شوہروں کے لیے اسوہ نبی کریم ﷺ - نوید احمد

"عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہیں"، اس مقولے کو کئی بار سنا، علماء حضرات سے بھی اس کے فضائل سنے اور دنیا داروں، مادّہ پرستوں سے بھی۔ دونوں حد اعتدال سے دُور پائے گئے۔ علماء حضرات سے گلہ صرف اتنا ہے کہ وہ یہ تو بتاتے ہیں کہ اسلام میں عورت اور مرد کے دائرہ کار میں فرق کتنا ہے لیکن وہ مرد کی اس ذمہ داری کا تذکرہ نہیں کرتے جو اسے بحیثیت گھر کے سربراہ کے طور پر ادا کرنی چاہیے اور یہ ذمہ داری وہ ہے جو اگر وہ ادا کرے تو گھر کے ماحول کو مزید خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ مادّہ پرستوں اور دنیا داروں سے گلہ یہ ہے کہ وہ عورت کو مرد کے ساتھ ہر سطح کی برابری دینے پر بضد ہیں باوجود اس کے کہ وہ جانتے ہیں کہ مرد، مرد ہی ہوا کرتا ہے اور عورت اگر لاکھ بھی چاہے تو مرد نہیں بن سکتی۔ ان سے دوسرا گلہ یہ ہے کہ یہ عورت کو گھر کی معاشی حالت سدھارنے کے نام پر گھر سے باہر کام کاج کرنے کے لیے نکالتے ہیں لیکن پھر واپسی کے سارے دروازے بند کروا دیتے ہیں۔ وہ بیچاری کام کاج کرتے کرتے، بچوں کا مستقبل سنوارتے سنوارتے چکی کے دو پاٹوں میں پستی ہوئے زندگی گزارتی ہے، وہ چاہے بھی تو گھر اور باہر کی مصروفیات میں توازن نہیں قائم رکھ سکتی۔

حقیقت پسندی سے سارے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو عورت کی بہترین پناہ گاہ اس کا گھر ہے وہ گھر کی ملکہ ہے اور شوہر اس گھر کا مالک۔ مالک اگر ملکہ کو خوش رکھے گا، اس کے آرام و سکون کا خیال رکھے گا، اس کی جائز ضروریات کو پورا کرے گا تو یہ ملکہ گھر کو جنت بنا دے گی لیکن اگر اسی ملکہ کو گھر کے ساتھ گھر سے باہر کی ذمہ داریاں بھی ڈال دی جائیں اور اس کے جذبات، احساسات کو کچلا جائے اور اس کی عزت دولت کے بل بوتے پر کی جانے لگے تو یہ ملکہ گھر کو کبھی جنت نہیں بنا پائے گی۔ یہ اچھی ورکر تو بن سکتی ہے اچھی معلّمہ نہیں۔ عورت کے ذمے گھر داری ہی نہیں نسلوں کی تعمیر بھی ہے۔ کیا سارا دن معاش کے پیچھے بھاگنے والی عورت اولاد کی تربیت کا حق ادا کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ مادّیت پرستی کے اس دور میں اگر عورت اور مرد کو کسی چھتری تلے سکون مل سکتا ہے تو وہ دین اسلام کی تعلیمات ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اسوہ۔ آئیے اس چشمہ صافی سے چند گھونٹ پی کر دل کی دنیا کو سیراب کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سردار تو تھے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ گھر والوں اور خصوصاً بیویوں کے ساتھ بھی شفقت والا معاملہ فرماتے تھے چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا آپ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے ہی انسان تھے جیسے دوسرے انسان ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے کی جوئیں خود ہی دیکھتے تھے، اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے تھے اور اپنی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرلیتے تھے۔ "۔ آج کے شوہروں کو سوچنا چاہیے کہ اگر سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں؟ مردوں کی ایسی مردانگی پر تف ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو سنت پر عمل کرنے پر شرمندگی محسوس ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط 1)

آج کا مرد بیوی سے تو توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے لیے بنے سنورے اور یہ اس کا حق بھی ہے لیکن اس کے برعکس وہ بیوی کے لیے خود کو بننے سنورنے پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کہتے ہیں: میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بن سنور کر رہوں جس طرح وہ میرے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے۔"

بیویوں کا ایک شکوہ بجا ہے کہ ان کے مرد اُن پر اسی طرح حکم لگاتے ہیں جیسے دفتر میں باس۔ آپ حکم ضرور کریں لیکن پیار و محبت کے ساتھ۔ جیون ساتھی سمجھتے ہوئے ، نہ کہ خود کو باس سمجھ کر۔ پیار کے دو بول بول دیں تو کوئی حرج تو نہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو دیکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: اے عائش! یہ جبریل علیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں (عائش عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے کہا)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں: "عید کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا جبکہ حبشی مسجد میں اپنے نیزوں سے کھیل رہے تھے اور فرمایا: اے حمیرا کیا تم انہیں دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں" (حمیرا کا مطلب ہےگوری چٹی سرخی مائل رنگت والی)۔

جن گھروں میں ہر وقت لڑائی جھگڑا ہو، بات بات پر تلخ کلامی ہو۔ ان میں اولاد کی اچھی تربیت ممکن نہیں۔ گھر میں سکون و اطمینان قائم رکھنے کے لیے صبر و تحمل انتہائی ضروری ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی۔ " (صحیح مسلم)

بیویاں نازک آبگینے ہیں ان کی دلجوئی کرنا اور آنسو پونچھنا بھی سنت نبویؐ ہے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج مطہرات کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، ابھی راستے ہی میں تھے کہ ایک آدمی اتر کر ازواج مطہرات کی سواریوں کو تیزی سے ہانکنے لگا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان آبگینوں (عورتوں) کو آہستہ ہی لے کر چلو۔ دوران سفر سیدہ صفیہ کا اونٹ بدک گیا، ان کی سواری سب سے عمدہ اور خوبصورت تھی۔ وہ رونے لگیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے ان کے آنسو پونچھنے لگے اور انہیں چپ کروانے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

بیویاں زبان کی تیز بھی ہوا کرتی ہیں لیکن ان کی تیزی کو بھی حکمت کے ساتھ نرمی میں بدلہ جا سکتا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے؟ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں۔

بیوی ضروری نہیں ہمیشہ اچھا کھانا ہی بنائے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکا لا اگرکو ئی چیز آپ ﷺ کو پسند آتی تو آپ ﷺ اس کو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہو تی تو اسے چھوڑ دیتے۔

بیوی بھی عام انسانوں کی طرح ہے وہ بھی اپنی تعریف سن کر خوش ہوتی ہے۔ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں کو شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالٰی کا بھی شکر گزار نہیں۔ بیوی بھی تربیت کی اتنی ہی محتاج ہے جتنی اولاد۔ اگر بیوی سستی کا مظاہرہ کرے تو شوہر کا فرض ہے کہ حکمت کے ساتھ اس کو توجہ دلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” رحم فرمائے اللہ تعالیٰ اس بندے پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ "

ان تمام احادیث سے شوہر کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ ہمارے اسلامی معاشروں میں کہیں گم ہو گئی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دل کی یکسوئی کے ساتھ، اپنی ذمہ داری اور آخرت میں جوابدہی کے احساس کے ساتھ اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کیا تھا اور ہمارا کیا ہے۔ یہ احساس اگر پیدا ہو جائے تو اس جیسی تصویر نہ سہی اس سے ملتی جلتی تصویر تو دوبارہ بن ہی سکتی ہے۔ اللہ مجھے اور آپ سب پڑھنے والوں کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔