کیا "اسلام" زندہ ہے؟ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

نٹشے نے کہا خدا کی موت واقع ہو گئی۔ بظاہر لغو نظر آنے والے اس بیان کا وہ مطلب نہیں جو اس کے الفاظ بتا رہے ہیں۔ تمام فلسفی کچھ نہ کچھ "کھسکے" ہوئے ضرور ہوتے ہیں، بزعم خود کوئی نقطہ ہاتھ لگ جائے تو اس کے اظہار میں ضرورت سے زیادہ دبنگ ہو جاتے ہیں۔

اس کی رائے میں انسان علمی اور شعوری میدان پر اس درجہ ترقی یافتہ ہو چکا کہ اب اسے اپنے اخلاقی وجود اور روزمرہ زندگی کے لیے خدا جیسے ماورائی تصور کی حاجت نہیں رہی تھی۔ اب کسی "خدا" کے "ہونے" کی ضرورت باقی نہیں تھی کیونکہ اب تمام "جوابات" خود انسان کی دسترس میں تھے۔ تصورِ خدا کا کچھ عملی استعمال اب باقی نہیں رہ گیا تھا۔ کوئی بھی شے یا تصور اس وقت اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے جب اس کے استعمال کے مواقع مفقود ہو جائیں۔ گویا غیر متعلق ہو جانا، درحقیقیت معدوم ہو جانا ہے۔

نٹشے نے یہاں ٹھوکر کھائی۔ خدا کسی تصور کا نام نہیں، وہ تو ایک "الحی" اور "القیوم" ہستی ہے۔ ایک ایسی زندہ ہستی جس کی وجہ سے باقی سب کچھ ممکن اور موجود ہے۔ نٹشے جیسے کئی آئے اور گئے، لیکن وہ اپنے تخت پر پورے جاہ و جلال سے متمکن ہے اور اپنے بندوں کو اپنی موجودگی اور اہمیت کا ہمہ وقت احساس دلاتا رہتا ہے۔ ہر آخری "کیوں" کا جواب وہی ہے اور ہر ٹوٹتی امید کا آخری سہارا بھی وہ۔

تاہم … یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ اگر نٹشے آج موجود ہوتا اور مسلمانوں کے اطوار دیکھ کر کہتا کہ اسلام کی "موت" واقع ہوگئی ہے تو اس کا رد کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا۔

اسلام کی موت …؟

جی ہاں! بالکل ویسے جیسے نٹشے نے تصورِ خدا کے متعلق اپنا مقدمہ رکھا۔ جس کے ساتھ تعلق صرف نام کا رہ جائے اور حقیقت میں آپ اس سے الگ رہ کر زندگی بسر کرنے پر آمادہ نظر آئیں، اس کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اسلام ہمارے لیے بظاہر اب صرف ایک نام برائے نام ہے۔ اس کی تعلیم اور احکام، بالخصوص معاشرتی و سماجی پہلو ہمارے لیے متروک ہو چکے ہیں۔ مکمل طور پر Non Operative۔

شناخت اور عمل کا ایک بالکل الگ نظام اس کی جگہ لے چکا ہے۔ اسے ہم نرم الفاظ میں مکاتب ہائے فکر یا مسالک کہہ لیتے ہیں اور ذرا زیادہ سخت/حقیقت پسندانہ الفاظ میں اسے فرقہ بندی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس گروہ بندی کے مؤثر ہونے کا اندازہ صرف اس بات سے کر لیجیے کہ اگر آپ اسلام کے نام پر لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کریں تو ہزار مشکلات راہ میں مزاحم ہو جائیں گی۔ بہت سے سوالات اٹھائے جائیں گے۔ جن کی اکثریت آپ کی نیت اور "اصل اہداف" سے متعلق ہو گ۔ پھر بھی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کا لامتناہی سلسلہ، اور نتیجہ قریباً صفر۔ البتہ، اگر معاملہ مسلک سے متعلق ہے تو بلا رد و کد، ناقابل یقین سرعت کے ساتھ ایک جمعیت مرنے مارنے تک کو تیار ہو جائے گی۔

ہمارے ہاں افعال، برتاؤ اور ایک دوسرے سے قرب و بُعد کے معاملات بھی اس نئے نظام سے ترتیب پاتے ہیں۔ اسلام کی مطلوب سماجی ساخت سے تعلق بس اتنا ہے کہ رواداری اور حسن ظن کی سہولت جسے اسلام سب مسلمانوں، بلکہ تمام انسانوں تک وسیع دیکھنا چاہتا ہے، اب صرف اپنے "ہم مسلکوں" تک محدود ہے۔ اس حلقہ سے باہر کے سب لوگ اگر حریف نہیں بھی، تو اجنبی ضرور ہیں۔

اس صورتحال کے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلک کے ساگر میں مکمل طور سے غوطہ زن ہونے کے بعد اسلام کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔ بذریعہ قرآن اسلامی احکامات تک براہ راست رسائی یا ہدایت کشید کرنے کی کوئی صورت نہیں۔ بلکہ یہ ایک طے شدہ فکری نظام کے ماتحت ہوتا ہے جس میں اللہ کی کتاب کے اوامر و نواہی گروہی تشریحات کے ساتھ مشروط ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس کتاب کی اہمیت صرف اپنے نظام فکر کے دلائل کی فراہمی و دفاع تک سمٹ جاتی ہے۔ نیز، سیاسی اور گروہی غلبہ کی خواہش سے مغلوب علمائے کرام اس بات کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ ان کے ہاں سے دین کی روح سمجھنے والے تیار ہوں نہ ہوں۔ البتہ مسلک کے کامریڈ ضرور جوق در جوق سامنے آئیں۔

اب اس کیفیت کا لازمی نتیجہ وہی ہو سکتا ہے جو مسجد مدرسہ سے لے کر سوشل میڈیا تک ہم سب کے سامنے ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، یہ سب گروہ اپنی اپنی حد بندی اور رویہ میں شدید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تفریق کو قائم رکھنا، بلکہ بڑھانا اور بھی اہم ہو جاتا ہے تاکہ کوئی بھولا بھٹکا یہ نہ کہہ بیٹھے کہ اسلام کے مطلوب عقائد تو سب کے ہاں ایک سے ہیں، پھر یہ تفریق و عناد کیوں؟ اسی خطرہ کے تدارک لیے جو ایک آدھ بات دوسروں سے مختلف ہوتی ہے اور دین کے بجائے ذوق یا تاریخ کا مسئلہ ہوتی ہے، اس کے غبارے میں اس قدر ہوا بھری جاتی ہے کہ لگنے لگے کہ اصل اسلام تو بس یہ ہے۔ باقی سب فروعی معاملہ ہے، یعنی اصل دین فروع کہہ کر نظرانداز اور اپنی پسند یا اختراع ہی ایمان کا حقیقی معیار۔ ظاہر سی بات ہے دوسرا گروہ تو اس کسوٹی پر خود بخود ہی ڈس کوالیفائی ہو جائے گا۔ لہٰذا حق و باطل کے اس نئے (خود ساختہ) پیمانہ کے تحت وہ اسلام ہی سے فارغ۔ یہی معاملہ دوسرے گروہ کے ہاں ان کے لیے ہوگا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ کشمکش مسلک کی ہوتی ہے اور فارغ ایک دوسرے کو اسلام سے کر دیتے ہیں۔ بالکل ایسے کہ میری اپنے ہمسایہ سے لڑائی ہو جائے اور میں اسے کہوں آج سے تم پاکستانی نہیں رہے۔ بھائی میرے پاس کیا اتھارٹی ہے اسے پاکستانی ہونے سے محروم کر دینے کی؟ یا اگر میں ایسا کہہ بھی دوں تو میرے کہہ دینے سے کیا اس کی شہریت منسوخ ہو جائے گی ؟

بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔

دین کا داعی اور نمائندہ بننے کے بجائے مسلک کے محافظ ہونے کو زیادہ بڑا مقصد سمجھ لیا جاتا ہے کیونکہ "حق" کی سند تو مسلکی شناخت کے ساتھ وابستہ ہے۔ کسی بھی دیگر عصری معاملہ میں اگر مبدی اور آئیڈیل کے مابین 1000 میل کا فاصلہ ہے اور وہ ایک میل آئیڈیل کی جانب آجاتا ہے تو کہا جاتا کہ وہ اپنی منزل سے ایک میل قریب تر ہو گیا جبکہ فرقہ بازی کی سوچ میں اگر وہ ہزار میل میں محض ایک میل کی دوری پر بھی ہو تو وہ ایک میل کی دوری زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ چونکہ اس سسٹم میں پارسائی اپنے عمل سے زیادہ دوسرے کی گمراہی سے نمو پاتی ہے، اس لیے اختلافی معاملات بہت اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی کی واضح ہدایت مشترکات پر فوکس کرنے کی ہے۔ مذہب کے نام پر قائم مسالک کے ضمن میں تو ایک فٹ کی دوری کو بھی ملی میٹرز میں بتایا جاتا ہے تاکہ فاصلہ زیادہ سے زیادہ دکھائی دے۔

عوام کو طفل تسلی دینے کے لیے امت کے اتحاد کی باتیں تواتر سے کی تو جاتی ہیں، لیکن یہ اہتمام بھی ساتھ ہی رہتا ہے کہ تقسیم واضح رہے۔ جہاں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے یا ایک دوسرے کے جنازوں میں شرکت سے نکاح ٹوٹ جاتے ہوں، وہاں اتحاد کے امکان کا خود ہی اندازہ کر لیں۔

سچ تو یہ ہے، یا مسالک کی منافرت افروز حد بندیاں قائم رہ سکتی ہیں یا پھر اسلام کے نام پر امت کی شیرازہ بندی۔ دونوں بیک وقت نہیں۔ اس صورت میں صرف منافقت ہی باقی بچتی ہے۔ اور وہ وافر ہے ہمارے پاس۔

اب آپ خود دیکھ لیجیے کیا اس منظرنامہ میں اسلام کو "زندہ" کہا جا سکتا ہے ؟

لیکن اللہ کا دین مر نہیں سکتا۔ ہم کچھ نہیں کریں گے تو اللہ تعالی اوروں کو لے آئیں گے جو یہ کام کر دیں گے۔ اگر یہ کام ہونا ہی ہے تو ہم اور آپ ہی کیوں نہ کر دیں اس کو؟

آپ اپنے مکتبہ فکر پر ہزار بار قائم رہیے۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ باقی سب بھی وہ بنیادی کام کر رہے ہیں جو اللہ تعالی نے اپنی رضا کے باب میں اپنی کتاب اور اپنے نبی، صلی اللہ علیہ والہ وسلم، کے توسط سے ہمیں بتلائے: نماز، روزہ، زکوۃ، حج، انفاق وغیرہ۔ یہی دین ہے۔

جو کام وہ مختلف کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالی ان سے خود ہی پوچھ لیں گے، جیسا کہ اپنی کتاب میں اللہ نے بار بار ہمیں بتایا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اعمال کا حساب شروع ہونے سے ماقبل ہی ہم سب ڈس کوالیفائی نہ ہوجائیں، باہمی کینہ اور تفرقہ بازی کی وجہ سے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */