک ہی چیز ہے.''
پھر نعرے اور سب مل کر گانا گاتے ہیں ۔ آیا آیا دین آیا… آیا یا دین آیا…!

یہ نعرہ نہیں انسانی جذبات سے کھیلنے کے ایک ٹول جیسا سلوک ہے جو ایک بہترین بات کو جذبات سے کھیلنے اور انھیں گرم رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ اس برے طرز عمل نے کچھ لوگوں نے متوجہ کیا اور انہیں بھی اسی راہ پر لگا لیا۔ ذرا لمحہ بھر کو سوچیے کہ صاحب اخلاق پیغمبر ﷺ کو یہ کس قدر برا لگا ہوگا کہ اللہ نے ہی اس طرز عمل کو ناپسندیدہ اور جہنمی قرار دیا ہے تو خادم صاحب کے چاہنے والوں نے اس بداخلاقی کو جائز اور ضروری ثابت کرنے کے لیے دلائل کی ڈھیریاں کھڑی کر دیں۔ انہوں نے خود ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا کہ میرے پاس پچاس ساتھ حوالے ہیں گالیاں دینے کے اور یہ کہ صحابہ نے کس کس طرح دی ہیں اور یہ کہ یہ ہمارے پاس امانتیں ہیں کہ صحابی نے گفتگو کیسے کی؟ استغفراللہ! یہ کیسا بہتان اور کیسی گستاخی ہے؟ کہاحضرت عمرؓ نے گالی نکالی، حضرت ابوبکرؓ پر بھی یہی تہمت لگائی اور تو اور خود آنحضور ﷺ اور قرآن سے حوالے ڈھونڈ رکھے ہیں. علامہ اقبال کا حوالہ رضوی صاحب بہت دیتے ہیں، شاید علامہ کا یہ شعر ان تک نہ پہنچا ہو.


خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

ابھی یہ اور ان کا گروہ ایک دھمکی کی طرح موجود ہے، اس لیے بہت سے دانشور ذاتی نشستوں میں بات کرتے ہیں مگر اس پر لکھنے کو آمادہ نہیں کہ ایم کیو ایم کے الطاف حسین والی دہشت کے پس منظر میں اب وہ اسے مذہب کے نام پر کی جانے والی ہراسمنٹ گردانتے ہیں، یہ الزام آسان بہت ہے کہ گستاخ ہے اور بڑوں کی توہین کرتا ہے۔

اس طرز عمل پر بات نہ کرنے کا نتیجہ ایک اور وڈیو کلپ کی صورت بھی نیٹ پر موجود ہے. یہ طاہرالقادری صاحب کے بارے میں ہے.
"او شیخ الشیطان! اوئے شیخ الرذائل! تم یہود و نصاریٰ کا مال کھاتے ہو؟ اوئے ڈاکٹر پادری! اوئے کینیڈا والے بےغیرت! اوئے خنزیر! اوئے سورا! تو بھونکتا ہے ذلیلا؟ ذلیل کے بچے تو خنزیر سے بھی بدتر ہے۔"
ایسے ایسے عامیانہ اور گھٹیا الفاظ استعمال کر کے وہ مجمع کی طرف داد و طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں افضل قادری گجرات والے مسکراہٹ لیے منہ جھکائے اس تماشے کے گواہ اور اس بدتہذیبی کا حصہ ہوتے ہیں۔ پہلے مجھے صرف اندیشہ تھا کہ اب یہ انداز گفتگو توجہ پا جائے گا مگر نیٹ پر موجود کلپس دیکھ کر اندازہ ہوا کہ علم کے نام پر بےعلمی کے عالم ایک بڑی تعداد میں ہمارے دائیں بائیں موجود ہیں، حد تو یہ ہے کہ اس روایت کو بعض اہل حدیث مولویوں نے بھی اختیار کر ڈالا ہے۔ بد زبانی کے بعد وہ ٹھٹھہ مارتے ہیں اور تحسین کے طالب ہو تے ہیں، اور اگلے ہی لمحے مجمع خوشی خوشی ان کی یہ ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ انسانی تاریخ میں اس بدتہذیبی کو کبھی پسند نہیں کیا گیا، اس کو رواج پانے سے روکا گیا، اس کے آگے بند باندھے گئے، اسے ہمیشہ عامیانہ اور بازاری گنا گیا۔ اہل علم اور اہل دانش اپنے عمدہ طرز عمل اور الفاظ کے چناؤ سے ہی جانے اور مانے جاتے رہے ہیں۔

معاف کیجیے یہ زبان تو بازاری بھی کہلانے کی مستحق نہیں۔ بازار میں بھی کسی کے بارے میں یہ زبان اختیار کی جائے تو سننے والے دست وگریبان ہونے سے گریز نہ کریں گے۔ اس بدتہذیبی کا ایک شائستہ سا جواب طاہر القادری صاحب نے بھی دیا ہے، باقی سب نے ’’ اوور لُک ‘‘ہی کیا ہے، لیکن عوامی سطح پر جو تماشا بنا ہے اور عالم لفظ جس تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنا ہے، اس کا سارا گناہ خادم رضوی صاحب کے سر ہے۔ سیاسی طور پر بھی ایسی زبان کے استعمال پر وقتی سا ابال اور ہیجان ضرور پیدا ہوتا رہا ہے مگر اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ الطاف حسین کے بعد عمران خان صاحب کا نام نمایاں ہوا، خاص طور پر جب انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو ذلیل آدمی کہا۔ رضوی صاحب کی عمران خان صاحب کو بھی ’’بکواس کرتا ہے‘‘ کہہ کر تسلی نہیں ہوئی تو انہیں ایک مکروہ جانور سے تشبیہ دے کر اپنی بےذوقی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اسی حوالے سے فواد چوہدری اور بابر اعوان نے سیاسی میدان میں زبان درازی کے نئے زاویے دریافت کیے اور عوامی سطح پر مقبولیت اور بدنامی پائی۔ پیپلز پارٹی کے رضا عابدی نے اس حوالے سے بےلحاظی دکھانے میں عروج پایا اور پھر غروب ہو گئے۔ یہی حال پیپلز پارٹی کے سابق زبان دراز گورنر کھوسہ کا ہوا، مسلم لیگ سے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے ساتھ ساتھ مشاہد اللہ کا نام نمایاں ہے۔ رانا ثناءاللہ کا ہاتھ بھی کبھی کبھی کافی رواں ہوجاتا ہے۔ جملے بازی میں جے یو آئی کے حافظ حسین احمد کا نام بھی اہم ہے مگر وہ بلو دا بیلٹ جملہ نہیں کہتے۔ جماعت اسلامی میں بالعموم یہ مقام کسی نے نہیں پایا۔ 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں نمایاں ہونے والے حافظ سلمان بٹ نے البتہ دو بار ایسی غلطی اور بےاحتیاطی کی، جسے نہ جماعت کے حلقوں میں پسند کیا گیا اور نہ ہی دہرایا گیا، اس کے باوجود عوامی سطح پر ان کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ جماعت کے اندر بھی ان کی ثقاہت بری طرح مجروح اور متاثر ہوئی اور وہ تنظیمی طور پر زیادہ بڑے مناسب کے اہل ہونے کے باوجود آگے نہ بڑھائے جا سکے۔

عوامی ہمدردی یا وقتی تالی کسی سیاسی ذہن کو تو عزیز ہو سکتی ہے، دینی مزاج اور اخلاقیات کو ایسی سوچ کو بھی اپنے اندر آنے کی اجازت دینے کی بھی روادارنہیں رہیں۔ عوامی حرکیات کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ بھٹو صاحب کے مقابلے میں خان قیوم خان کے جلسے میں جانے اور نعرے لگانے کی حد تک تو یہ معاملہ چل جاتا ہے، مگر ایسے کسی کردار کو طویل عمر ملتی کم ہی دیکھی گئی ہے۔ اہل علم ودانش اور اہل قانون کے ہاں کبھی کبھی کسی بات پر زیرو ٹالرنس کا معاملہ بھی ہونا چاہیے، ورنہ اس طرح کی زبان اور گالیوں کے گناہ جاریہ کا پھل ان کے گھر ضرور آئے گا۔ قانون کو بھی ایسے معاملات میں لحاظ کرنے کے بجائے پوری رفتا سے حرکت میں آنا چاہیے، یہ اپنی ہی سیاسی اور سماجی جڑوں کو بےوقعت ہونے سے بچانے کا ایشو ہے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.