جنگ، عالم اسلام اور شیطان – خالد ایم خان

اسرائیلی یہودی درندوں کے ساتھ مل کر بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کیے جانے کے بعداقوام متحدہ میں واضح شکست کے بعد امریکی ہٹ دھرمیوں اور عالم اسلام سے کُھلی دشمنی کے ساتھ ساتھ دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو امریکی دھمکیوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی احادیث کے مطابق آخری لڑائی کا وقت قریب آچکا ہے،اور آپ ﷺ کی احادیث ہی کے مطابق مشرق کا ایک ملک جو کہ مسلمانوں کا سب سے طاقتور مُلک ہوگا اس لڑائی میں اہم کردار ادا کرے گا، صورت حال واضح ہوتی چلی جارہی ہے۔ میدان جنگ سج چکا ہے دشمن کی طرف سے صف بندیاں بھی ہوچکی ہیں،دشمن آخر کار مشرق کے اُس مُلک کو پہچان چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کون سا ملک ہوگا جو غروہ ہند کی جانب پیش قدمی کررہا ہے کیوں کہ ایک بہت گہرا تعلق ہے غزوہ ہند اورآرما گیڈن میں یقیناً جو ملک غزوہ ہند لڑے گا اور ہند کا فاتح ہوگا۔ وہی دجالی طاقتوں کے خلاف عالم اسلام کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ اسی سلسلے میں تمام عالمی صیہونی طاقتوں کے ساتھ ساتھ تمام دجالی طاقتیں کسی نہ کسی طرح اُس ملک کی پیش قدمیوں کو روک دینا چاہتے ہیں،ساری دنیا پہچان چکی ہے پاکستان کو … لیکن خود پاکستانی ابھی تک غفلت کا شکار نظر آتے ہیں۔ یقین جانیں پاکستان کو اللہ نے اسی خاص مقصد کے تحت رمضان المبارک کی 27 ویں شب کو دنیا کے اندر مدینۃُ الثانی کا لقب دے کر دنیا کے نقشہ کے اندر پیدا کیا۔

مقصد کی طرف آنے سے پہلے میں کچھ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے آپ کو سمجھانے کی اپنی سی کوشش ضرور کروں۔ ابلیس المعروف شیطان کے بارے میں تو آپ لوگوں نے ضرور پڑھا ہوگا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا اُس کی زندگی کا جب وہ جنت میں فرشتوں کو تعلیم دیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو بے انتہا نوازشوں سے نواز رکھا تھا، لوح محفوظ تک پہنچنا اور اُسے پڑھنا بھی اللہ ہی کی عنایات میں سے ایک عنایت حاصل تھی ابلیس کو۔ ابلیس نے ایک مرتبہ لوح محفوظ کو کھولا تو اُس میں لکھا ہوا پایا کہ، نہیں کوئی شریک اللہ کا، اللہ ایک ہے محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔ یہ وہ کلمہ ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول کا لفظ استعمال کیا، دنیا میں نبی بھی ہیں اور پیغمبر بھی بہت لیکن رسول اللہ صرف آپ ﷺ کے لیے کہا گیا۔ یہ بات ابلیس کے دماغ میں اٹک گئی کہ ہو نہ ہو یہ کوئی ایسی بہت بڑی ہستی ہے جن کا ذکر آج لوح محفوظ میں لکھا پایا گیا ہے۔ اسی تسلسل میں ایک مرتبہ پھر ابلیس لوح محفوظ تک پہنچا جہاں اُس نے لکھا پایا کہ، میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔ اپنے وقت کا ایک بہت بڑا عالم اب لاجواب ہوچکا تھا۔ اُس کا دماغ اس پہیلی کو سلجھانے سے قاصر تھا، کون ہے شیطان جس سے اللہ کی پناہ مانگی جارہی ہے؟ کون ہے وہ بدبخت؟

اس گُتھی کو سلجھانے کی خاطر ابلیس اللہ کے دربار میں حاضر ہوا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے فرمایا اے پروردگار عالم کون ہے یہ شیطان بدبخت؟ مجھے بتایا جائے میں اُس کو کاٹ کر ساتوں آسمانوں پر عبرت کا نمونہ بنادوں تاکہ تمام ذی روح عبرت حاصل کریں لیکن فرمان الٰہی ہوا کہ ابھی وقت نہیں آیا، جب وقت آئے گا تجھے سب پتہ چل جائے گا۔ وہیں اللہ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنے مبارک ہاتھوں سے شروع کردی۔ پھر اللہ جل جلالہ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اُس میں روح پھونکی اور دنیاوی اور آسمانی تمام علوم سکھائے، جس کے بعد تمام فرشتوں کو سجدہ کا حُکم ہوا تمام فرشتے اطاعت الٰہی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوئے لیکن ابلیس غرور وتکبر میں مبتلا ہوا اور اطاعت الٰہی کا انکاری ہوا اور گویا ہوا کہ میں عزازیل صرف اللہ ہی کو سجدہ کرنے کا پابند ہوں، میں اس خاک کے بنے پتلے کو کیوں سجدہ کروں؟ پس اللہ جل جلالہ کے جلال کا شکار ہوا اور شیطان کا لقب پایا، سر پر خاک ڈال کر آدم ؑکی دشمنی پر تیار ہوا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن شیطان مختلف حیلے بہانوں سے، مختلف بہروپ اپنا کر کسی نہ کسی طرح حضرت انسان کو بہکا کر شیطان بنا دینے کی سر توڑ کوششوں میں لگا ہے۔

انسان بہت عرصہ تک اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے چلے آئے لیکن پھر آخر کار ایسے وقت بھی زمانے نے دیکھے جب حضرت انسان بھی شیطان کے بہکاوے میں آکرسر کشی پر مائل ہوئے وہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کو واپس راہ ہدایت پر لانے کے لیے اپنے پیغمبر اور انبیاء بھیجے جنہوں نے دنیا کے انسانوں کو راہ ہدایت اور ایک اللہ کی عبادت کا اللہ کا پیغام پہنچایا۔ کچھ ہدایت کی جانب مائل ہوئے تو کچھ نے کُفر وشرک کا رستہ اپناکر شیطان مردود کی بیعت کرلی۔ پھر دنیا میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب دنیا میں مکمل اندھیرا چھا گیا، ہر طرف کُفر وشرک کا بول بالاہو گیا، شیطان جنگ جیت گیا، انسان شیطان کا روپ دھار چکے تھے، لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرہے تھے، ایک اللہ کی عبادت کو فراموش کرچکے تھے اور کئی ناموں سے مٹی کے کئی بُت بنا کر اُن کو پوجنے لگے تھے۔ جاہلیت لوگوں کے دل ودماغ کو جکڑ چکی تھی، لیکن میرا رب بڑا غفورالرحیم ہے، میرے اللہ نے ایسے وقت بھی نسل آدم کو تنہا نہ چھوڑا اور اُن کی ہدایت کے لیے دنیا میں رحمت اللعالمین کو بھیج دیا۔ "وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا، مرادیں غریبوں کی بر لا نے والا، وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا۔"

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

خاتم الانبیاء دنیا میں تشریف لے آئے، ادھر دنیا کے بُت کدہ میں آفتاب نبوت کا ظہور ہوتا ہے، اُدھر قیصر فارس وکسریٰ کے محلات میں زلزلہ آتا ہے، فارس کے آتش کدے کی وہ آگ جو ایک ہزار سال سے کبھی نہ سرد ہوئی تھی دفعتاً سرد ہوجاتی ہے اور یہ اعلان تھا اس بات کا کہ کُفر کی تاریکی میں ایمان کا سورج چمک اُٹھا ہے۔ شیطان غضبناک ہوا جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا دینے لگا، وہ سمجھ چکا تھا کہ کُفر وشرک کی اس جاری جنگ میں اب شدت آنے کو ہے، اللہ کے چاہنے والے اب میدان میں آچکے ہیں اس لیے شیطان نے کبھی ابوجہل کا روپ اپنا کر آپ ﷺ کے راستے کی دیوار بننے کی کوشش کی تو کبھی طائف کے لوگوں کے دماغوں پر حاوی ہوکر آپ ﷺ پر سنگباری کروائی لیکن آپ ﷺ نے صبر اور شکر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

آپ ﷺ کا شروع کیا سفر آج چودہ سو سالوں کے بعد بھی اُسی طرح جاری وساری ہے اور شیطان ابلیس کی جنگ بھی اُسی طرح جاری لیکن افسوس آج ہم لوگوں کے دلوں میں ایمان کی چمک کچھ ماند پڑ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم اس دنیا کے اندر شیطانی طاقتوں کے ہاتھوں کچھ بے بس سے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف آپ ﷺ کے اصحاب تھے کہ جو اونٹ اور بکریاں چَرایا کرتے تھے لیکن ایمان کی روشنی جب پڑی تو اُن کی دنیا روشن ہوگئی۔ آج ہم سراپا شیطان بن چکے ہیں لیکن لبادے انسانیت کے اوڑھ کر دنیا کو دھوکے انسانیت ہی کے دیتے نظر آتے ہیں۔ شیطان اچھی طرح جانتا ہے کہ کلمہ محمدی پڑھنے اور ہمیشہ باوضو رہنے والے کے سروں پر نورانیت کا ایک طاقتور ہالہ بن جاتا ہے جس کے بعداُس پر قابو پانا تقریباً ناممکنات میں سے ہوتا ہے اس لیے اُس نے اس طاقتور ہالہ کو کمزور کرنے کی خاطر بڑے جتن کیے۔ گھر گھر ٹی وی پہنچایا، ناچ گانا پہنچایا، عالم اسلام کو بے نام ترقی کی خاطر لبرل ازم کا درس دیا گیا، عالم اسلام کی ایمانی طاقتوں کو مزید کمزور کرنے کی خاطر شیطان اور اُس کے حواریوں نے چند نام نہاد مسلم علماء کا بھیس اپنا کر ایک ایسے دین کا، ایک ایسے نظام کاتصوارتی خاکہ پیش کیا کہ جس پر عملداریوں نے آہستہ آہستہ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا۔

آج ہم اللہ کے نام پر بنائے گئے ملک میں، کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں سود کا کاروبار کھلے عام کرتے ہیں اور وہ بھی مسلم کمرشل بینک کے نام پر۔ ہمارا تمام نظام سودی لین دین پر قائم ہے پھر بھی ہم شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، بھوک وفلاس کا، تباہی وبربادی کا، ظلم جبر وزیادتی کا کیوں؟؟ یہ تمام تباہی تو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے مقدر کی ہے، پھر شکوہ کیسا، شکایات کیسی؟ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، ماضی کے جھروکوں میں ذرہ نگاہ تو دوڑائیں، دیکھیں اور سبق حاصل کریں کہ جب تک عالم اسلام نے اسلامی نظام حکومت کو اپنائے رکھا دنیا پر راج کرتے نظر آئے، جیسے ہی ہم نے شیطانی ٹولہ کا نظام یعنی سیکیولرمعاشرہ کے نام پر سیکیولر ازم نظام حکومت، کمیونزم اور مارکس ازم اپنائے ہماری دنیا نے اور خاص کر عالم اسلام نے تباہی وبربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ ہم جیسے ہی اپنے مرکز سے ہٹے بکھرتے چلے گئے اور آج تک بکھرتے ہی چلے جارہے ہیں اصل میں ہم لوگ اندر سے بے ایمان ہو چکے ہیں، ہم لوگ نماز بھی پڑھنا چاہتے ہیں، روزہ بھی رکھنا چاہتے ہیں لیکن زکوٰۃ نہیں دینا چاہتے، ہم لوگ صرف پٹاخے کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ شب برات پٹاخے پھوڑ کر ہم اپنے دلوں کو یقین دلواتے نظر آتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ ہم لوگ صرف تقریروں کے مسلمان ہیں، ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں اگر نہیں تو بتائیں مجھے کوئی ایک خوبی اصحاب رسول والی، کوئی ایک طریقہ، کوئی ایک چلن؟ کہاں آپ ﷺ کے اصحاب اور کہاں ہم نفس کے پجاری اور جن کے نفس پر شیطان مردود پوری طرح حاوی ہو چکا ہے؟ شیطان نے سب سے پہلے ان کو اپنے شکنجے میں کسا، اپنا بے دام غلام بنا لیا اور پھر آہستہ آہستہ ان کے لیے تباہی کے در کھولتا چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کی آواز - انیلہ افضال

آج آپ دیکھ لیں، نگاہ دوڑائیں مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب عالم اسلام آپ کو روتا، سسکتا اور جلتا ہوعا نظر آئے گا، میں دیکھ رہا ہوں کہ آج عالم اسلام جل رہا ہے، آج عالم اسلام کو چار اطراف سے شیطانی افواج نے گھیرے میں لے رکھا ہے، ہر طرف سے معصوم بے گناہ انسانوں کی آہ وبکا اور چیخ وپکار کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، عالم اسلام کے تمام شہر ایک ایک کرکے ویرانوں میں تبدیل کیے جارہے ہیں، اسکولوں، مسجدوں اور ہسپتالوں تک پر خوفناک بمباری کی جارہی ہے، دنیا کے تمام شر پسند شیطان مسلم ممالک میں اکٹھے کردیے گئے ہیں تباہی وبربادی کی داستانیں رقم کرنے کے لیے، فلسطین کی آزادی سلب کرلی گئی اور وہ دن دور نہیں جب عالمی استعمار بیت المقدس پر قبضہ کرلینے کے بعد یہودیوں کے ساتھ مل کر عرب دنیا میں خون کی ہولی کھیلیں گے۔ طاقتور ترین لیبیا برباد کردیا گیا، کرنل قذافی اپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے اب کہیں داستانوں ہی میں نظر آئیں گے۔ عراق کے صدام حسین اپنی عرب دنیا کی سب سے بڑی آرمی ہونے کے باوجودامریکی تختۂ دار پر جھولتے نظر آئے۔ شام جو اسلامی سلطنتوں میں نمایاں مقام رکھتا تھا آج تباہی وبربادی کی لازوال کہانیاں پیش کرتا نظر آرہا ہے، جہاں ایک طرف نام نہاد اسلامی لشکر کے جلّاد اپنے ہاتھوں میں پکڑی تلواروں سے معصوم بے گناہ مسلمانوں اور اُن کے بچوں کے سر قلم کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں شیطان کے یہ نمائندے، یہ دجّال کے خارجی کارندے مسلمان بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں لوٹ کر اُنہیں شہید کرنے کے بعداُن کے جسد خاکیوں کو بھی پامال کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف تمام شیطانی ممالک ان خوفناک شیطانی درندوں جو کہ اسلامی لبادے میں ملبوس ہوکر مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام کررہے ہوتے ہیں ان دجالی کُتوں کو ختم کردینے کے بجائے ان کے بہانے مسلمانوں کی رہائشی آبادیوں پر بمباری کرتے نظر آرہے ہیں۔ بچوں کے اسکولوں پر بم گرائے جاتے ہیں، ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ خوفناک اور وحشیانہ طرز عمل ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جُرم ہے جس پر تاحال پوری دنیا بشمول دنیا میں اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم بھی مجرمانہ خاموشی کی چادر اپنے اوپر اوڑھے خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

میں کیسے مان لوں کہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل دنیا کے وہ ممالک جو اپنی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت زمین کے اندر چھپے خزانے ڈھونڈ لینے کی صلاحیتوں سے مالامال ہوں، جو دنیا کی تمام افواج پر نظر رکھنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہوں کیسے بچوں کے اسکولوں، ہسپتالوں، سول آبادیوں اور دہشت گردوں کے گروہوں میں تفریق نہ کر پاتے ہوں گے؟ انہیں سب معلوم ہے یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دجالی کُتوں کے دہشت گردوں کی پوزیشنیں کیا ہیں؟ اسی لیے جانتے بوجھتے سول آبادیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ صاف الفاظ میں کہوں گا کہ یہ سب مل کر مسلمانوں کا، اللہ کے چاہنے والوں کا قتل عام کررہے ہیں ان سب شیطان کے نمائندوں نے مل کر عالم اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے، یہ سب شیطان مردود کے ہر اول دستے کے وہ سالار ہیں جوکہیں یہودیوں کا بہروپ بدل کر بے گناہ مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے ہیں تو کہیں برمی بدھوں کا لبادہ اوڑھ کر نبی ﷺ کے چاہنے والوں پر انسانیت سوز تشدد کرتے نظر آتے ہیں، تو کبھی ہندو بنیے کا روپ دھار کر شیطان ابلیس مسلمانوں کی گردنیں کاٹتا نظر آتا ہے۔ یہود وہنود انصاریٰ کا یہ کھیل ہر اُس جگہ کھیلا جارہا ہے جہاں مسلمانوں کی آبادیاں موجود ہیں پوری دنیا میں ہر طرف یہی کھیل کھیلا جارہا ہے، عرب ہو ں کہ عجم، فلسطینی، شامی، عراقی ہوں کہ کشمیری، برمی، افغانی ہر ایک جگہ ابلیسیوں نے اپنے خونی پنجے گاڑ ھ لیے ہیں، ہر ایک جگہ ابلیس کا خونی کھیل پورے زور وشور سے جاری ہے، اور اسی طرح جاری رہے گا، پاکستان ان تمام دجالی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، پاکستان کو گھیرنے کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں،دھمکیاں دی جارہی ہیں، شیطان ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں، ہمیں یک جان، یک قوم ہو کر سوچنا ہوگا، تیاری کرنی ہوگی، ہمیں اپنے مرکز کی جانب لوٹنا ہوگا۔ خود کو بدلنا ہوگا،اپنا نظام حیات بدلنا ہوگا، اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی اللہ سے مانگ کر اللہ سے رجوع کرنا ہوگا، تاکہ اللہ ہمارے معاملات بہتر کرسکے۔