فلسطین تاریخ کے آئینے میں تاریخ وار - انعام حسن مقدم

یروشلم وہ شہر ہے جو اپنی تاریخ میں 16 مرتبہ ، کبھی طویل، کبھی مختصر، جنگی معرکوں سے گزر چکا ہے۔ ان جنگی معرکوں کے دوران وہ دو مرتبہ مکمل تباہی، 23 مرتبہ فوجی محاصروں، 52 حملوں اور 44 مرتبہ قبضوں اور قبضوں سے آزادی کے مراحل سے گزرا ہے۔

شہرِ قدیم (old city) یا یروشلم شہر کی پرانی دیوار کا احاطہ تقریباً 0.9 مربع کلومیٹر یا 0.35 مربع میل بیان کیا جاتا ہے۔ مصر سے آثارِ قدیمہ کی کُھدائی کے دوران ملنے والی بعض الواح میں دشمنوں کے ذیل میں پڑوسی ریاست Rusalimum کا ذکر بھی ملتا ہے ہر چند کہ Rusalimum کی بطور یروشلم شناخت میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ یہ لفظ عربی، عبرانی اور دیگر زبانوں کے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور کنعانی دور حکومت و مذہب (2,500 تا 1,500 قبلِ مسیح) میں ان خطوں کے لیے بولا جاتا تھا جو آج کل اسرائیل، فلسطین، لبنان، اردن اور شام کے علاقوں پر مشتمل ہے۔

توریت کے قدیمی نسخوں (Book of Genesis) کے مطابق (1850 قبلِ مسیح) قربانئِ حضرت اسحٰق علیہ السلام کا واقعہ بھی یروشلم کے پہاڑ پر پیش آیا جبکہ اس واقعہ کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ عرب میں مکہ کے قریب پیش آیا۔ اس طرح یہ اختلافی معاملہ بن جاتا ہے۔

پہلی صدی عیسوی کے رومانو جیوش اسکالر ٹائی ٹس فلاویس جوزیفس (Titus Flavius Josephus) نے تیسری صدی قبلِ مسیح کے مصری مذہبی رہنما Manetho کے حوالے سے لکھا ہے کہ مصری حکمران ہیکاسوس (Hyksos) نے 1650 قبلِ مسیح میں کسی وقت یروشلم پر حملہ کیا تھا۔

جدید فراعین کے عہد میں مصر کی سلطنت کے اتحاد اور توسیع کے باعث 1400 قبلِ مسیح کے بعد سے یروشلم کی حیثیت مصر کی جاگیر کی رہی۔

1178 قبلِ مسیح میں فرعونِ مصر رعمیسس سوم (Ramesses III) اور سمندری لوگوں (Sea Peoples) کے درمیان ہونے والی جنگِ دیجاہی (Battle of Djahy) کے نتیجے میں جدید فراعین کی حکومت بحیرۂِ روم کے مشرقی حصہ بشمول یروشلم میں کمزور ہونے کا آغاز شروع ہوا۔ "دیجاہی" کنعان و شام کے دریائی کناروں کا ما قبلِ تاریخ مصری نام ہے۔

عبرانی بائبل کے مطابق 1000 قبل مسیح میں کنعانیوں کے ہی ایک قبیلہ یبوسی (Jebosites) نے شہر پر قبضہ کر کے شہر کی ازسرِ نو تعمیر کی۔ دسویں صدی قبلِ مسیح کے دوسرے اور تیسرے عشرے کے دوران ہی میں حضرت داؤد علیہ السلام نے یبوسی قبیلہ کو شکست دے کر یروشلم پر فتح حاصل کی اور یروشلم کو اپنی عظیم سلطنت کا دارالحکومت بنایا۔ اِس طرح یہ شہر تاریخ میں شہرِ داؤد (City of David) کہلایا اور یہیں سے متحدہ اسرائیلی بادشاہت و ریاست (United Kingdom of Israel) کا آغاز ہوا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے 962 یا 957 قبلِ مسیح میں معبدِ سلیمان یا گنبدِ سلیمان (Solomon's Temple or First Temple) تعمیر کیا لیکن بخت نصر نے 587 قبلِ مسیح میں اِس کو منہدم کردیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے انتقال (931 یا 930 قبلِ مسیح) کے بعد یہ سلطنت پھر اسرائیل، دارالحکومت سامرہ (Samariah) اور یہودیہ (Judah) دارالحکومت یروشلم میں تقسیم ہوگئی اور پھر اگلی دو صدیوں تک یہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑتی رہیں۔

یہ شہر 922 قبل مسیح میں فرعونِ مصر شوشینک المعروف شی شو نیک یا شی شو نیک اوّل (Shoshenq I or known as Sheshonk or Sheshonq I) نے اور پھر نویں صدی قبلِ مسیح کے وسط میں فلسطینیوں اور عربوں نے کئی مرتبہ لوٹا۔

بادشاہ امازیہ (Amaziah) کے دورِ حکومت 797 تا 767 قبلِ مسیح میں اسرائیل کے بادشاہ یہوعاش (Jehoash) نے یروشلم پر چڑھائی کی اور یہودیہ ریاست کو شکست دی۔

عمازیہ (Amaziah) کے بیٹے عزاریا (Azariah (Uzziah نے 767 قبلِ مسیح سے لے کر 760 قبلِ مسیح تک یہودیہ پر حکمرانی کی۔

اشوریوں کے بادشاہ ہوشیاہ (Hoshea) کے دورِ حکومت میں اشوری بادشاہ شلمانسر (Shalmaneser) کے بیٹے سارغون دوم (Sargon II) نے اسرائیل کے دارالحکومت سامرہ پر قبضہ کرکے اس سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور قریباً 27,290 بنی اسرائیلیوں کو اسیرِجنگ بنا کر سامریہ سے گوزان ( Gozan)، حاران (Harran)، میڈیا (Media)، حولہ (Hullah)، اور نینوا (Ninevah) میں جا بسایا۔ اُس وقت یہودیہ پر بادشاہ احاذ (Ahaz) 732 تا 716 قبلِ مسیح کی حکومت تھی۔

یہودیہ پر بادشاہ احاذ ( Ahaz) کے بعداس کے بیٹے حزقیاہ (Hezekiah) نے قریباً پچاس سال حکومت کی۔ اُس کا دورِ حکومت اسرائیلی مذہب کے لیے تاریک زمانہ ثابت ہوا اور اس نے بڑے پیمانے پر تباہی و بر بادی پھیلائی۔

یہودیہ کی تاریخ نے ایک اور کروٹ لی اور عمون (Amon) کا بیٹا یوسیاہ (Josiah) 640 قبلِ مسیح میں یہاں کا بادشاہ بنا۔ یوسیاہ 609 قبلِ مسیح میں فرعونِ مصر نیخو (Necho) کے ساتھ جنگ کے دوران ہی موت کی آغوش میں چلا گیا۔

یہودیہ کے مشرق کی جانب اسی دوران بابلیوں نے اشوری سلطنت کے دارالحکومت نینوا پر قبضہ کرلیا۔ 612 قبلِ مسیح میں بابلیوں نے اشوریوں سے یروشلم کی حکمرانی بھی چھین لی۔ انھوں نے یروشلم کو تاخت و تاراج کیا اور اس کے بادشاہ کو بابل لے گئے۔

بابل کے بادشاہ بخت نضردوم (Nebuchadnezzer II) المعروف بخت نصر نے 597 قبلِ مسیح میں یروشلم پر قبضہ کرلیا۔ یروشلم کا تمام خزانہ لوٹ لیا گیا اور صدیقیاہ (Zedekiah) کو یروشلم کا بادشاہ نامزد کردیا۔ نامزد بادشاہ نے دس سال بعد بخت نصر کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔ بخت نصر نے ایک سال سے زائد عرصہ تک شہر کا محاصرہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ قحط نے شہر کو ویران کردیا۔ شہر اور ہیکل میں لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گئی۔ یروشلم کی فصیل کو گرادیا گیا۔ غالب امکان یہ ہے کہ تابوتِ سکینہ کو بھی اسی دوران میں غائب کردیا گیا۔

ایرانی بادشاہ خورس یا کوروش (Cyrus) نے 538 قبلِ مسیح میں بابلی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اُس نے یہودیوں کو یروشلم واپس جانے اور خدا وند کا گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ یہودیہ کے شہزادے شش بضر (Sheshbazzar) کی سربراہی میں چالیس ہزار سے زیادہ لوگ واپس آئے اور ہیکل سلیمانی کی بنیادیں رکھی گئیں لیکن سامریوں اور دیگر کی مخالفت کی وجہ سے عمارت کی تعمیر میں 20 سال لگے۔ 516 قبلِ مسیح میں معبد کی عمارت مکمل ہوئی اور 515 قبلِ مسیح میں یروشلم کو خود مختاری کا درجہ دے کر اسے سلطنت یہودیہ کا دارالحکومت بنادیا گیا۔

نحیمیاہ نبی نے 444 قبلِ مسیح میں شہر کی قلعہ بندیوں اور فصیل کی تعمیر کی۔ نئی تعمیر کردہ دیوار کو انھی بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا اور اس کا ڈھانچا بھی وہی تھا جو بخت نصر نے گرا دیا تھا۔

یروشلم کی آئندہ سوسال کی تاریخ کی ایک معمولی سی جھلک ایلیفنٹائن پیپائرس میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہم بالائی مصرکی ایک یہودی کمیونٹی کے متعلق پڑھتے ہیں کہ انھوں نے یہودیہ کے گورنر بگوہی ( Bagohi) کے دربار میں درخواست دائر کی کہ انھیں مصر میں یہوواہ (Yahweh) کے ہیکل کی تعمیر نو کی اجازت دی جائے۔ ایک اور دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درخواست علاقے کے ایرانی گورنر کو پیش کی گئی تھی اور اِسے قبول بھی کر لیاگیا تھا۔ یہ دستاویزات 417 تا 411 قبلِ مسیح کے دوران کی معلوم ہوتی ہیں۔

350 قبلِ مسیح کے قریب، کچھ مبہم حوالے ظاہر کرتے ہیں کہ ارطاخرخس سوم اوخوس (Artaxerxes III Ochus) نے یروشلم تباہ کر دیا تھا یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کو غلام بنا لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یومِ امن اور کشمیر و فلسطین - ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

قدیمی ایران کے زوال پذیر ہونے میں اسکندر کی فتوحات (333 تا 323 قبلِ مسیح) کا بہت عمل دخل ہے۔ مصر کے بطلیموسوں اور انطاکیہ کے سِلوسیوں (Seleucids) میں گِھر کر فلسطین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ 321 قبلِ مسیح میں بطلیموس سوتر (Ptolemy Soter) نے فلسطین پر حملہ کیا اور یروشلم پر قبضہ کر لیا۔

انطیوکسِ اعظم سوم نے 198 قبلِ مسیح میں بطلیموس پنجم کو شکست دی جس کے نتیجے میں فلسطین پر سلوسیوں کا قبضہ ہو گیا۔

انطیوکس سوم کو 190 قبلِ مسیح میں رومیوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی۔ جو اُس کے بیٹے انطیوکس چہارم کو یرغمال بنا کر روم لے گئے لیکن انطیوکس چہارم کو 185 قبلِ مسیح میں دیمیتریس (Demetrius) کے بدلے میں رہا کر دیا گیا اور اُسے شام کے تخت پر قابض ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ انطیوکس چہارم نے جلدی ہی ایک بڑی فوج کے ساتھ یروشلم پر قبضہ کر کے لوگوں کا قتلِ عام کیا، شہر کو لوٹنے کے بعد نذرِ آتش، فصیلِ شہر اور آبادیوں کو مسمار، عورتوں اور بچوں کو فروخت اور عظیم ہیکل کو نیست ونابود کر دیا۔

مکابی یا حسمونی بغاوت (Maccabean Revolt) کا آغاز 167 قبلِ مسیح میں مودِن شہر کے ایک یہودی پیشوا متاتیاس (Mattathias) کے انطیوکس کی عائدکردہ پابندیوں کو
ماننے سے انکار سے شروع ہوا اور وہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر لُد (Lydda) کی بیرونی پہاڑیوں کی طرف فرار ہو گیا اور علم بغاوت بلند کردیا۔ 165 قبلِ مسیح میں متاتیاس (Mattathias) انتقال کر گیا اور اُس کے بعداُس کے بیٹوں نے بغاوت جاری رکھی۔ یہودہ مکابی اور اس کے بھائیوں نے یروشلم کو شامیوں کے قبضے سے واگزار کرایا۔ ازسرنو تعمیر کی اور ہیکل کو بحال کیا۔

اگلے چار سال تک مستقل جنگیں ہوتی رہیں اور 161 قبلِ مسیح میں یہودہ مارا گیا۔

152 قبلِ مسیح تک اس علاقے پر عملاً یہودہ کے بھائی جوناتھن (Jonathan) کی حکمرانی تھی۔ اس نے شہر کی مرمت کی، ہیکل کی قلعہ بندیوں کو بحال کیا، فصیلِ شہر کو مزید بلند کیا، مشرقی فصیل کا ایک وسیع حصہ تعمیر کیا اور شامی دستوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے عکرہ (Akra) اور شہر کے درمیان ایک بڑا ٹیلہ بھی تعمیر کرایا۔

یروشلم کی ریاست کو قدیم ترین نقشوں مثلاً مصری سلطنت (1500 قبلِ مسیح)، بحیرۂِ روم کا مشرقی حصہ (830 قبلِ مسیح)، جدید اسیرین سلطنت یا Neo-Assyrian Empire (617 قبلِ مسیح) اور Achaemenid سلطنت (550 تا 330 قبلِ مسیح) کے نقشوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

ابتدائے اسلام سے لیکر ہجرت کے دوسرے سال تک مسلمان مسجدِ اقصٰی (بیت المقدس / یروشلم / جیروشلم / فلسطین) کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے تھے اِسی لیے مسجدِ اقصٰی کو قبلۂِ اوّل بھی کہا جاتا ہے۔ ہجرت کے دوسرے سال تحویلِ قبلہ (تبدیلئِ قبلہ) کی آیات (حکم) نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے بیت الله (خانۂِ کعبہ) کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی۔

خلافتِ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنهُ کے دور میں عیسائیوں سے ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ یہ قبضہ پرامن طریقہ سے عمل میں آیا۔ خلیفہ عبد الملک کے عہد میں یہاں مسجد اقصٰی کی تعمیر عمل میں آئی اور صخرۂ معراج پر قبۃ الصخرہ بنایا گیا۔ مسجد اقصٰی کا بانی حضرت یعقوب علیہ السلام کو مانا جاتا ہے۔ اس کی تجدید حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی دوبارہ تعمیر شروع کروائی جب کہ خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تکمیل و تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس کی مرمت کروائی۔

تقریباً 463 سال تک عربی زبان اور اسلامی دور کے باوجود یہودی و عیسائی ایک اقلیت کی حیثیت سے سُکون و امن کے ساتھ موجود رہے۔

1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اور مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کر کے محراب و مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔

بیت المقدس (قبلۂِ اوّل اور دیگر مقاماتِ مقدسہ) پر تقریباً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا اور اِس خطے کی 7 ہزار سالہ تاریخ میں اس دور کو حقائق اور شواہد کی روشنی میں یقیناً سب سے زیادہ پر سُکون، پُر امن اور خوشحالی والا دور کہا جا سکتا ہے۔

تاہم پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران عثمانیوں کی شکست کے بعد برطانیہ نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی لیکن مقاماتِ مقدسہ مسلمانوں کی عملداری میں ہی رہے اور "اعلان بالفور" کے ذریعہ یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا۔ اِس اعلان کے ساتھ ہی فلسطین کی جانب یہودیوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی۔

1920ء، 1921ء، 1929ء اور 1936ء میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کی نقل مکانی اور اِس علاقے میں آمد کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔

"اعلانِ بالفور" کے الفاظ کے مطابق بھی غیر یہودیوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی جس پر تاحال اسرائیل عمل پیرا نہیں ہے۔ اعلان بالفور کے الفاظ یہ ہیں:

"شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لائے گی مگر اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی (مسلمان اور عیسائی) کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔"

15 مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے لیے ایک نئی کمیٹی بنائی۔

3 ستمبر1947ء کو اس کمیٹی نے رپورٹ پیش کی کہ برطانوی انخلا کے بعد اس جگہ ایک یہودی اور ایک عرب ریاست کے ساتھ ساتھ یروشلم کے شہر کو الگ الگ کر دیا جائے۔ یروشلم کو بین الاقوامی نگرانی میں رکھا جائے گا۔

29 نومبر 1947ء کو جنرل اسمبلی نے اس بارے میں قرار دار منظور کی۔

نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یروشلم اور فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا۔

برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ء میں اپنی افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست بھی قائم کر دی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ عربوں نے تقسیم کو نامنظور کر دیا اور مصر، اردن، شام، لبنان، عراق اور سعودی عرب نے نئی اسرائیلی ریاست پر حملہ کر دیا، اِس جنگ میں عرب ممالک کی شکست کی وجہ سے یہودی ریاست کے رقبے میں اور اضافہ ہو گیا اور اسرائیلی فوجیں فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئیں۔

11 مئی 1949ء کو اقوام متحدہ میں اکثریتی رائے سے اسرائیل کو آزاد ملک اور اقوامِ متحدہ (UNO) کا رکن تسلیم کر لیا گیا۔

1949ء میں اسرائیل نے عربوں کے ساتھ سفارت کاری و معاہدات کے ذریعے الگ الگ تعلقات استوار کرنے شروع کیے۔ جس کے بعد اردن نے غرب اردن کے علاقے پر اور مصر نے غزہ کی پٹی پر عملداری تو قائم کرلی لیکن ان دونوں عرب ممالک نے فلسطینیوں کو آزادی سے محروم رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یومِ امن اور کشمیر و فلسطین - ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

29 اکتوبر 1958ء کو اسرائیل نے صحرائے سینا پر حملہ کر کے اسے مصر سے چھین لیا۔

6 نومبر کو جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں عرب اسرائیل معاہدہ ہوا جو 19مئی 1967ء تک قائم رہا۔

1964ء سے عرب ممالک اس خدشے کے پیش نظر کہ اسرائیل دریائے اردن کا رخ موڑ کر انہیں پانی سے محروم کر دے گا، خود اس دریا کا رخ موڑنے پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل، شام اور لبنان کے درمیان مسائل بڑھ رہے ہیں۔

1964ء میں ہی بننے والی پی ایل او (PLO) نے ابتداء میں خود کو "مادر وطن کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد" کے لیے وقف کر دیا تھا۔

1960ء کے عشرے کے اواخر اور 1970ء کے عشرے کے اوائل میں فلسطینی گروہوں نے اسرائیل اور دنیا بھر میں یہودی مقامات اور افراد کو نشانہ بنائے رکھا جس میں 1972ء کے میونخ اولمپکس میں اسرائیلی کھلاڑیوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔ جواب میں اسرائیل نے اس قتل عام کے منصوبہ بندوں کے خلاف قتل کی مہم شروع کی اور لبنان میں پی ایل او کے صدر دفتر پر بھی بمباری کی۔

تیسری عرب اسرائیل جنگ 5 جون 1967ء کو شروع ہوئی جس میں اسرائیلیوں نے غزہ (فلسطین) اور جزیرہ نمائے سینا کے 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشرقی یروشلم کا علاقہ، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور غرب اردن کا علاقہ بھی اپنے قبضہ میں کر لیا۔ 10 جون کو اقوام متحدہ نے جنگ بندی کرا دی اور معاہدے پر دستخط ہو گئے۔

21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصٰی 3 گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔

6 اکتوبر 1973ء کو یہودیوں کے مقدس دن "یوم کپور" کے موقع پر مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں شامیوں کو شکست دی اور مصر پر حملہ کردیا۔

24 اکتوبر 1973ء کو جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی امن فوج نے چارج سنبھال لیا۔

18 جنوری 1974ء کو اسرائیل نہر سویز کے مغربی کنارے سے واپس چلا گیا۔

نومبر 1977ء میں مصری صدر انورالسادات نے اسرائیل کا دورہ کیا۔

11 مارچ 1978ء کو پی ایل او (PLO) کے گوریلوں نے لبنان سے حملہ کر کے 38 اسرائیلی شہریوں کو قتل کیا۔

26 مارچ 1979ء کو مصر اور اسرائیل نے امن معاہدے پر دستخط کر کے 30 سالہ جنگ کا خاتمہ کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔

جولائی 1980ء میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیدیا جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی فیصلہ ہے اور غربی کنارے پر یہودیوں کی آبادکاری کو بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

1981ء میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا اگرچہ بین الاقوامی طور پر اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

7 جون 1981ء کو اسرائیلی جیٹ جہازوں نے بغداد کے قریب عراق کا ایک ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا۔

6 جون 1982ء کو اسرائیلی فوج نے پی ایل او (PLO) کی مرکزیت کو تباہ کرنے کے لیے لبنان پر حملہ کر دیا۔

16 ستمبر 1982ء لبنان کے عیسائی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے دو مہاجر کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔

1982ء میں اسرائیل نے مصر کو صحرائے سینا کا علاقہ واپس کر دیا۔

فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ہونے والا پہلا انتفادہ 1987ء میں شروع ہوا اور غربی کنارے اور غزہ میں مظاہرے اور تشدد پھوٹ پڑے۔ اگلے چھ سال تک انتفادہ زیادہ مربوط ہوتا گیا اور اس کا نشانہ اسرائیلی معیشت اور ثقافت تھیں۔

اسرائیل نے 1988ء میں جنوبی لبنان میں کارروائی کی۔

1989ء میں انتفادہ کے زیر اہتمام فلسطینی حریت پسندوں نے زبردست عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔

کویت کے بحران کے دوران میں اسرائیلی محافظین نے مسجد اقصٰی میں احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی جس سے 20 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔

1991ء کے آغاز میں جنگ خلیج کے دوران عراق نے اسرائیل کو کئی اِسکڈ میزائلوں کا نشانہ بنایا۔

1992ء میں یتزاک رابن وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم کا اہم پہلو اسرائیل کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی بہتری تھی۔ اگلے سال اسرائیل کی جانب سے شمعون پیریز اور پی ایل او (PLO) کی طرف سے محمود عباس نے معاہدہ اوسلو پر دستخط کئے جس کے مطابق فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو مغربی کنارے اور غزہ کی پیٹی کے انتظامی اختیارات دیے گئے۔ پی ایل او (PLO) نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا اور دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق کیا۔

1994ء میں اسرائیل اور اردن کے درمیان میں امن معاہدہ ہوا جس سے اردن اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا ملک بن گیا۔

1990ء کے عشرے کے اخیر میں اسرائیل بنجامن نیتن یاہو کی زیر قیادت ہیبرون سے نکل گیا اور معاہدے کے تحت فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو مزید اختیارات دے دیے۔

1999ء میں ایہود باراک کو وزیرِ اعظم چنا گیا اور نئے ملینیم کے آغاز پر اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے نکل گئیں اور فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین یاسر عرفات اور ایہود باراک کے درمیان میں امریکی صدر بل کلنٹن کے کیمپ ڈیوڈ میں باہمی مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں ایہود باراک نے فلسطینی ریاست کے قیام کی پیشکش کی جسے یاسر عرفات نے ٹھکرا دیا۔

2001ء کے خصوصی انتخابات کے بعد شیرون وزیر اعظم بنے اور انہوں نے غزہ کی پٹی سے یک طرفہ انخلا مکمل کیا اور اسرائیلی مغربی کنارے کی رکاوٹوں کی تعمیرات جاری رکھیں اور دوسرے انتفادہ کو بے کار کر دیا۔

جولائی 2006ء میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر بمباری کی اور سرحد عبور کر کے دو اسرائیلی فوجی اغوا کر لیے۔ نتیجتاً ایک ماہ لمبی دوسری لبنان کی جنگ شروع ہوئی۔

6 ستمبر 2007ء کو اسرائیلی فضائیہ نے شام کے نیوکلئیر ری ایکٹر کو تباہ کر دیا۔

2008ء میں اسرائیل نے تصدیق کی کہ وہ ترکی کے ذریعے ایک سال سے شام سے امن کی بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوتے ہی ایک اور لڑائی شروع ہو گئی۔ غزہ کی جنگ 3 ہفتے جاری رہی اور پھر اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ جنگ بندی ہوگئی۔ حماس نے اپنی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور شرائط میں مکمل فوجی انخلا اور سرحد کو کھولنا رکھا۔ راکٹ حملوں اور اسرائیلی فوجی کاروائیوں کے باوجود جنگ بندی کا معاہدہ چل رہا ہے۔

فلسطینیوں کی طرف سے 100 سے زیادہ راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے 14 نومبر 2012ء کو غزہ پر فوجی کارروائی کی جو 8 روز تک جاری رہی۔

یوں مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ یہودی اس مسجد کو ہیکلِ سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو بات کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکلِ سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.